موہن بھاگوت نے کی سپریم کورٹ کی توہین

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>موہن بھاگوت نے کی سپریم کورٹ کی توہین</h1>

ناگپور:راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے چیف موہن بھاگوت نے دسہرا کے موقع پر گئو رکشا کے نام پر سڑکوں پر دہشت پھیلانے والے غنڈوں کی حوصلہ افزائی کرکے نچلی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک کی توہین کی۔ان گئو رکشک غنڈوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے انہو ںنے کہا کہ سڑک پر ہونے والی ’’ہنسا‘‘میں گئو رکشکوں کا کوئی ہاتھ ہیں ہے انہیں زبردستی بدنام کیا جار ہا ہے۔گئو رکشکوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کام مستعدی سے کریں اس سلسلے میں عدالتوں کے احکام کی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔یار ہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے گئو رکشکوں کی دہشت گردی پر روک لگانے کےلئے گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر سنوائی کرتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت میں جسٹس امیتابھ رائے اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی بینچ نے ملک کی تمام ریاستوں کی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ گئو رکشا کے نام پر ہونے والے تشدد کو روکیں۔اس کی نگرانی میں ہر ضلع میں پولیس کپتان رینک کےافسر کو نوڈل افسر مقررکریں۔اس سلسلے میں کئی گئی تمام کارروائیوں کی اطلاع تحریری طور پر اکتیس اکتوبرتک عدالت میں پیش کریں۔سپریم کورٹ کی بینچ نے اپنے اس آرڈرمیںکہاتھاکہ اس طرح کا تشدد روکنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔اس میں کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔موہن بھاگوت کہتے ہیںکہ گئو رکشکوں نے ملک میں کوئی ہنسا نہیں کی ہے الٹے گایو ںکو بچانے میں کئی گئو رکشکوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔

گئو رکشا کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو اکسانے کے علاوہ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں مودی کے ماتحت کسی وزیر کی طرح ان کے فیصلوں کی تعریفوں کے پل باندھ دئے۔انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ نوٹ بندی کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس میں کاشتکاوں اور غیر منظم شعبہ کی صنعتوں اور ویاپاریوں کے مفادپر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔روہنگیا مسلمانوں کو پناہ نہ دینے کی مودی حکومت کے فیصلوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک میں پناہ دینے سے ملک میں روزگار کے تانے بانے پر تو اثر پڑے گا ہی ملک کی سلامتی  کےلئے بھی خطرہ پیدا ہوگا۔انہو ںنے کہا کہ برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو واپس لینے کے لئے تیار ہے اس لئے وہ اپنے ملک کو واپس جائیں اس جلسے میں بی جے پی میں الگ تھلگ کئےجاچکے لال کرشن اڈوانی، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مہاراشٹر کے وزیراعلی دیویندرفڑنویس بھی مودجود تھے۔

آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نےاس موقع پر جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کے سلسے میں جو اسے دفعہ۳۷۰کے ملا ہوا ہے سنگھ کے پرانے مطالبے کودہرایا۔اگر چہ انہوں نے دفعہ ۳۷۰کانام نہیں لیا مگر یہ کہا کہ جموں وکشمیر کے سلسلے میں آئینی ترمیم کئے جانے کی سخت ضرورت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سنگھ نے جموں وکشمیر کے تعلق سے سیدھے سیدھے دفعہ ۳۷۰ کو ختم کرنے کےبجائے آئین کی دفعہ ۳۵ (اے) میں ترمیم کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔سنگھ کے چیف موہن بھاگوت  ناگپور کے ریشمی باغ میں سویم سیوکوں کو خطاب کرتے ہوئے جب یہ کہہ رہے تھے کہ کشمیر کے معاملے کو اس طرح لیاجائے کہ وادی کے لوگوںمیںملک کے لئے لگاؤپیدا ہو اور لوگو ںکے بیچ رشتے مستحکم ہوں لیکن اسی کے ساتھ انہو ںنے یہ بھی کہا کہ وہ وادی کے لوگوں کے مائنڈسیٹ کو بدل باقی ملک کے لوگوں کے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ہوگا۔اس کےلئے پرانے ضابطوںکی جگہ نئے ضابطوں کو لانے کی ضرورت ہے۔اگر حکومت، انتظامیہ اور سوسائٹی کے لوگ سرجوڑ کر بیٹھیں تو کشمیر مسئلہ بڑی آسانی سے حل کیاجاسکتا ہے۔موہن بھاگوت کا یہ صاف اشارہ تھا کہ جموں وکشمیر کو دفعہ ۳۷۰ کے تحت جو خاص درجہ حاصل ہے اسے ختم کرکے ہی مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے۔اسی دن جموں وکشمیر کے آر ایس ایس پرانت پرچارک روپیش کمار نے ڈوڈا ضلع کے بھداروہ قصبہ میں سویم سیوکوں کو خطاب کرتےہوئے کہا کہ آرٹیکل ۳۵ (اے) غیرآئینی ہے۔اس سے ہندستانی آئین کے بنیادی کیریکٹر کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس میں ہندستان کے ہر شہری کو مذہب،نسل،ذات کی بنیاد پر برابری کی ضمانت دی گئ ہے۔سنگھ نے اب سیدھے ۳۷۰ کوختم کرنے کے بجائے آرٹیکل۳۵ (اے)کومنسوخ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس تعلق سے سنگھ سے وابستہ لوگوں نے عدالتوں میں پٹیشن بھی دائر کی ہیں۔آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت  اور جموں وکشمیر کے پرانت پرچارک روپیش کمار کے وجئے دشمی کے دن آئے بیانات پرکشمیر کی سیاسی پارٹیو ں کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ان پارٹیو  ں نےبی جے پی اور سنگھ کے بجائے پی ڈی پی پر نشانہ سادھا اور کہاکہ پی ڈی پی اقتدارکی ہوس میں کشمیر کے عوام کے وقار اور انکی عظمت سے سمجھوتہ کر نے پر اتاروہے۔

بھاگوت کی تقریر کے بعد نیشنل کانفرنس کے ترجمان جنید عظیم مٹو نے کہا کہ خصوصی درجہ کے اسئیٹس کی یقین دہانی کا کیا ہوا؟پی ڈ ی پی نے بی جے پی کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ریاستی کانگریس کے سینئر نائب صدر جی این مونگا نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تعلق سے بی جے پی کا جومقصد ہے وہ خودطے کر رہی ہے اور ایک کے بعد دوسرے کام کو پورا کر رہی ہے۔اب یہ پی ڈی پی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کرسی چاہئے یا وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کرے گی۔آزاد ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے موہن بھاگوت کے بیان کو آئین ہند کی توہین بتایا۔ انہو ںنے کہا کہ موہن بھاگوت  نے جو کچھ بھی کہا ہے اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔آر ایس ایس اور بی جے پی آرٹیکل ۳۷۰  کی منسوخی چاہتے ہیں۔موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے پی ڈبلیو ڈی وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر نے کہا کہ ریاست کوجو خصوصی آئینی ضمانت ملی ہوئی ہے اسےنہیں بدلا جا سکتا یہ آئین کا حصہ ہے  اور ایک نیشنل کمٹمنٹ ہے۔

وجے دشمی کے اپنے خطاب میں جہاں موہن بھاگوت  نے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کےلئے نئے ضابطوں کی شمولیت کو ضروی بتایا وہیں وہ یہ بات کرنا نہیں بھولے کہ کشمیری پنڈتوں کی آبادکاری کے کام کو جلد سے پوراکیاجائے۔ساتھ میں یہ بھی کہاکہ جموں، لداخ اور وادی میں ترقیاتی کاموں میںیکسانیت ہونی چاہئے۔

وجے دشمی کے موقع پر سنگھ چیف کی ہونے والی سالانہ تقریر میں بی جے پی کو کچھ نہ کچھ نصیحت کی جاتی تھی اور کئی امور پر یہ خبردار بھی کیا جاتا تھامگر شاید آر  ایس ایس کے سویم سیوکوں سے پہلا خطاب ایسا تھا کہ جس میں صرف اور صرف نریندر مودی سرکار کی قصیدہ خوانی ہی کئی گئی چاہے وہ گئو رکشا کے نام پر گئو رکشکوں کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا دفاع ہو یا پھر روہنگیا مسلمانوں کا ملک میں پناہ دینے کا مودی سرکار کا فیصلہ ہو یا پھر چین و ہند سرحد پرتناؤ کے معاملات سے نمٹنے میں مودی حکومت کی جم کر ستائش۔آر ایس ایس کےسربراہ موہن بھاگوت  نے چین کے ساتھ ڈوکلام ایشو کو سنبھالنے کےلئے مرکزی سرکار کی جم کر تعریف کی۔موہن بھاگوت کی تقرری میں انہی باتوں پرتوجہ دی گئی جو فی الحال بی جے پی کے ایجنڈے کےکلیدی ایشو ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کوپناہ نہ دینے کے مودی سرکار کے فیصلے کو اس طرح درست بتایا کہ ہم غیر قانونی بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے مسائل سے پہلے ہی جوجھ رہے ہیں اور اب روہنگیا مسلمان ملک میں داخل ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ روہنگیا جنہیں میانمار سے نکالا گیا ہے وہ ہمارے ملک میں داخل ہونے کوتیار ہیں۔انہیں دہشت گرد تنظیموں سے رشتے رکھنے اور پرتشدد کاررائیو ں کوانجام ینے کے سبب میانمار سے نکالا جار ہا ہے۔انہوں نے ملک کی  گرتی معیشت پر تو کچھ نہیں بولا لیکن یہ کہنانہیں بھولے کہ روہنگیا لوگوں کو پناہ دینے سے نہ صرف ہمارے روزگار کے ڈھانچے پر دباؤ بڑھے گا بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔