اپنوں کو چھوٹ دوسروں کے کالے دھن پر مودی کی نظر

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اپنوں کو چھوٹ دوسروں کے کالے دھن پر مودی کی نظر</h1>

نئی دہلی:پناما پیپرس لیک کے بعد اب پیراڈائز پیپرس لیک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔اس میں جن ۷۱۴ ہندستانیوں کے نام آئے ہیں ان میں امیتابھ بچن، اڈانی ،امبانی،زی ٹی وی او رجندل سمیت سبھی بڑے لوگ شامل ہیں جن کا شمار وزیراعظم نریندرمودی کے قریبیوں میں ہوتا ہے۔یہ پورا معاملہ کالے دھن سے متعلق ہے اور چونکہ کالے دھن کے کاروبار میں ملوث بیشتر لوگ نریندرمودی کے نزدیکی ہیں اس لئے سرکار نے یہ معاملہ سی بی آئی،انکم ٹیکس اور ڈی آر ڈی کو سونپنے کےبجائے پناما پیپرس لیک معاملے کی ہی طرح اس کی بھی تحقیقات ایک ملٹی ایجنسی گروپ سینٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکس(سی بی ڈی ٹی) کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل جب پناما پیپر س لیک کی خبریں آئی تھیں اور اس میں ارون جیٹلی، امیتابھ بچن اور ایشوریہ رائے سمیت مودی کے کئی قریبی لوگوں کے نام آئے تھے تو اس کی تحقیقات کاکام سی بی ڈی ٹی کو دیا گیا تھا جس کی پرائمری رپورٹ بھی ابھی نہیں آئی ہے جبکہ اسی معاملے میں پڑوسی ملک پاکستان میں و زیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے ہٹنا پڑگیا۔لاکھوں کروڑوں کا کالا دھن نریندر مودی کے قریبی لوگوں نے باہر جمع کرارکھا ہے لیکن وہ نوٹ بندی  کے ذریعہ ملک کے غریبوں اور مزدروں کے یہاں کالادھن تلاش کر رہے ہیں۔مودی سرکار میں وزیر جینت سنہا نے یہ کہہ کر پیراڈائزلیک پیپرس کی تصدیق کر دی کہ ان کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ وہ چار سال پہلے تک امریکہ کی جس کمپنی میں کام کرتے تھے اس کمپنی نے اس میں پیسہ لگایا تھا۔مطلب صاف ہے کہ پیراڈائز لیک میں جو باتیںکہی گئی ہیں وہ پوری طرح سچ ہیں۔

نریندرمودی کالے دھن کے خلاف لڑائی میں اگر ایماندار ہیں تو کرسٹائین،ایچ ایس بی سی،پناما اور اب پیراڈائز چاروںخلاصوںمیں ان کے جب قریبی لوگوں کے نام آئے تھے ان میں سے کسی ایک کے خلاف تو کارروائی ہوئیہوتی۔اسٹرلنگ،بایوٹک،گوتم اڈانی، مکیش اور انل امبانی اور سینئر آئی پی ایس افسر راکیش استھانا کے خلاف تو ثبوت پہلے سے موجود ہیں۔ اسٹرلنگ پر ۲۰۱۱میں چھاپہ پڑا تھا تو اس وقت گجرات کے سورت میں پولیس کمشنر کی حیثیت سے تعینات راکیش استھانا مودی کی ناک کے بال سمجھے جا تے تھے۔اسٹرلنگ کی دستاویزمیں ان کے نام ۳کروڑ ۸۰لاکھ روپئے کی انٹری پائی گئی تھی۔ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے نریندرمودی انہیں کالے دھن والوںکو پکڑنے کےلئے سی بی آئی میں لائے۔ گذشتہ دنوں سی بی آئی ڈائریکٹر کےعہدے سے ریٹائر ہونے پر راکیش سنہا کو اسپیشل ڈائریکٹر بنا کر سی بی آئی کا سروے سروا بنا نے کی کوشش کی گئی لیکن مشہور وکیل پرشانت بھوشن ان کے خلاف بے ایمانی کے بہت سارے ثبوت لے کر ہائی کورٹ پہنچ گئے تو مودی اپنا منصوبہ پورا نہیں کرپائے۔

۸نومبر کو نوٹ بندی کاایک سال پورا ہونے پر نریندرمودی اور ان کی پوری ٹیم جس میں ان کے چہیتے الیکٹرانک میڈیا بھی شامل ہیں پورے زوروشور سے کالا دھن مخالف دن کا اعلان کیا جبکہ اس کے صرف دو دن پہلے پیراڈائزپیپرس لیک کی خبریں آئیں جس میں مودی کے قریبی بہت سارے لوگوں کے نام اجاگر کئے گئے۔ اس کے باوجود مودی اور ان کے لوگوں نے جگہ جگہ کالا دھن مخالف دن منا کر ہندوستان کے لوگوں کو ہمیشہ کی طرح گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ڈیڑھ سال قبل پناما پیپرس معاملے میں ۴۲۶ہندوستانیوں کے نام آئے تھے اور اب پیراڈائزپیپرس میں ۷۱۴ہندوستانیوں کے غیر قانونی اثاثوں او رکالے دھن کا خلاصہ ہوا ہے۔دنیا بھر کے اہم اورطاقت ور لوگ اپنے ملک میں کمائی دولت کی سرمایہ کاری ٹیکس ہیون ملکوںمیں کرتے ہیں اور اس کام میں بین الاقوامی لاءفرمیں ان کی مدد کرتی ہیں۔ برموڈا کی ایپل بائی اور سنگا پور کی ایشیا سٹی بھی ایسی ہی دو لاءفرمیں ہیں جن کے ذریعہ لیک ہوئے دستاویزوں کو ہی پیراڈائزپیپرس کہا جا رہا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر آر کے سنہا سکیورٹی اینڈ انٹلی جنس سروسیز (ایس آئی ٹی ایس)نامی جس کمپنی  کے کرتا دھرتا ہیں اس کی ایک معاون کمپنی مالٹا میں ہے۔

ایس آئی ایس ایشیاپیسفک ہولڈنگ لمیٹیڈ نام کی اس کمپنی میں سنہا نہ صرف شیئر ہولڈر ہیں بلکہ ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ان کی بیوی بھی اس کی ڈائریکٹر ہیں۔راجیہ سبھا چناؤ کے حلف نامے میں سنہا نے اس کاذکر نہیں کیا تھا۔ جب سنہا سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لکھ کر بتایا کہ ان کا مون برت چل رہا ہے۔بعد میں ان کی صفائی آئی کہ مذکورہ کمپنی سے ان کا کوئی نجی واسطہ نہیں ہے۔

ٹیکس ہیون ملکوں میں سرمایہ کار ی کرنے والے دنیا بھر کے امیر اور طاقت ور لوگوں کی اس فہرست میں ۱۸۰؍ملکوںکے حوالے ہیں۔اس فہرست میں ۷۱۴ ناموں کے ساتھ ہندوستان ۱۹ویں نمبر پر ہے۔برموڈا کے ایپل بی کے دوسرے سب سے بڑے کلائنٹ کے طور پر مین گروپ کے بانی نند لال کھیمکا کا نام سامنے آیا ہے جس میں ۱۱۸؍کمپنیاں شامل ہیں۔