سال بھر میں بھی نہیں گنے جا سکے ردی کے ٹکڑے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>سال بھر میں بھی نہیں گنے جا سکے ردی کے ٹکڑے</h1>

نوٹ بندی کی پہلی برسی

 

نئی دہلی۔ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے نریندرمودی کے نوٹ بندی کے تغلقی فیصلےکی پہلی برسی پر آٹھ نومبر کو ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے پورے ملک میں ’’یوم سیاہ‘‘ منانے کااعلان تو جواب میں وزیراعظم نریندرمودی نے ’’کالا دھن‘‘ مخالف دن منانے کا اعلان کر دیا۔چاروںطرف سے یہ سوال ا ٹھ رہا ہے کہ جب نوٹ بندی سے سارا کالادھن سفید ہو گیا کروڑوں کے نقلی نوٹ بھی بینکوں میں جمع ہو گئے تو مودی سرکار ’’کالا دھن‘‘ مخالف دن کیوں منا رہی ہے۔کیاانہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے اپنےلوگوں کے پاس سے جو بے شمار کالا دھن تھا وہ سفید ہو گیا اسی کے ساتھ پاکستان میں بیٹھے ہندوستان کے دشمن دہشت گردگروہوں کے بازار میں پھیلائے ہوئے جعلی نوٹ بھی بینکوں میں جمع ہو کر سفید دھن میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

جہاں تک کالے دھن کا سوال ہے ریزروبینک آف انڈیا نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ نوٹ بندی کے و قت ملک میںہزار اور پانچ سو کے جتنے بھی نوٹ چلن میں تھے اس میں سے ننا وے فیصد نوٹ بینکوں میں واپس آگئے ہیں تو کالا دھن کہاں گیا؟پھر تو کالے دھن کا مودی کا نعرہ شوشہ بازی ہی ثابت ہوا ہے کیو نکہ نوٹ بندی کے ایک سال بعد بھی ملک کو یہ نہیں معلوم ہو پایا ہے کہ ایک ہزار اور پانچ سو کی قیمت کے کتنے نوٹ  بینکوں میں جمع ہوئے ہیں۔آرٹی آئی سے ملی ایک تازہ جانکاری میں ریزروبینک نے بتایا ہے کہ ۳۰؍ ستمبر تک پانچ سوروپئے کےایک ہزار ایک سو چونتیس کروڑ نوٹ اور ا یک ہزار روپئے کے پانچ سو چوبیس اعشاریہ نوکروڑ نوٹوں کا سرٹی فکیشن ہو چکا ہے اور ان کی قیمت پانچ سو سڑسٹھ لاکھ کروڑ اور پانچ سو چوبیس لاکھ کروڑ ہو تی ہے۔یعنی دس اعشاریہ ۹۱لاکھ کروڑ قیمت کے نوٹ جمع ہوئے ہیں جبکہ نوٹ بندی کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ ہزار اور پانچ سو کے پندرہ اعشاریہ چار چار لاکھ کروڑ کی قیمت کے نوٹ چلن میں ہیں۔ملک بھر کے عوام کو پریشانی میں مبتلا کرنے والے نوٹ بندی کے فیصلے کو مودی اور ان کے تمام رفقاء معیشت کے فروغ کے تعلق سے ایک انقلابی قدم سے تعبیر کر رہے تھے اور اب بھی اسی قسم کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن پچھلے ایک سال میں ملک معاشی طور پر کتناپیچھے چلا گیا ہے کوئی بھی حقیقت قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔نوٹ بندی کے سبب لاکھوں لوگوں کے کاروبار بند ہوئے لاکھوں لوگ روزگار سے محروم کر دئے گئے اور نوٹ بندی کے سبب ہی ایک سو سے زائد لوگوںکی بینکوںسے رقم نکالنے کےلئے گھنٹوں لائن میں لگنے اور ذہنی دباؤ سے موت ہو گئی۔ آربی آئی نے آر ٹی آئی کو جو تازہ جانکاری دی ہے اس کے مطابق نوٹوں کی گنتی کا کام کب تک چلے گا کچھ نہیں کہا گیا ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ نوٹوں کی گنتی اور جانچ کرنے والی چھیاسٹھ مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کام دو شفٹوں میں کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے اگست میں جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں ریزروبینک آف انڈیا کو بالآخر یہ بتانے پر مجبور ہونا پڑا کہ واپس آئے ممنوعہ نوٹوں کی گنتی کیا ہے۔ریزرو بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ نوٹ بندی لاگوہونے کے دن پانچ سو روپئے کے ایک ہزار سات سو سولہ اعشاریہ چھ کروڑ نوٹ بازار میں تھے جبکہ ایک ہزار روپئے کے چھ سو پچاسی اعشاریہ آٹھ کروڑ نوٹ تھے۔اس طرح پندرہ اعشاریہ چوالیس لاکھ کروڑ وروپئے کے نوٹ چلن میں تھے۔ آر بی آئی کے مطابق نوٹ بندی لاگو ہونے کے بعد سسٹم میں پندرہ اعشاریہ دو آٹھ لاکھ کروڑ روپئے کے پرانے نوٹ(پانچ سو اور ہزار)واپس ہو چکے ہیں ۔ یعنی ممنوعہ نوٹوں کااٹھانوے اعشاریہ نو چھ فیصد آچکا ہے۔آر بی آئی کے اس انکشاف کے بعد سابق وزیر مالیات اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ ممنوعہ نوٹوں میں صرف ایک فیصد نوٹ نہیں آئے آر بی آئی  کو اسطرح کی سفارش کرنے کےلئے شرم آنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا نوٹ بندی کالے دھن کو سفید کرنے کےلئے کی گئی تھی۔جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے رپورٹ آنے پر وزیر اعظم نریندرمودی سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اس زبردست ناکامی کی ذمہ داری لیں گے جس کی وجہ سے کئی بے قصور لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں اور جس نے معیشت کو تباہ کر دیا۔بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے نوٹ بندی کو سب سے بڑا گھوٹالہ اور فلاپ شو قرار دیا تھا حالانکہ آر بی آئی کے ذریعہ ممنوعہ نوٹوں کے اعداد وشمار کو پیش کرنے پر بھی مرغے کے ایک ٹانگ کی طرح مودی کے فیصلے کو درست بتاتےہوئے وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ جو لوگ اپنے پورے دور حکومت میں کالے دھن کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھا پائے وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پائیں گے۔نوٹ بندی کے بعد سسٹم میں جو رقم آئی ہے و ہ سب سفید نہیں ہے۔بینکوں میں جمع رقم کی سرکار بڑے پیمانے پر جانچ کر رہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ آٹھ نومبر کو رات میں جب یہ اعلان کیا تھاکہ آج رات بارہ بجےکے بعد پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ردی کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو جائیں گےجن لوگوں کے پاس نوٹ ہوں وہ اپنے بینک کھاتوں میں جمع کرا دیں لیکن ایک سال بعد بھی جب ملک کے عوام کو یہ نہ پتہ چلے کہ کتنی قیمت کے نوٹ بینکوں میں آئے اور طرح طرح سے پردہ پوشی کی جائے تو وہ الزام درست ہی لگتے ہیںیہ سب سے بڑا گھوٹالہ ہے اور نوٹ بندی کا اصل مقصد کالے دھن کو سفید کرنا تھا۔اسی لئے ردی کے ٹکڑوں کی حتمی گنتی بتانے سےریزرو بینک آف انڈیا احتراز کر رہا ہے۔