امریکہ اور یہودی سازش کا شکار ہو گیا سعودی شہزادہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>امریکہ اور یہودی سازش کا شکار ہو گیا سعودی شہزادہ</h1>

ریاض۔ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے اپنے خاندان کے گیارہ شہزادوں ، کئی اہم وزارتوں کے سربراہان اور مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کراکر حکومت پر اپنی پکڑ مضبوط کرلی ساتھ ہی انہوں نے یہودی سلطنت کی توسیع اور گریٹراسرائیل کے منصوبوں کو بھی مضبوطی دے دی۔ بتیس سال کے محمد بن سلمان جس طرح امریکہ  اوریہودی لابی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں وہ مستقبل میں مسلم مما لک کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہودیوں کے بنائے ہوئے ایک پروجیکٹ کے مطابق سعودی عرب کے شمالی حصے جارڈن اور مصر کی سرحد کے نزدیک پانچ سو ٹرلن ڈالر کی لاگت سے نئی ٹاؤن شپ بنانے پر رضامندی  ظاہر کی تو سعودی حکومت میں شامل جن وزیروں نے پروجیکٹ کی مخالفت کی گرفتار ہونے والوں میں وہ سب شامل ہیں۔ سعودی سرحد کے پاس اس ٹاؤن شپ کے لئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر کے کہنے پر انہو ں نے مصر سے تین جزیرے بھی خرید لئے۔ گرفتار ہونے والوں میں دنیا کے پچاس دولت مندوں میں ایک پرنس  الولید بنطلال  بھی شامل ہیں۔ اس کاروائی کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعہ یہ پیش آیا کہ عبدالعزیز بن فہد کو ان کے گھر میں قتل کردیا گیا۔ بتایاجاتاہے کہ رائیل گارڈز جب انہیں گرفتار کرنے پہونچے تو انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ صبح آئیں۔ گارڈز اور ان کے بیچ  ہاتھا پائی ہوئی تو ایک گارڈ نے ان پر گولیوں کی بارش کردی ان کی فوراً موت ہوگئی ۔ چار دن بعد حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ان کی موت نہیں ہوئی لیکن یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں۔شہزادوں کی گرفتاری کی خبر ابھی سرخیوں میں ہی تھی کہ یہ خبر آئی کہ شہزادہ مقرن جو کبھی ولی عہد ہوا کرتے تھے ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں مارے گئے ہیں۔ ہیلی کاپٹر پر دیگر سات لوگ بھی مارے گئے، ہیلی کاپٹر کے ملبہ کی تلاش کی جارہی تھی۔ خبر ہے کہ بہت جلد اپنے والد شاہ سلمان کو ہٹا کر محمد بن سلمان ہی بادشاہ بن جائیں گے۔ اتنی سخت کاروائی کرنے کے لئے پرنس محمد بن سلمان نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی طرح کہا کہ وہ اپنے ملک میں پھیلی بے ایمانی اور دہشت گردوں کے مددگاروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں انہوں نے ہر اس شخص کو دہشت گردوں کا مددگار قرار دیا ہے جو لوگ اسرائیل کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف حماس کی مدد کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے حالات اورتاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرنس سلمان نے اپنے پردادا شاہ عبدالعزیز کے قائم کئے اصولوں پر چلتے ہوئے یہودیوں اور عیسائیوں کے منصوبوں کو پورا کرنے کا کام شروع کیاہے۔ تقریباً پنچانوے برس پہلے یہودیوں اور عیسائیوں نے انگریز کمانڈر تھامس ایڈورڈ لارنس جولارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔ عبدالعزیز کے ذریعئے حجاز اب سعودی عرب سے خلافت عثمانیہ ختم کرنے کی سازش کو انجام دیا تھا۔ اس حد تک  کہ جب آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید نے مکہ شیریف کے ذریعے یہ اعلان کردیا کہ وہ حرمین مکہ اور مدینہ میں خون خرابہ نہیں چاہتے اس لئے دونوں کا انتظام عبدالعزیز پر چھوڑتے ہیں تو بھی عبدالعزیز نے لارینس آف عربیہ کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کے ایڈمنسٹریشن میں شامل ان تمام لوگوں کی گردنیں کٹوادی تھیں جو خانہ ٔ  کعبہ کا غلاف پکڑے کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ خانہ ٔ  کعبہ میں ایسا خون خرابہ ہوا تھا کہ کم از کم دو دنوں تک طواف میں دشواریاں پیدا ہوگئی تھیں۔ اس وقت عبدالعزیز اور ان کے حامی چاہتے تو بغیر خون خرابہ کے ہی خانہ ٔ  کعبہ کو خالی کراسکتے تھے لیکن انہوں نے خونریزی کا راستہ اختیار کیا۔

شہزادہ محمد سلمان کی جانب سے کی گئی کاروائیوں کو کچھ حلقے خوش آئند قدم بتا رہے ہیں تو کچھ اسے سعودی عرب کے لئے ہلاکت خیز اور مہلک ترین قدم کا نام دے رہے ہیں مگر ایک بات تو پوری طرح صاف ہے کہ اینٹی کرپشن کمیٹی کا چیئر مین بنتے ہی محمد سلمان نے جس بڑے پیمانے پر شہزادوں اور سابق وزیروں اور اعلیٰ افسران کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا ہے وہ یہی تاثر دے رہا ہے کہ وہ اقتدار کو اپنی مٹھی میں رکھ کر مخالفین کی آوازوں پر تالے لگانے کے درپے ہیں۔ پرنس الولید بن طلال کی گرفتاری اور نیشنل گارڈزکے سربراہ جو کبھی عنان حکومت سنبھالنے کے ایک اہم دعویدار تھے، بحریہ کے سابق سربراہ اور وزیر فائنانس پرنس متعب بن عبداللہ کو معزول کیا جانا یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ شاہ بننے کی راہ میں ممکنہ حائل ہونے والے کانٹوں کو ہٹا کر عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش رکھتے ہیں، اسی خواہش نے ایسے سخت قدم اٹھانے کے لئے انہیں اکسایا کہ سعودی شاہی خاندان کا شیرازہ بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلطان  کے نشانے پر جو شہزادے آئے ہیں ان میں نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ متعب بن عبداللہ ، ریاض کے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ، رائل کورٹ کے سابق چیف خالد التواجیری،سابق وزیر مالیات ابراہیم ال آصف سعودی عرب کے کمانڈر عبداللہ ال سلطان ایم بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مالک الولیدال ابراہیم، سعودی عربیہ ائر لائنس کے سابق ڈائرکٹر جنرل خالد ال ملعیم سعودی ٹیلیکام کے سابق چیف ایگزیکیٹو سعود ال دوائش اور سابق نائب وزیر دفاع شہزادہ فہد بن عبداللہ بن محمد ال سعود کے نام سامنے آئے ہیں کتنے اور لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ان کی گنتی تو درجنوں میں بتائی جارہی ہے مگر وہ کون ہیں اس بارے میں خاموشی ہے۔ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے اور اینٹی کرپشن مہم کے نام پر مزید گرفتاریاں ہوں گی۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ  ایسے مشتبہ لوگوں سے اینٹی کرپشن کمیٹی کے ذمہ داران ٹیلی فون  کرکے ان کے مال اسباب کے بارے میں جانکاری حاصل کررہے ہیں مگر اتنا طئے مانا جارہا ہے کہ شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز جن کا ۲۰۱۱ میں انتقال ہوچکا ہے ان کے کنبہ سے متعلق لوگوں کی جو گرفتاریاں کی جاچکی ہیں ان کے علاوہ بھی ان سے جڑے لوگوں کو جلد ہی حراست میں لے لیا جائے گا۔

اینٹی کرپشن کمیشن کا قیام عمل میں آنے اور اس کا سربراہ محمد بن سلمان کو بنائے جانے کے فوراً بعد گرفتاریوں کی کاروائیاں چار نومبر کی رات میں شروع کردی گئیں۔ ویسے تو ان گرفتاریوں کی جو وجہ بتائی جارہی ہے وہ شہزادوں وزراء اور دوسری اہم شخصیات کے بدعنوانی میں ملوث ہونا ہے مگر یہ بھی کہا جارہاہے کہ امکانی بغاوت کو روکنے کی تدابیر کے تحت محمد بن سلمان کو حکومتی امور کے تمام اختیارات کا مل جانا ہے۔ شہزادوں اور دوسری سرکردہ شخصیتوں کی گرفتای کے فوراً بعد ہی نجی جیٹ طیارو کو جدہ میں ہی روک لیا گیا تاکہ کلیدی شخصیات ملک سے  باہر نہ جاسکیں۔گرفتاریوں کے جواز کے لئے علماء کی سرکردہ کونسل کی جانب سے بھی کہلوایا گیا کہ کرپشن کے خلاف اسی طرح کی مہم کی درکار ہے جیسے  دہشت گردی کے خلاف مہم پہلے ہی سے چلائی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ بھی خبریں ہیں کہ بڑے پیمانے پر علماء اور سماجی کارکنوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔

بتیس سالہ کراؤن پرنس محمد بن سلمان جوایم بی ایس کے نام سے معروف ہیں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سعودی عرب کے حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا یہی ماننا ہے کہ جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان میں اکثر پرنس محمد سلمان(ایم بی  ایس) کی جارحانہ خارجہ پالیسی کی مخالفت کررہے تھے۔ ان میں پڑوسی ملک قطر کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بعض دیگر اصلاحات کی بھی مخالفت کی جارہی تھی۔ اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی ایسی کاروائی کی ملک کی عصری  تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں ریاض کے مختلف ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔ گیارہ شہزادوں اور وزراء کو ایک عالیشان محل نما ہوٹل میں رکھا گیا ہے۔ ہوٹل میں رکھے گئے شہزادوں کی جو تصاویر سرکاری میڈیا  میں دکھائی گئیں ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ وہ ہیں تو عالیشان ہوٹل میں لیکن ان کو سونے کے لئے چھوٹے چھوٹے گدے دئے گئے ہیں جو زمین پر بچھے ہوئے ہیں۔ اسی بیچ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود ال موزیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ابھی تو یہ شروعات ہے۔ انہوںنے کہا کہ کرپشن میں ملوث سبھی ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائیگی اور جانچ کی ساری کاروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں شاہی خاندان کے سبھی لوگوں کے ملک چھوڑنے پر روک لگادی گئی ہے۔

شہزادوں اور ملک کی سرکردہ شخصیتوں کی گرفتاری بظاہر دنیا کے لئے ایک ’’بریکنگ نیوز‘‘ تھی لیکن وہاں کے حالات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ کئی شہزادے ایک سال سے زائد عرصہ سے نظر بندتھے۔ سعودی خاندان کی اندرونی کشمکش سے بے خبر لوگ اسے کرپشن کے خلاف بڑی کاروائی قرار دے رہے ہیں تاہم یہ کاروائی صرف اقتدار کی کشمکش نہیں ہے بلکہ خطے میں اہم اسٹریٹیجک تبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اس کاروائی کو ایران اور اسامہ بن لادن کے مبینہ تعلق  کے حوالے سے سی آئی اے کے جاری کردہ تازہ دستاویزات ، قطر بحران ، لبنان کے تازہ سیاسی دھماکے، امریکہ کے سعودی عرب سے گرم جوشی کے تعلقات، سعودی عرب میں مصنوعی لبرل ازم، کمزور پڑتی سعودی معیشت جیسے اہم عناصر سے الگ رکھ کر دیکھنا خود کو مغالطے میں ڈالنے جیسا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے اندر اقتدار کی حالیہ کشمکش شاہ سلمان کے تخت نشین ہوتے ہی شروع ہوگئی تھی۔ تئیس جنوری ۲۰۱۵ کو جب شاہ سلمان  نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو سعودی عرب سے باہر شہزادہ محمد بن سلمان کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ شاہ سلمان نے اپنے پہلے ہی شاہی فرمان میں اپنے جانشینوں کا اعلان کیا۔ شہزادہ مقرن کو ہٹاکر شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد  جبکہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نیا عہدہ تخلیق کرتے ہوئے نائب ولی عہد بنا دیا۔ اس کے علاوہ انہو ںنے اپنے بیٹے کو نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع، دربار شاہی کا انچارج اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کے بورڈ کا چیئر مین بھی بنایا۔ آرامکو کے چیئر مین کا عہدہ اس سے پہلے شاہی خاندان سے ہٹ کر صرف ٹیکنوکریٹس کو ہی دیا جاتا تھا۔ شراکت اقتدار پاتے ہی سلمان نے اپنے پیر جمانے شروع کردئے ۔ یمن جنگ چھیڑی، سعودی عرب کا تیل سے انحصار ختم کرکے ریاست کو صنعت و کاروبار کی طرف لانے کے اعلانات کئے۔ مارچ ۲۰۱۷ میں نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں لنچ پر ملاقات کی یہ ایک غیرمعمولی ملاقات تھی۔ اسی ملاقات کے بعد شاہی خاندان میں بے چینی کی ایک  لہر اٹھی اور سب کو اندازہ ہوگیا کہ محمد بن سلمان اقتدار کی کشمکش میں امریکہ کی حمائت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اسی ملاقات میں ٹرمپ کا پہلا دورہ سعودی عرب بھی طئے پایا۔ مارچ کی ملاقات کا نتیجہ جون کے مہینے میں سامنے آیا جب امریکہ اور صدر اوباما کے منظور نظر سمجھے جانے والے شہزادہ محمد بن نائف کو نہ صرف ولی عہد سے ہٹایا گیا بلکہ ریاست کے تمام عہدوں سے ہٹا کر محمد بن سلمان  کو ولی عہد مقرر کردیا گیا اور نائب ولی عہد کا فرمائشی عہدہ بھی ختم کردیا گیا۔ اس غیر معمولی فیصلے کے بعد یہ سمجھاجارہا تھا کہ  شاہی خاندان میں کشمکش شدت اختیار کرجائے گی جسے روکنے کے لئے سرکاری ٹی وی کو ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں محمد بن سلمان کو برطرف ولی عہد محمد بن نائف کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے دکھایا گیا اوریہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ دونوں کے درمیان کوئی چپقلش نہیں ہے۔ لیکن اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعدیہ خبریں مستقل آتی رہیں کہ محمد بن نائف نظر بند ہیں اوران سے کوئی ملاقات نہیں کرسکتا۔ سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم میں گرفتار سبھی افراد اہم ہیں۔ پہلے شہزادہ الولید بن طلال جو شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر  ڈونالڈ ٹرمپ دونوں کے بڑے اور کھلے ناقد ہیں۔ شہزادہ الولید بن طلال محمد بن سلمان کے ویزن ۲۰۳۰ کی امریکی میڈیا میں کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں۔ خصوصاً سعودی آرامکو کمپنی کے شیئر نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے بیچے جانے کی یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ شہزادہ الولید بن طلال کے ڈونالڈ ٹرمپ سے کاروباری رشتے ہونے کے باوجود انہوں نے امریکہ کے صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران ٹرمپ کو امریکہ کے لئے باعث شرمندی قرار دیا تھا جس کا جواب ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر دیتے ہوئے کہا تھا کہ ولید باپ کی دولت کے بل پر امریکی سیاست میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ سے مخاصمت کی تازہ مثال نیویارک  کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ڈونالڈ ٹرمپ  جونیئر سے ملاقات ہے جس میں شہزادہ ولید اور ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ گرفتاریوں کے اعلان سے ایک ہفتہ پہلے صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر سمیت وائٹ ہاؤس کے تین اعلیٰ افسروں نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ امریکی اخباروں نے ان سب باتوں کو جوڑ کر  شہزادہ ولید کی گرفتاری کودیکھا ہے۔ دوسری طرف ایک حلقہ محمد بن سلمان کی کاروائیوں کو سعودی عرب کے مفاد میں دیکھ رہا ہے اس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی نئی قیادت اس سے آگاہ ہے کہ مسلم دنیاسعودی عرب میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے کس قدر حساس ہے لیکن سعودی عرب کویہ چیلنج بھی درپیش ہے کہ اس تیزی سے بدلتی دنیا میں سعودی عرب کو مستقبل میں قائدانہ کردار کس طرح دلایا جائے۔