امت شاہ کے گورویاترا میں نعرے بازی اور ہنگامہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>امت شاہ کے گورویاترا میں نعرے بازی اور ہنگامہ</h1>

امت شاہ کو الیکشن میںکانگریس اور راہل کا سہارا

احمدآباد:بی جےپی صدرامت شاہ گجرات اسمبلی کاالیکشن ریاست میں ۲۲سال کی بی جے پی سرکار کے کام کاج کےبجائے راہل گاندھی اورکانگریس کو برا بھلا کہہ کر جیتنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی سے ناراض پٹیل طبقے کو خوش کرنے کےلئے انہو ںنے یکم اکتوبر کو ملک کے پہلے ہوم منسٹر وللبھ بھائی پٹیل کے کرمسدمیں واقع مکان سے اپنی دودنوں کی گجرات گورویاترا شروع کی ان کی چالاکی کام نہیں آئی اور اس یاترا کی شروعات ہی اس وقت بد شگنی کا شکار ہوئی جب ان کی پہلی ہی میٹنگ میں میں پاٹی دار سما ج کے لوگوں نے خوب ہنگامہ مچایا اور نعرے بازی کی امت شاہ نےکسی طرح اپنی تقریر پوری کرکے وہاں سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا۔اگلے  روز۲؍اکتوبر کو انہو ںنے مہاتما گاندھی کے جائے پیدائش کے مقام پوربندر سے دوبارہ یاترا شروع کی۔ دونوںہی دن انہوں نے بارہ سالوں تک مودی کی گجرات سرکار کی کامیابی بتانے کے بجائے راہل گا ندھی اور کانگریس پر چھینٹا کشی کرنے کا ہی کام کیا۔کرمسد اور پور بندر میں امت شاہ کی تقریر سن کر عام گجراتیوں نے سمجھ لیا کہ کانگریس اور راہل گا ندھی کو برا بھلا  کہنے کے علاوہ اپنی سرکار کی کامیابیاں بیان کرنے کےلئےان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے بڑے جوش سے  کہا کہ تین سال کی نریندرمودی سرکار نے گجرات میں ایک سال آل انڈیا میڈیکل سائنسیز اسپتال اور نرمدا باندھ کی اونچائی بڑھانے کومنظوری دی ہے۔منظور ی مطلب صرف کاغذ پر ہواکام ۔

امت شاہ کے پاس چونکہ مودی سرکار کے کام کاج کے بارے میں بتانے کےلئے کچھ تھا ہی نہیں اسی لئےانہوں نے راہل گاندھی اور کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے دنگے دئے جبکہ نریندرمودی سرکار نے ریاست کو ترقی دی۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کوگجرات میں  ترقی اس لئے نظر نہیں آتی کیونکہ وہ اسے اطالوی چشمہ پہن کردیکھتے ہیں۔ امت شاہ نے مودی سرکارکے ان کاموںکو گجرات کی ترقی کا حصہ بتایا جو ابھی زمینی سطح پر شروع بھی نہیں ہوئے ہیں۔صرف کاغذوں پر ان کا ذکر ہے۔امت شاہ نے کہا کہ مودی سرکار نے گجرات میں ایمس کو منظوری دی۔راجکوٹ میں انٹر نیشنل ہوائی اڈہ اور نرمدا باندھ کی اونچائی بڑھانے کی منظوری دی۔چھ لاکھ غریب شہریو ںکےگھر الاٹ کئے۔یہ تمام کام ایسے ہیں جوابھی زمینی سطح پر شروع ہی نہیں ہوئے ہیں۔مکانات کی اول تو تعمیر نہیں ہوئی ہے اور جو الاٹ ہوئے بھی ہیں وہ غریب شہری نہیں سنگھ،بی جے پی ،،بجرنگ دل اور وی ایچ کے کارکن بتائے جاتے ہیں۔امت شاہ تو اس طرح ایمس اور ہوائی اڈہ بنانے کا ذکر کر رہے تھے جیسے  یہ دونوں بن کر تیار کھڑے ہیں۔جبکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ منظوری کا مطلب ہے کہ بننے کی منظوری وہ بھی کاغذ پر۔

کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں یہاں غنڈوں کابول بالا تھا لیکن نریندرمودی نے ریاست کااقتدار سنھالتے ہی سب کو جیل پہنچا دیاانکی بات سن کر صاف ہو گیا کہ مودی سرکار کی نظر میں غنڈہ کن لوگوں کو اور شریف کسے کہا جاتا ہے۔گجرات دنگوں کے ملزم کھلےعام گھوم رہے ہیںبابو بجرنگی ہویا مایاکوڈنانی خود امت شاہ چارج شیٹیڈ رہے ہیں۔مگر مودی سرکار کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تمام کریمنلس پر چل رہے مقدمات کو ختم کرا کر انہیں ’دھرماتما‘ بنا دیا۔امت شاہ نے کانگریس کے دور میں گجرات کے خراب نظم ونسق کاذکر کیا لیکن گجرات دنگوں کا کوئی ذکر نہیںکیاجسے اٹل بہاری واجپئی نے وزیراعظم رہتے ہوئے’’سیاہ داغ‘‘ بتایا تھا۔دوہزار سے زیادہ مسلمان قتل ہوئے اور ایسا اجڑے کہ آج تک آباد نہیں ہو سکے ہیں۔اپنی گورویاترا کے ددران گمراہ کن اور کانگریس مخالف بیان بازی کرکے امت شاہ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔یہ یاترا دیہی حلقوں کی ۱۴۹؍سیٹوں سے ہو کر نکلے گی اور ۱۵؍اکتوبر کو ختم ہوگی۔اس دوران گجرات کے لوگو ںکو شارٹ فلموں اور اشتہارات کے ذریعہ بتایاجائیگاکہ پچھلے بیس سال میں گجرات نے کتنی ترقی کی ہے لیکن امت شاہ وغیرہ شاید یہ بھول گئے ہیںکہ اگر لوگ ترقیاتی کام دیکھ کر ووٹ دیتےہوتے تو پھر اترپردیش میں بی جے پی نہیں سماجوادی پارٹی کی ہی سرکار ہوتی۔

امت شاہ کو اپنی گورویاترا کے دوران پاٹیدار سماج کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑااسی لئے انہوں نے اپنی یاترا سردار پٹیل کے گھر سے شروع کی اور انہیں بھارت رتن دیر سے دئے جانے پر ناراضگی کااظہارکیا۔دراصل پٹیلو ں کو ریزرویشن دئے جانے سے متعلق آندولن کو بی جے پی نے طاقت کے زو رپر دبا بھلے دیا مگر وہ پٹیلوں کے اندر بی جے پی کےلئے پیدا ہوئی ناراضگی نہیں دور کرپائی۔اسی لئے وللبھ بھائی پٹیل کی مورتی لگوانے سے گورو یاترا ان کے گھر سے شروع کرنے کا مقصد پٹیلوں کی ناراضگی دور کرنا ہے۔امت شاہ اور نریندر مودی دونوں یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیںکہ گجرات میں پٹیلوں کی آبادی تقریباً بیس فیصد ہے۔ ریاست کا یہ پاٹیدار صوبے کی۷۰؍اسمبلی سیٹوں پر اپنا اثر رکھتا ہے۔ان کی ناراضگی بی جے پی کو بھاری پڑ سکتی ہے۔لیکن امت شاہ کے یہ ہتھکنڈے کچھ کاکام نہیں آئے۔ کیونکہ پاٹی دار سماج کے لوگوں نے ان کی گورو یاترا میں جم کر نعرے بازی کی۔پاٹیدار سماج کے آندولن کی کمان سنبھالنے والے ہاردک پٹیل نے پچھلے دنوں سوراشٹر کے دور ے پر آئے کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی کا استقبال کر کے بی جے پی کو بے چین کر دیا ہے۔گجرات اسمبلی کی ۱۸۲؍سیٹیں ہیں۔جن میں فی الوقت۱۱۸؍بی جے پی کے پاس ہیں۔گجرات میں پچھلے ۲۲؍سال سے بی جے پی کی سرکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودی اور پوری بی جے  پی بار بار گجرات ماڈل کا ذکر کرتے ہیں۔ان کی نظرمیں گجرات ترقی کا نہیں حکومت کا ماڈل ہے یعنی وہ ملک کی دیگر ریاستوں پر بھی اتنی ہی مدت تک حکومت کرنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن اس بار بی جے پی کواپنا مضبوط قلعہ رہے گجرات کوبچانا بڑا مشکل ہو گا۔بقول اروند کیجریوال اور اکھلیش یادو کے کہ اگر ای وی ایم نے بی جے پی کی مدد نہ کی تو اس بار گجرات بی جے پی کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کے پاس چلا جائیگا۔

بی جے پی کی مصیبت یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف مخالفین ہیں۔مسلمان پہلے سے ناراض ہیں دلتوں اور پٹیلوں کو بھی بی جے پی نے ناراض کر دیا ہے۔ کانگریس سے شنکر سنگھ واگھیلا کو بی جے پی نے توڑا تو اب انہیں سنبھال نہیں پار ہی ہے۔وہ بھی نئی پارٹی بنا کر چناؤ لڑنے کے موڈمیں ہیں۔ظاہر ہے کہ واگھیلا بی جے پی کو ہی نقصان پہنچائیں گے۔مودی سے شروع سے ہی ناراض چل رہے وی ایچ پی لیڈرپروین توگڑیا بھی خبر ہے کہ وہ بھی اپنے امیدوار اتا رسکتے ہیں۔ایسا ہوا تو پھر بی جے پی کی ہار یقینی ہے۔ویسے جس طرح سے امت شاہ کی گورو یاترا میں نعرے بازی ہوئی اس سے لگتا ہے کہ اس بار گجرات جیتنا آسان نہیں ہوگا۔