بہار میں ناکام رہی مکمل شراب بندی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بہار میں ناکام رہی مکمل شراب بندی</h1>

شراب سے ہوئی موتوں پر لالو یادو اور تیجسوی نے سادھا نتیش سرکار پر نشانہ

 

پٹنہ۔ بہار میں شراب پر مکمل پابندی کے باوجود روہتاس ضلع میں نقلی شراب پینے کے بعد پچھلے دنوں پانچ  لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ ایک کی حالت نازک ہے۔ ضلع پولیس افسران کے مطابق، دانور گاؤں میں پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ نتیش سرکار نے آٹھ پولیس والوں کو معطل کردیا جبکہ دو ملزم گرفتار کئے گئے۔ اس واقعہ کے لئے لالو اور ان کے بیٹے تیجسوی نے نتیش سرکار پر نشانہ سادھا ہے۔

روہتاس ضلع کے پولیس کپتان مانوجیت سنگھ ڈھلوں نے بتایا، چار دن کے چھٹ تہوار کے بعد گاؤں کے کچھ  لوگوں نے رات میں شراب پی۔ اس کے بعد ہی وہ بیمار ہو گئے اور ان کی حالت بگڑ گئی۔ ان میںسے پانچ نے اگلے دن دم توڑ دیا۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جانچ کے احکامات دئیے ہیں۔وزیر اعلیٰ دفتر کے ایک افسر نے بتایا کہ ملزمین کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ کچوا پولیس تھانے کے انچارج مکیش کمار کو برخاست کردیا گیا ہے۔ دانور گاؤں ان کے ہی حلقہ میں آتاہے۔

شاہ آباد رینج کے پولیس ڈی آئی جی محمدرحمان نے ایس ڈی پی او اور دیگر پولیس افسران کے خلاف قدم اٹھائے جانے کی سفارش کی ہے۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں ابھی بھی کھلے عام شراب فروخت ہورہی ہے، جبکہ یہاں پانچ اپریل۲۰۱۶ کو شراب پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

بہار اسمبلی میں لیڈر میں لیڈر آف اپوزیشن تیجسوی پرساد یادو نے روہتاس ضلع میں زہریلی شراب پینے سے ہوئی موتوں کے معاملے میں آٹھ پولیس والوں کے خلاف کاروائی کئے جانے کو لے کر وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ (وزیر اعلیٰ) ایسا کرکے اپنی مبینہ ناکامیوں کو نہیں چھپا سکتے ہیں۔ تیجسوی نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے الزام لگایا کہ  نتیش کمار اپنی ناکامیوں  کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پھوڑتے ہیں۔ انہوں نے بہار میں مکمل شراب بندی کے باوجود شراب دستیاب ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فرق صرف اتنا ہے کہ اب شراب مہنگی قیمتوں پر دستیاب ہے۔ تیجسوی نے کہا’’ نتیش کمار پولیس والوں کو معطل کرکے اپنی ناکامیوں کو نہیں چھپا سکتے ہیں۔ انہوں نے نتیش پر وزیر اعظم بننے کی خواہش کے تحت بہار میں شراب بندی لاگو کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ انہوں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ وہ اسے نیشنل ایشو بنا کر دیش بھر میں گھوم سکیں۔

راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو نے بہار میں مکمل شراب بندی کے فلاپ ثابت ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیاکہ  ریاست میں اب شراب کو گھر گھر پہونچایا جا رہا ہے۔ ریاست کے روہتاس ضلع میں زہریلی شراب پینے سے چار لوگوں کی موت ہونے سے متعلق صحافیوں کے ذریعے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لالو نے بہار میں مکمل شراب بندی کو فلاپ اور ناکام بتایا۔ انہو ں نے پردیش میںشراب کی ’ہوم ڈلیوری ہونے‘ کادعویٰ کیا۔ انہوں نے ریاست میں باہر سے ٹرک کے ٹرک شراب آنے  اور اس کے ذریعے پولیس کے ’مالا مال‘ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جن کو سپلائی نہیں ہو پا رہی ہے وہ زہریلی شراب بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ بہار میں اپریل ۲۰۱۶ سے مکمل شراب بندی لاگو ہے۔ یہاں شراب پینا، بنانا اور اس کے کاروبار پر پابندی ہے۔