قومی یکجہتی کے عنوان سے ہوا اجلاس

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>قومی یکجہتی کے عنوان سے ہوا اجلاس</h1>

کاظم حسین صدیقی

سیتاپور۔ مذہب سے اٹھ کر انسانیت کو بھائی چارگی کاپیغام دینااورمخلوق میںپیار و محب کوعام کر نے کا نام ہی انسانیت ہے اور جو محبت بھائی چارگی سے واستہ نہ رکھے یا بدامنی پیدا کرے اس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ سماج مخالف عناصر ہے اس کا ہر طرح سے بائکاٹ کرنا چاہئے۔ اقتدار کے بھوکے لوگ انسانوںمیں نفرت بھرکے بھائی کو بھائی سے لڑارہے ہیںلہذاہم سب کو ان کی سازشوں سے ہوشیا رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف مسلمانوں کے بلکہ روئے زمین بسنے والے تمام انسانوں کے دشمن ہیں۔ہمیں ان کی چالوں سے بچنا چاہئے۔مذکورہ خیالات کااظہارشہرکے پانی ٹنکی گرائونڈمحلہ مردہی ٹولہ میں قومی یکجہتی کے عنوان سے منعقدہ اجلاس مولاناکفیل اشرف ازہری نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت فسطائی طاقتیں ملک کی تخریب کا ری میں لگی ہو ئی ہیں اور یہ ملک کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں ان سے مقابلہ آرائی کے لئے لائحہ عمل تیارکرنا وقت کی ضرورت ہے ۔یہ طاقتیں ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں ۔آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا،نفرت سے نفرت اور دشمنی سے دشمنی پیدا ہو تی ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو گناہوں سے بچنے کی طر ف  توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ہماری بد اعامالیوں کا نتیجہ ہے کہ ہم پر روز زلزلے آ رہے ہیں دنیا میں گناہ جب کثرت سے ہو نے لگتے ہیں تب اللہ کو جلال آتا ہے تو آسمانی اور زمینی آفات آنا شروع ہو جاتی ہیں یاکبھی کسی قوم کو مسلط کر دیتا ہے جیسا کہ دیکھ رہے ہیں کبھی آر ایس ایس ،شیو سینا ،بجرنگ دل اور بی جی پی ہمیں اپنا لقہ تر سمجھ کر نگل نے کی کوشش کر تی ہے اور عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے۔قاری اسلام عارفی نے کہا ہندستان ذات برادریوں کا ملک بن کر رہ گیا ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کواس کا فائد مل رہاہے ۔نفرت شوزطاقتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں لوگ مذہب کی دیواربنا لیں اور اس سے ان کو ووٹ کا فائدہ مل جا ئے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو مخابط کر کہاکہ وہ تمام اولیاء اللہ کی سیرت کو دیکھیں کہ انہوں نے ہندوستان میں کس طرح سے دین کا کام کیا اوراس کے ساتھ ساتھ محبت اور بھائی چارگی کو بھی فروغ دیا، لیکن ہم لوگوں نے نفرت کا جواب نفرت سے دینا چاہا جس سے کبھی نفرت ختم ہو نے والی نہیں ہے ۔اس لئے ہم کو اسلاف نے نقش قدم پر چلتے ہوئے محبت کو فروغ دیناہے اوردنیا کو بتانا ہے کہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں ۔ مولاناوکیل احمد قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء الہند سیتاپور نے فر مایا کہ پیار و محبت،امن و آشتی ہمیں ورثے میں ملی ہے اسے عام کرنا ہمارا شیوہ ہے اور اس ملک کو آزاد کرا نے میں ہمارے برادران وطن کی بھی قربانیاں رہی ہیں لیکن ان سے کہیں زیادہ تہ تیغ ہم ہوئے ہیں ہماری حصے داری ان سے بڑھ کر ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ بوریا نشیں علماء اور مدارس نا ہو تے تو ملک کو آزاد کرنا ممکن نہ تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی فضاء کو آر ایس ایس بجرنگ دل اور اس کی ذیلی تنظیمیں مسموم کرنا چاہتی ہیں مگر ان کے ناپاک ارادوں کو ہم پورا نہیں ہو نے دیں گے اور قومی یکجہتی کے پروگرام منعقد کر کے برادران وطن کے دلوں میں محبت کی شمع جلائیں گے اسی سلسلہ میں ۱۲نومبر کو جمعیت علماء کی جانب سے لکھنئومیں ایک قومی یکجہتی اجلاس منعقدکیاجارہاہے لہذاملت کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہاں پہنچ کر اسے کا میاب بنائیں۔مو لاناعبدالحسیب ندوی نے کہا کہ ہم ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں مگر ملک کے غدار اور فرقہ پرست لوگ ایسا ہو نے نہیں دے رہے ہیں وہ زہر افشانی کر کے مسلمانوں کو مایوس اور مشتعل کر رہے ہیں ۔ان کے اس مشن کو روکنے کے لئے ملک گیر پیمانے پر علماء ودانشوران نے ہندومسلمان کو مایوس اورمشتعل ہو نے سے روکنے کا کام کر رہی ہے۔اجلاس کی صدارت قاری صلاح الدین شہر صدرجمعیت علماء سیتاپورنے کی اورنظامت کے فرائض مفتی مشیت اللہ قاسمی نے انجام دیئے ۔ آغاز مولاناریاض ندوی کی تلاوت قرآان پاک ہے ہوا ، نعت پاک اورقومی ترانہ امربارہ بنکوی نے پیش کیااس موقع پر ان کو اعزاز سے بھی نوازہ گیا۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے ضلع جمعیت علماء صدرسیتاپورمولاناآفتاب احمد قاسمی نے شرکت کی۔ جلسہ کے آخر میں کنونر جلسہ قاری محمد اسعدنے لوگوں کا شکریہ اداکیا۔ اس موقع پرمولانا محفوظ قاسمی، مولاناشاکر ندوی،مولاناارشدندوی، مولانا سلیم قاسمی،مولانا مصیح الدین قاسمی، مولاناراشدحسامی، مولانا عبدالعلیم قاسمی، مولانا معین الدین قاسمی، مولاناعبدالمتین قاسمی، حافظ شیر محمد، حافظ جلیس احمد، مولانافضل الحق ندوی،حافظ تحمل حسین، قاری شریف احمد، قاری معین الدین، مولوی نورالاسلام، مولوی منیراحمد، مولوی نوشاد، مولوی اخترعلی، حافظ عرفان غازی، حافظ قربان، ولی محمد انصاری، حافظ افتخاراحمد، حافظ معشوق، مسعودعالم انصاری، اعظم مرزا، ڈاکٹرمحمد کلیم کے علا وہ بڑی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔