ساغرؔ مہدی اور بہرائچ-احساس کے آئینے میں

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ساغرؔ مہدی اور بہرائچ-احساس کے آئینے میں</h1>

مظہر حسین تاج ؔلکھنوی

واقعہ یہ ہے کہ دو سال قبل اپنے ایک دوست (تذہیبؔ نگروری) کی پھوپھی کی مجلسِ چہلم میں شرکت کی غرض سے نگرورگیا تھااور اس کے ایک سال بعدپھر شہر بہرائچ میں ایک طرحی محفلِ مقاصدہ میںشرکت کا شرف ملا :کہنے کو صرف دو بار اس سر زمین پر وارد ہوا تھا مگر وہاں کا ادبی ذوق وشوق دیکھ کر میں حیران رہ گیا خصوصی طور پر نوجوان حضرات ادب سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں ،ہر شاعر کو بہت اچھی طرح سنتے ہیں اور داد وتحسین سے نوازتے ہیں ۔شعر و سخن کی اس قدر محبت اس بات غمازی کر رہی تھی کہ ہو نہ ہو اس خطے کا تعلق کسی عظیم عہد سے جڑا ہوا ہے ،جس کے آثار اب تک نمایا ں ہیں اسی فکر نے میرے وجود میں تجسس پیدا کر دیا ۔میں نے یہاں کے شاعروں کے بارے میں دریافت کیا اور بالآخر میں ساغر ؔمہدی تک بھی پہنچ گیا ۔اسی بیچ سر زمینِ بہرائچ اور نگرور کی بہت سی خوبیاں سامنے آئیں جن کا ذکر اشاروں میں آگے آئے گا ۔بہرائچ جو لکھنؤسے ذرا فاصلے پر واقع ہے۔لکھنؤ سے بہرائچ کی طرف جانے میںپہلے بارہ بنکی ،پھر گھاگرہ ،پھر جرول ،اور پھر بہرائچ۔لیکن ادب اور زبان کے معاملے میں یہ شہر ایسا ہی ہے جیسے کوئی دور کا رشتے دار ہمارے پڑ و س میں آ بسا ہو۔  ساغرؔمہدی نے شوق ؔبہرائچی کے سامنے زانوے ا دب طے کیا اور بہت کم وقت میں خود شوقؔ بہرائچی نے ساغرؔ کو فارغ الاصلاح کر دیا تھا ۔شوقؔ بہرائچی طنزومزاح کے ایک عظیم شاعر تھے۔بزرگوں کے اس قول کی مثال کے تاثر میں کہ دو چاول کے دانوں سے پکی ہوئی پوری دیغ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بس دو شعر ان کی شخصیت کے اندازے  کے لیے لکھ رہاہوں،شوقؔ کسی دعوت کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

بوٹی کی طرح سے گھی نے بھی کی رُوگردانی

شوربہ فرطِ ندامت سے ہے پانی پانی

یا یہ دوسراشعر جوازل سے ابدتک زندگی کے ہر شعبے کی تصویر کشی کررہا ہے۔

بربادئی گلشن کی خاطر بس ایک ہی اُلّو کافی تھا

ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا

مزاح میں اتنا زبردست رنگ رکھنے و الے اُستاد کے ہوتے ہوئے بھی ساغرؔ نے خود کو پوری طرح سنجیدہ رکھا اُن کے کلام میں پوری طرح لکھنؤکی خوشبو اور لطافت موجود ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

یا یہ کہ سو جتن سے ہم آئے تھے اس جگہ

یا یہ کہ چاہتے ہیں یہاں سے نکل چلیں

٭٭٭

سنگین حادثوں پہ بھی ہنستی رہی حیات

پتھر پہ اک گلاب ہمیشہ کھلا رہا

بہرائچ کے پاس ایک چھوٹی سی بستی ہے جس کو نگرور کہتے ہیں جس کا ذکر آگے آئے گا انشااللہ ۔

ساغرؔ کو اگر سرسری نظر سے دیکھا جائے تو ساغرؔ بظاہر دوسرے شاعروں کی طرح ایک شاعر ہی ہیں ، لیکن جو بات ان کو دوسرے شاعروں سے الگ کر رہی ہے وہ ہے ان کے اشعار سے ان کا رشتہ جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں ، کہ میرے ہر شعر کا ایک پس منظر ہے اور ہر شعر کی ایک کہانی ہے اگر کوئی میرے کسی شعر کے متعلق سوال کرے تو میں بتا سکتا ہوں کہ اس شعر کی وجہ تخلیق کیا تھی ، کیونکہ جو کچھ مجھ پر بیتا ہے یا میں نے محسوس کیا ہے بس وہی نظم کیا ہے یعنی حقیقتوں سے بلافصل تعلق ہے صر ف اور صرف نری شاعری نہیں ہے ۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعر زور ِتخیل پر ان چیزوں اور ان حالات کو بھی وجود میں لے آتا ہے جو اس نے کبھی نہیں دیکھے اور وہ تکالیف بھی ظاہر کرتاہے جو اس نے خود نہیں جھیلیں ۔شاعر ،شاعری سے چوُک جائے یہ بھی ممکن نہیں ۔ ساغرؔ کا انداز نیا ،لہجہ ُدھلاہو ا صاف، نتھری ہوئی زبان، بیان ساز و گداز کا ایک چمکتا ہوا آئینہ۔

اس شعر میںساغر ؔنے اپنی حساسیت اور سنگین اندیشے کی طرف کس خوبصورتی کے ساتھ اشارہ کیا ہے :

نہ اتنا ٹوٹ کے ملیے کہ دل کو شک گذرے

خلوص میں بھی ضروری ہے فاصلہ رکھنا

تمہارے لب کی مہک راز فاش کر دے گی

لفافہ بند نہ کرنا یونہی کھلا رکھنا

نظم کے ساتھ ساتھ نثر پر بھی ساغرؔکو بھر پور دسترس حاصل تھی ،ادبی اور شخصیاتی مقالوں پر مشتمل ان کی ایک نثری کتاب بنامِ ’’تحریر و تحلیل ‘‘ بھی عرصۂ دراز قبل شایع ہو چکی ہے ۔وطن پرستی پر بھی ساغرؔ کی ایک منظوم کتاب (دیوانجلی ) اردواکاڈمی سے شائع ہوئی جس پر انہیں بہت سے اعزازات  سے بھی نوازاگیا جس کے افتتاحیہ سے جو بعنوان ’زخمی شبدوں کا بکھرائو‘ہے اس سے چند جملے یہاںنقل کر رہا ہوں:’’بدمزاجی ،اور بے حِسی کا اندازہ معمولی سی اس بات سے لگائیے کہ علم و اد ب کے نام پر ایک سلیقے کی لائبریری تک کا وجود نہیں ہے ،اور صاحب ہو بھی کیوں ؟ زبان اور ادب کا مسئلہ کون سا اہم مسئلہ ہے ہمارے سماج میں یہ چوتھے بلکہ پانچوں نمبر کی چیز ہے ،پہلا نمبر تو سیاسی گندگی ،موقع پرستی، بد اندیشی ،چالاکی اور اقتدار کی جنگ کا ہے۔کیسے کیسے بیوقوف ،کم اصل ،اور جاہل لوگ ادیبوں کے مقدس سروں پر پیر رکھے کھڑے ہیں ، ہر شہر کا ایک کردار ہوتا ہے ،اور شاہد ہمارے شہر کا یہی کردار ہے۔مگر نہیں ہمارے شہر کا نہیں کتنے ہی شہروں اور قریوں اور بستیوں کا المیہ ہے ‘‘ اس عبارت میں ساغر نے جو حال ادب اور زبان سے متعلق بیان کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہر شاعر اور ادیب اس کا معترف ہے ۔ساغر ؔ نے غزلیں ، نظمیں ، خوب کہیں ہیں اور نثر میں بھی آپ اپناجواب آپ تھے۔ ساغر ۵؍ جولائی ۱۹۳۶؁ء کو عالمِ ملکوت سے اس جہانِ فانی میں تشریف لائے ،اور ۲۰؍ ستمبر ۱۹۸۰؁ء کو اپنے ہی گھر کے ایک طرحی مسالمے میں سلام کا یہ شعرپڑھنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ شعر مع مطلع کے درج کر رہا ہوں ۔

خزاں کا زہر گلستاں کے برگ و بار میں تھا

ہوائے زرد تھی طوفان ریگ زار میں تھا

ہر ایک چیز لٹا کر پیمبروںؐ کی طرح

صداقتوں کا امیں موت کے دیار میں تھا

یہ شعر پڑھنے کے فوراً بعد کسی کو آواز دی اور کہا’’بھیّا ذرا پانی پلا دو‘‘ اور امام حسینؑ کا شاعر پیاسا ہی اس دنیا ئے فانی سے دارِ بقا کی طر ف کوچ کر گیا اور….

’’مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقتِ دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے‘‘

انہیں ان کے چاہنے والوں نے شاہی کربلا شہر بہرائچ میں سپردِ خاک کر دیا ، کہا جاتا ہے جب ساغر نے ؔ پانی طلب کیا تھا اس وقت ان کا ایک ہاتھ ان کے سینے پر تھا ۔معلوم ہوتا ہے ابھی دل میں نہ جانے کتنی تمنائیںاور حسرتیں تھیں جو دل میں تنگی کئے ہوئے تھیں مگر بقولِ غالبؔ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم  نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن کتنے کم نکلے

سرزمین بہرائچ کو یہ شرف حاصل ہے کہ نہ صرف شاعر اورادیب ہی اس سرزمین نے دنیا کو دئے بلکہ ہرشعبئہ حیات میں یہاں کے افرادنے کارہائے نمایاںانجام دئے مثلاًالحاج نواب سرفتح علی خان قزل باش ،رئیس اعظم لاہور و تعلق دار علی آباد ،نواب گنج ،ضلع بہرائچ (اودھ)کہ جن کے کارناموں کی فہرست طویل ہے ۔ شہرِ بہرائچ کے محلہ سید واڑہ میں ایک عالیشان امام بارڑہ تعمیر کرایا اور ایک مسجد اور امام باڑہ بشیر گنج پولس چوکی کے نزدیک تعمیر کرایا تھا جو کہ اب منہدم ہو چکا ہے ۔اس  کے علاوہ آپ نے اودھ کے دیگر بڑے تعلیمی اداروںمیں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔

آپ آل انڈیا شیعہ کانفرنس جو برّ صغیر میں شیعوں کا سب سے بڑا قدیم قومی اور مذہبی ادارہ تھا اس کے اعزازی سکڑیڑی بھی تھے۔یہ سر زمین اولیائے خدا کا مسکن بھی رہی ہے اسے مزاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔یہی سر زمین مسعود غازی رحمۃ اللہ جو علوی سید ہیں انکا سلسلہ ٔ  نسب’’ محمد حنفیہ (فرزند علی علیہ السلام )سے ملتا ہے‘‘ان کا مدفن و مسکن بھی ہے آپ کا مزار قومی یک جہتی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جہاں بلا تفریقِ مذہب و ملت لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور اپنی مرادیں بھی پاتے ہیں ۔ہندی زبان کے مشہور شاعر (مہا کوی تلسی داس جی )فرماتے ہیں ۔

لہی آنکھی کب آندھرے بانجھ پوت کب لیائے

کب کوڑھی کایا لہی، جگ بہرائچ جائے

اورانشا اللہ خاں انشاؔ فرماتے ہیں کہ  :

یو ں چلی آنکھوں سے اشکِ خوں فشاں کی چاندنی

جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی چاندنی

در اصل مسعود غازیؒ کو ان کے چا ہنے والے الگ الگ ناموں سے پکارتے ہیں جن ناموں میں سے ایک نام بالے میاں بھی ہے جس کا ذکر ،انشااللہ خاں انشاؔ نے اس شعر میں کیا ہے ۔ یا اکبر میرٹھی فرماتے ہیں:

چپے چپے پر مزاراتِ شہیداں دیکھئے

دید کے قابل ہے بہرائچ کا میداں دیکھئے

اس عظیم سر زمین سے متصل سر زمین نگرور ہے ،نگروراوربہرائچ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ممکن ہی نہیں کہ بہرائچ کا ذکر ہواور نگرور کی بات نہ آئے یہاں بھی پاسداران ِ زبان وبیان موجود تھے اور خد اکے فضل و کرم سے آج بھی موجود ہیں ۔ماضی اور حال سے میں چند اسماء گرامیِ شعراء ان کے ایک ایک شعر کے ساتھ رقم کررہا ہوں۔سب سے پہلے مکرم العلماء آیت اللہ سید سجاد حسین زیدی طورؔ نانپاروی جو جناب کلیم نگروری کے استاد بھی تھے ان کا شعر رقم کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

بجا ہے فخر جو چاہو کرو اے طورؔ زیبا ہے

خوشا قسمت کہ مدّاحِ امیر المومنیں تم ہو

طور ؔنانپاروی

موسیٰؑ کی داستاں کا اعادہ نہ کیجیے

سرکائیے نقاب مرے اعتبار پر

مرتضیٰ حسین ماہؔ نگروری

ساتھ تیرے ترے مسکن کا بھی ہے نام کلیمؔ

ذکر نگرور کا جنت میں ہوا کرتا ہے

شائق حسین جعفری کلیم ؔنگروری

جن کو دینا ہے وہ محشر کو کہیں روزِ حساب

ہم کو پانا ہے تو ہم روزِ جزا کہتے ہیں

ضامن عباس کوثرؔنگروری

شہر دیکھا مجھے نگرور سے اچھا نہ لگا

اچھا قصبہ مجھے نگرور سے اچھا نہ لگا

قریہ قریہ مرے نگرور سے بہتر ہے مگر

کوئی خطہ مجھے نگرور سے اچھا نہ لگا

تنویر ؔنگروری

مرے سکون کو طبع رسا نے لوٹ لیا

وہ قافلہ ہوں جسے رہنما نے لوٹ لیا

تذہیبؔ نگروری

اس کی آنکھوں میں بھی آنسوں آگئے تھے

میرا افسانہ مکمل ہو گیا تھا

مظہر ؔ سعید بہرائچی

ان کی رگ رگ میں لہو بن کے وفا دوڑتی ہے

جن کو ہوتی ہے ترے نام سے نسبت عباسؑ

راشد ؔراہی بہرائچی

جو بھی آتا ہے غنی ہو کے چلا جاتا ہے

تیری درگاہ ہے یا شہرِ سخاوت عباسؑ

فوقؔ بہرائچی

میں نے کچھ شعرائے کرام کے نام اور ان کے شعر یہاں تحریر کئے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ بہرائچ اور نگرور میں بس اتنے ہی شاعر ہیں ،بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے پڑھا یا سنا ہے ،اس کے علاوہ اور بھی بہت اچھا کہنے والے اور پڑھنے والے ہیں جنکا ذکر شاید کسی اور مضمون کی زینت بنے گاانشااللہ ۔ان چار مصروں پر اس مضمون کو تمام کر رہا ہوں کہ :

نقطے میں کہکشانِ ادب کا جواب ہے

ہر لفظ رنگ و نور کی کامل کتاب ہے

دیکھا جو اس زمیں کو تو دل کو یقیں ہوا

جو ذرّہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے