اپاہج بنا رہی ہے فلوروسس بیماری

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اپاہج بنا رہی ہے فلوروسس بیماری</h1>

پانی میںفلورائیڈ کی زیادہ مقدار چھین رہی ہے لوگوں کی صحت

 

سون بھدر۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بندیل کھنڈ علاقے کے لوگوں کو پینے اور کھیتی لائق پانی دستیاب کرانے کے وعدے تو کر رہے ہیں لیکن انہیں بندیل کھنڈ میںرہنے والوں کی کوئی فکر لگتا نہیںہے۔ اسی علاقے کے سون بھدر ضلع کے تقریباً آدھا درجن سے زیادہ ایسے  بلاک ہیں جہاں کے لوگوں کے لئے پینے کا پانی ہی زہر جیسا ثابت ہو رہا ہے۔ ان علاقوں کے تمام گاؤں میں پانے کے اندر فلورائیڈکی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے فلوروسس نام کی بیماری لوگوں خصوصاً بچوں کو ہو جاتی ہے جو انہیں جوانی میں ہی بوڑھا اور اپاہج بنا رہی ہے۔

گرمیت سنگھ، ہنی پریت اور تاج محل پر خبریں دکھانے والے ٹی وی چینلوں کی نظر میں یہ خبر شائد اس لئے اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ یہ عام بلکہ غریب لوگوں سے متعلق ہے۔ پھر سرکار کی طرف بھی انگلیاں اٹھ سکتی ہیں۔ پانی میں فلورائیڈ کی مقدار زیادہ ہونے سے اسے استعمال کرنے والوں کے جسم میں بھی زیادہ فلورائیڈ پہونچ رہا ہے جو نہ صرف ان لوگوں کی ہڈیوں کو کمزور کر رہا ہے بلکہ کینسر جیسی بیماری بھی پیدا کرتا ہے۔بندیل کھنڈ ویسے بھی پانی کی قلت سے جھوجھتا ہوا علاقہ ہے۔ ا س میںبھی اگر پانی خراب ہو تو مزید مصیبت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہےکہ سرکار کو اس کی خبر نہ ہو۔محکمہ صحت اور جل نگم نے اپنی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سون بھدر کے آدھا درجن سے زیادہ بلاکوں کے گاؤں کے پانی میں فلورائیڈ کی مقدار زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ بیماری کا شکار ہو کر اپاہج ہو رہے ہیں۔ حکومت میں وہاں ایک فلوروسیس کلینک بھی کھولنے پر چرچا چل رہی ہے لیکن اس بارے میں ابھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اس بیماری کا سب سے زیادہ اثر  سون بھدر کے چوپن بلاک میں نظر آیا ہے۔ اس کے علاوہ میور پور،دھدھی، بمنی اور نگواں بلاک کے ۲۶۹ گاؤں کے پانی میں بھی فلورائیڈ کی مقدار زیادہ ملی ہے۔ اس بیماری سے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے ان گاؤں کے لوگ اپنے  بچوں کو ان گاؤں سے دور اپنے رشتہ داروں کے یہاں بھیج دیتے ہیں تاکہ انہیں اس موذی بیماری سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ان کی نظریں سرکار کی مدد کی طرف بھی ٹکی ہوئی ہیں۔

بچوں کی ننھی عمر میں جب گھر والے انہیں آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے، ایسی عمر میں بچوں کا بچپن گھر سے دوررشتہ داروں کے گھر میں گزر رہا ہے۔قبائلی علاقے میں شمار سون بھدر ضلع کے ۲۶۹ گاؤں کے لوگ بچوں کے جنم کے کچھ سال بعد ہی انہیں رشتہ داروں کے گھر بھیجنے کو مجبور ہیں۔ حالانکہ وہ یہ قدم خوشی خوشی نہیں بلکہ مجبوری میں اٹھاتے ہیں۔ دراصل ، ان گاؤں کے پانی میں فلورائیڈ کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اسے زیادہ دن تک استعمال کرنے والا شخص فلوروسس نام کی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی زد میں آئے لوگوں کو جوانی میں ہی بڑھاپے کی تکلیفیں جھیلنا پڑتی ہیں یاپھر باقی زندگی اپاہج بن کر گزارنی پڑتی ہے۔

میور پور بلاک کے کسومہاں، روہنیادامر،کڑوا سمیت کئی گاؤں کے حالات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے پانی میں فلورائیڈ کی مقدار بے حد زیادہ  ہے۔ اس کی تصدیق محکمہ صحت و جل نگم کی تمام جانچ رپورٹ میں بھی ہو چکی ہے۔ضلع کے ۲۶۹ گاؤں میں زیادہ مقدار میں فلورائیڈ والے پانی کے استعمال کی وجہ سےیہاں کا پانی پینے والے لوگ فلوروسس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ کڑوا گاؤں کے سیتارام کہتے ہیں کہ فلورائیڈ والے پانی پینے سے ان کے گاؤں کے بیشتر لوگ بستر پکڑ چکے ہیں۔ کسمہا گاؤں کے رام ولاس نے بتایاکہ انہوں نے اپنے بیٹے کو گھر سے دور نہیں بھیجا، نتیجتاً آج وہ اپاہجوں کی زندگی کاٹنے کو مجبور ہے۔

محکمہ صحت کے افسران کے مطابق فلوروسس سے سب سے پہلے لوگوں کے دانت پیلے ہوتے ہیں۔ بعد میں وہ کمزور  ہوکر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ جسم کی ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ دھیرے دھیرے وہ شخص اپاہج ہو جاتا ہے اور کھڑے ہونے لائق بھی نہیں بچتا ہے۔ ضلع میں فلورائیڈ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ چوپن بلاک کا ہے۔ اس کے بعد میور پور ، دھدھی، بگھنی اورنگواں بلاک کے کچھ گاؤں متاثر ہیں۔ سی ایم او ڈاکٹر ایس پی سنگھ ن بتایا کہ سیوا ٹرسٹ کے ذریعےکیمپ لگاتار لوگوں کے علاج کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ اس مسئلہ پر انتظامیہ میں بھی چرچا چل رہا ہے۔ جلد ہی فلوروسس کلینک کا قیام ضلع میں کیاجائے گا۔