نوٹ بندی،جی ایس ٹی سے ملک میںتباہی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>نوٹ بندی،جی ایس ٹی سے ملک میںتباہی</h1>

اپنے ضد پر اڑے نریندرمودی کے فیصلےنے چھوٹی اور منجھولی صنعتوں وکاروبار کو بند کرایا

 

نئی دہلی:شادیوںکاموسم سرپرلیکن دہلی کے چاؤڑ ی بازار اور صدربازار میں سناٹا،صرافہ بازار کی رونق لوٹنے کانام نہیں لے رہی ،ریڈی میڈ کپڑوں کے بازار میں فروخت میں ۴۵؍فیصد کی گراوٹ،کپڑا بازار کا کاروبا ر بھی آدھا رہ گیا،جے پور اور پورے راجستھان  میں گرینائڈ سمیت مائننگ کے بازار میں فروخت صرف تیس فیصد،ٹیکسٹائل مارکیٹ اجڑا سا نظر آنے لگا۔ملک کے سب سےبڑے کپڑا بازار سورت میں ویاپار ایک چوتھائی ہی بچا،مزدوروں او رروز مرہ کمانے ،کھانے والو  کے سامنے پیٹ پالنے کا مسئلہ۔مرادآباد براس ویئر ایکسپورٹ ایسو سی  ایشن کےجنرل سکریٹری  کا درد کہ براس وئیر بازا رکا کاروبا صرف چالیس فیصد بچا ہے وہ بھی کب تک بچا رہے گا کوئی نہیں جانتا۔ملک کی معاشی راجدھانی کہی جانےوالی ممبئی میں ہیرا ویاپاریوں کی حالت خراب ہے ہی سڑکوں کے کنارے چھوٹے ہوٹلوں میں چائے اور بڑا پاؤ بیچنے والوں کا رونا ہے کہ ان کا کاروبار آدھا رہ گیا ہے۔اعلی تعلیم یافتہ کےلئے ۱۳؍ سے ۱۵؍فیصد شرح سود پر قرض لے کر کالجوںمیں داخلہ کرانے والے طلبا کی فیس پر۲۸؍فیصد کی جی ایس ٹی کی مار،لوہا منڈیو ںمیں سناٹا،کنسٹرکشن بند ہونے سے سیمینٹ،اسٹیل،بجلی اور ہارڈ ویئر مارکیٹ بند ہونے کے کگار پر،ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مزدوروں اور کام گاروںکی روزی روٹی چھن گئی۔یہ ہے وزیراعظم نریندر مودی کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لگائے جانے کانتیجہ۔اس کے باوجود نریندرمودی کہہ رہے ہیںکہ حال ٹھیک رکھنے کےلئے وہ ملک کے مستقبل کو خطر ےمیں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ملک کے معاشی حالات پر فکرمندی اور تشویش ظاہر کرنے و الے اکنامسٹ کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے کہہ دیا کہ کچھ لوگوںکو مایوسی پھیلانے میں مزہ آتا ہے۔نام لئے بغیر وہ یشونت سنہا،ارون شوری،پی چدمبرم اور ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لوگوں کو معاشی معاملات میں بے وقوف بتانے کی کوشش کرتے دکھے۔معاشی معاملات سے پوری طرح نا واقف وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی ضد کیوجہ سے پہلے پانچ اور ایک ہزار کے نو ٹ بند کرنے کا تغلقی فرمان جاری کیا۔اس سے ملک کی صنعت اور ویاپار پر بہت برا اثر پڑا۔پھر سات مہینے بعد ہی آدھی ادھوری تیاری کے ساتھ جی ایس ٹی لگوا کر ملک کی چھوٹی اور منجھولی صنعتوں اور ویاپار کا پوری طرح ہی گلا گھونٹ دیا۔ گزشتہ چند مہینوںمیںہی تقریباڈیڑھ کروڑ نوجوانوں کا روزگار چھن چکا ہے۔طرح طرح کی چھوٹی بڑی صنعتوں اور ویاپار کا ساٹھ فیصد سے زیادہ کام بند ہو چکا ہے۔اس کے باجود ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنےپر تلے نریندرمودی نہ تو اپنی ضد چھوڑرہےہیں اور نہ کسی ماہر معاشیات کا مشورہ سننے کو تیا رہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد سے وہ بار بار کہتے رہے ہیںکہ سترسالوں سے ملک میں کچھ نہیں ہوا۔سترسالوں میں ان  جیسا وزیراعظم بھی ملک کو نہیں ملا۔اب ان کی بات سچ ثابت ہور ہی ہے۔ستر سالوں میں وہ ملک کے پہلے وزیراعظم ہیں جو جان بوجھ کر ملک کو تباہی کی طر ف  لے جا رہےہیں۔ اس سے پہلے کسی وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا تھا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ،امرتیہ سین،پی چدمبرم،ارون شوری،سبرامنیم سوامی،یشونت سنہا کے علاوہ برٹش اور امریکی اکنامسٹ نے بھی ہندستان کے معاشی حالات اور زیادہ خرا ب ہونےکا خطرہ بتایا۔وزیراعظم نریندر مود ی نے سبھی کی باتوں کو طنزاو ر مذاق میں اڑا دیا۔ چار اکتوبر کو ایک طرف مودی کہہ رہے تھے کہ ان کے کاموں سے بھارت کا مستقبل روشن ہوگا تو اسی دن ریزرو بینک آف انڈیا میںانہیں کے بٹھائے ہوئے گورنر ارجت پٹیل کہہ رہے تھے کہ ملک کی جی ڈی پی کےابھی اور بھی نیچے جانے اور معاشی حالات کو خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ان تمام لوگوں کی باتوں کو سننے کےلئے مودی کسی بھی حالت میں تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے دماغ میں تو یہ غرور بھراہوا ہے کہ ستر سالوں میں ان سے زیادہ قابل وزیراعظم اس ملک کو کبھی ملا ہی نہیںہے۔وہ جو کچھ کر رہے ہیں او رکہہ رہے ہیں وہی ٹھیک ہے۔باقی پوری دنیا جاہلو ںجیسی باتیں کرتی ہے۔جس کی کوئی پروانہیں ہے۔

نوٹ بندی اورپھر جی ایس ٹی کا بہت برا اثر کاشتکاروںپر بھی پڑا ہے۔ نریندرمودی سرکار کے ہی وزیر زراعت کااندازہ ہے کہ اس سال خریف کی فصل میںچالیس لاکھ ٹن غلہ کم پیدا ہوگا۔صرف دھان کی ہی پیداوار میں بیس لاکھ ٹن کی کمی کااندازہ زراعت منسٹری نے لگایا ہے۔منسٹری کی اطلاع کے مطابق صرف دھان ہی نہیں دالوں اور تلہن کی پیداوارمیں بھی کافی بڑے پیمانے پرکمی ہونے کا اندیشہ ہے۔فصلوں کی کمی کا سیدھا اثرملک کی جی ڈی پی پر پڑنے والا ہے۔ ایک چھتیس گڑھ ہی اکیلا  صوبہ ہے جہاںکے ستائیس میں سے بیس اضلاع خشک سالی کا شکارمان لئے گئے ہیں۔دھان کا کٹورا کہے جانے والے اس صوبے میں دس بیس ہزارٹن دھان بھی پیدا نہیں ہوا ہے۔چھتیس گڑھ کے کاشتکاروں نے پہلے نوٹ بندی کی مار جھیلی اب خشک سالی کا شکار ہو گئے ہیں۔

صنعتی شرح نمو میں سب سے زیادہ گراوٹ گزشتہ پانچ مہینوں میں آئی ہے۔جولائی میں یہ شرح۲.۱؍فیصد درج کی گئی تھی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں صنعتی ترقی۵.۴؍فیصد تھی۔کنسٹرکشن اور پراپرٹی مارکیٹ میں کوئی سدھار ہونے کے بجائے مسلسل گراوٹ ہی درج کی جا رہی ہے۔کنسٹرکشن شعبے میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ اینٹوں،مورنگ اور بالو جیسے سامانوں کی آسمان چھوٹی قیمتیں ہیں او پر سے جی ایس ٹی کی مار۔کنسٹرکشن ویاپار میں لگے لوگو ں کہنا ہے کہ اب فلیٹ بنانے میں جو لاگت آرہی ہے اور ۵ سے ۱۰؍فیصد بھی منافع کمانے کی کوشش کی جائے تو کوئی بھی فلیٹ خریدنے کےلئے تیار نہیں ہے۔جی ایس ٹی اور تھوک ویاپار میں مال کم آنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ مہینوں میں کھدار بازار میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً چار فیصدتک کا اضافہ ہو چکا ہےایسا توکبھی نہیں ہوا تھا۔

وزیراعظم نریندرمودی اور ان  کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی دونوں نے ہی اب یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ جی ایس ٹی کی شرحوں پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔کچھ ضروری چیزوں کو جی ایس ٹی سے پوری طرح سے چھوٹ دی جا سکتی ہے۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ جی ایس ٹی کے ذریعہ پہلے تو مودی نے لوگوں کی نیندیں حرام کر دیں اب دسمبر کے آخرمیں گجرات کے اسمبلی الیکشن ہیں نومبر کے آخرتک کچھ سامانوں پر جی ایس ٹی کم کرکے اور کچھ پر پوری طرح سے ہٹاکر مودی گجراتیوں کے ووٹ لینے کی کوشش کریں گے۔تھوڑا تھوڑا کرکے یہ سلسلہ وہ اگلے سال نومبر تک جاری رکھیں گے۔تاکہ ۲۰۱۹؍ کے لوک سبھا الیکشن میں وہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں۔اس قسم کے حربے اختیارکرکے دسمبر سےاگلے سال اگست تک مدھیہ پردیش،گجرات،چھتیس گڑھ،ہماچل پردیش، راجستھان اور پھر ۲۰۱۹؍کے لوک سبھا الیکشن میںکتنا فائدہ اٹھاپائیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا فی الحال تو عوام کی تباہی ہے۔

خودوزیراعظم مودی کی اپنے ریاست گجرات میں کپڑا تاجروں کا ملک کا سب سے بڑ سینٹر سورت ہے ۔ پہلے نوٹ بندی پھر اس کے بعد جی ایس ٹی کے بعدوہاں کے ویاپاریوں کے سامنے جینے مرنے کاسوال پیدا ہو گیاہے۔سورت کا کپڑا ویاپار کوئی معمولی ویاپار نہیں ہے۔وہاں تقریباً ساٹھ ہزار ویاپاری ہیں۔ سوا لاکھ سے زیادہ پرمانینٹ اور تقریباً تین لاکھ دہاڑی مزدوراس بازار میں کام کرتے ہیں۔بازار کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پچاس ہزار سے زیادہ مزدور کام چھوڑ کر اپنے اپنے گاؤں واپس چلے گئے ہیں۔کیونکہ ہمارے پاس ان کو دینے کےلئے مزدوری تک کاپیسہ نہیں ہے۔اس کپڑا ویاپار سے ملک میں سوا کروڑ کپڑا ویاپاری جڑے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان سوا کروڑ کپڑاویاپاریوں کے پیچھے کام کرنے والے کوئی دس  کروڑ لوگ جڑے ہیں۔ان کا کیا ہوگا اس کی کسی کو فکر نہیں ہے۔سورت کے تقریباً تمام کپڑاویاپاری شروع سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔۲۰۱۴؍کے لوک سبھاکے الیکشن کے وقت ان لوگوں نے کپڑا پیک کرنے والےڈبوں تک پرچھپوارکھا تھا کہ اب کی بار مودی سرکار۔اب انہیویاپاریوں نے اپنی رسیدوں پر چھپوا دیا ہے کہ’ہماری بھول کمل کاپھول‘ان ویاپاریوں کو جتنی تکلیف ویاپار نہ چلنے کی ہے اس سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ جی ایس ٹی سے متعلق ان کی تکلیفیں اور پریشانیاں سننے کےلئے خود وزیراعظم یاان کاکوئی وزیر تک تیار نہیں ہے۔ہمیں حال سے زیادہ ملک کے مستقبل کی فکر ہے۔مودی کے اس بیان پر سورت کے ویاپاریوں کاکہنا ہے کہ مودی پہلے ایسے وزیراعظم ہیںجومزدوروں اورویاپاریوں کی لاشوں پر ملک کے مستقبل کا محل کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔