گرمیت کے گناہوں کو سرکاری پشت پناہی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>گرمیت کے گناہوں کو سرکاری پشت پناہی</h1>

ڈیرہ سچا سودا عیاشی کرنے اور دہشت گرد پیدا کرنے کی شکل میں تبدیل

 

چندی گڑھ!ڈیرہ سچاسوداکے کریمنل مالک گرمیت سنگھ جو اپنا پورا نام گر میت رام رحیم لکھنے لگا تھا۔ اس کے تمام گناہوں میںبھارتیہ جنتا پارٹی اور ہریانہ کی منوہر لال کھٹر سرکار کی پشت پناہی حاصل تھی۔ دو سادھوی بہنوںکی عزت لوٹنے کے معاملے میں گرمیت سنگھ بیس سال کیلئے قید ہو گیا ہے لیکن ہریانہ کی سرکار کی مہربانیاںاس پر جاری ہیں۔گرمیت کیلئے پنچکلا کے جلائے جانے کے پانچویں دن تک ہریانہ سرکار نے سرساکے اسکے ڈیرے کی تلاشی نہیں کروائی تھی۔بتاتے ہیں کہ گرمیت اس ڈیرے میں با قاعدہ دہشت گرد پیدا کرنے کاکام کرتا تھا۔اس کے ڈیرے پرتعینات پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ کے پاس سے دیگر اسلحوں کے ساتھ دواے کے-۴۷ رائفلیں برآمد ہوئیں ہیں۔پتہ چلا کہ اندر بڑی تعدادمیں اے کے -۴۷ اور دوسرے اسلحے موجو د ہیں لیکن منوہر لال کھٹر اور ان کی سرکار نے ڈیرے کی تلااشی کروانے کے بجائے گرمیت کے ساتھیوں کوپورا موقع دیا ہے کہ وہ ناجائز اسلحہ ٹھکانے لگا سکیں۔ ۲۰۱۴ کے لو ک سبھا اور اس کے بعد ہوئے ہریانہ اسمبلی کے الیکشن میں گرمیت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینے کی مہم چلائی تھی۔اسی لئے وزیراعظم مودی سے کھٹر سرکار تک پوری بی جے پی اور دونوں سرکاریں اس کے قدموں میں پڑی دکھائی دے رہی تھیں۔گرمیت نے ڈیزائن کپڑے پہن کر چمچاتے صاف ستھرے فرش پر جھاڑو لگانے کا ڈرامہ کیا تو تو نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا تھاکہ ’’با با گرمیت سنگھ بھی ان کے سوچھتا ابھیان میں شامل ہو گئے ہیں،اب ملک میں گندگی نہیں رہنے پائیگی‘‘لیکن دو بے سہارا بہنوںنے پندرہ سال تک پوری ہمت کے ساتھ قانونی لڑائی لڑکر عیاش گرمیت کو اس کے کیفر کردارتک پہنچایا تو ہریانے سے ہی ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’مہم شروع کرنے والے نریندر مودی اور ان  کی پارٹی کے کسی بھی شخص نے ان لڑکیوں کو شاباشی دینے کی زحمت نہیں کی۔الٹے مودی کے لوک سبھا ممبر سچیدا نند ساکشی مہاراج نے بڑے بے شرمی سے گرمیت جیسے مجرم کی حمایت میں عدالتوں تک کو دھمکادیا۔گرمیت زنا کے مقدمے کاملزم تھا جلد ہی اس کافیصلہ آنے والا تھا۔ اس کے باوجود فیصلے سے ٹھیک دس دن پہلے پندرہ اگست کو ہریانہ کے تینوں وزیروں انل وج، رام بلاس شرما اور منیش گروور گرمیت کے سامنے حاضر ہوئے اس کے قدمو ںمیں گرے تینوں نے اس کے قدموںمیں اکیاون -اکیاون کا چڑھاوا چڑھایا۔آر ایس ایس کے ان تینوں پرچارکوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ وہ رقم وہ کہاں سے وصول کر لائے تھے؟۲۸؍اگست کو روہتک کے سناریا جیل کی لائبریری میں بنائی گئی اسپیشل سی بی آئی عدالت میں اسپیشل جج  جگدیپ سنگھ لوہان نے جیسے ہی فیصلہ سنایا کہ دونوں سادھویوں کی عزت لوٹنے کے معاملے میں گرمیت سنگھ کو دس -دس سال کی قید با مشقت اور دنوں معاملات میں ۱۵-۱۵ لاکھ جرمانہ کیاجاتا ہے،وزیروں اور سرکاوں کو اپنے قدمو ںمیں جھکائے رکھنے والا گرمیت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا اور یہ کہہ کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا کہ اس نے سماج کیلئے نشہ بندی سمیت کئی بہترین کام کئے اسی لئے اسے معاف کر دیا جائے۔عدالت پر دھونس جمانے کی غرض سے اس نے وزیراعظم نریندرمودی  کے سوچھتا ابھیان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس مشن سے جڑ کر اس نے ملک کیلئے بڑا کام کیا ہے۔اس لئے اس پر رحم کیا جانا چاہئے۔عدالت پر اس کے ڈرامے کا کوئی اثر نہیں پڑا تو وہ شور مچانے لگا اس پر عدالت نے اسے عدالت کے کمرے سے باہر کروا دیا۔

اپنے فیصلے میں اسپیشل جج نے کہا کہ گرمیت نے اپنی ہی بھکت لڑکیوں کے ساتھ گھنونی حرکت کی اوران پر ظلم ڈھائے اور انہیں لا وارث چھوڑدیا۔اس کی یہ حرکت جنگلی جانور جیسی ہے ۔اس نے نہ صرف گرو اور شاگرد کے پاک رشتے کو داغدار کیا ہے بلکہ پورے ملک کو بدنام کیا ہے۔ اس کا یہ گناہ کسی بھی طرح رحم کرنے کے لائق نہیں ہے۔ عدالت نے اس پر دونوں معاملات میں ۱۵-۱۵لاکھ کا جرمانہ لگایا ہے میں سے ۱۴-۱۴لاکھ روپئے اس کی ہوس کا شکار بنیں دونوں لڑکیوں کو دئے جائیں گے۔ عدالت نے صا ف کیا کہ دونوں معاملات میں اسے جو ۱۰-۱۰ سال کی سزا دی گئی ہے وہ الگ الگ ہے۔پہلے دس سال کی سزا ختم ہونے کے بعد اس کے دوسرے سال کی سزا شروع ہوجائیگی۔ گرمیت سنگھ کتنا ظالم ،عیاش اور بدکردارانسان ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جس خوبصورت لڑکی ہنی پریت سنگھ کو اپنی منھ بولی بیٹی بتاتا تھا اسے بھی اپنی ہوس کا شکار بناتا رہتا تھا۔سرسا کے اپنے ڈیرے میں اسنے گپھا کے نام پرجو حرم بنا رکھا تھا اس میں دوسو جوان خوبصورت لڑکیوں کو رکھا جاتاتھا۔

انہیں میں سے بیس بیس لڑکیوں کو روزانہ گرمیت کے بیڈ روم میں بھیجا جاتا تھا۔اس کی عیاشی کے دوران باقی لڑکیوں کو بھی اس کے بیڈ رومیں رہنا پڑتا تھا۔ اس کی گپھامیں مردوں کے داخلے پر پوری طرح پابندی تھی۔گپھا کے ارد گرد جو تقریباً ۴۰۰بھکت سکیورٹی کے نام پر تعینات تھے ان سب کو گرمیت سنگھ نے آپریشن کرکے نامرد بنا رکھا تھا۔تاکہ ان میں سے کوئی بھی گرمیت کے حرم کی کسی لڑکی کو ہاتھ نہ لگا سکے۔۴۰۰ب ھکتوں کونامرد بنانے کامقدمہ الگ سے گرمیت پر چل رہا ہے۔فتیح آباد میں ٹائر کی دکان چلانے والے راما نند تنیجا کی بیٹی پرینکا تنیجا پر گرمیت کی نظر بھی تبھی پڑگئی جب وہ محض ۱۷سال کی تھی۔اس کی خوبصورتی دیکھ کر گرمیت پاگل ہو گیااور اس نے پرینکا تنیجا کو اپنے بھکت کی شکل میںاپنے ڈیرے میںبلا لیا۔اس نے پرینکا کا نام بدل کر ہنی پریت سنگھ رکھا اور اسے پنچکلا کے اپنے ایک شاگرد وشواش گپتا کے ساتھ شادی کرا دی۔لیکن شادی کے بعد اس نے ہنی پریت سنگھ کو ایک دن بھی اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنے دیا۔وشواش گپتا کے والد ریٹائرڈ چیف انجینئر ہیںوہ گرمیت کے بھکت رہے ہیںاور اسے اپنا بھگوان مانتے رہے ہیں ۔ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے پاس جتناپیسہ تھا وہ سب انہوں نے گرمیت کے حوالے کر دیا تھا۔اسی لئے گرمیت نے وشواس گپتا کو ڈیرے کاسکیورٹی انچارج بنا رکھا تھا۔ شادی کے دو سال بعد ایک دن وشواس گپتا گرمیت کے بیڈ روم میں چلا گیا تو دیکھاکہ گرمیت اس کی بیوی او راپنی منھ بولی بیٹی ہنی پریت کے ساتھ سیکس میں مشغول تھا۔وشواس نے اس پر اعتراض کیا تو اسے جم کر پیٹا گیا۔ڈیرے سے باہر نکال دیاگیا ۔بعد میںہنی پریت نے جہیز مانگنے سمیت گھریلو تشدد کے کئی مقدمے وشواس پر قائم کراد ئے۔گرمیت نے اس پر احسان جتانے کیلئے باپ بیٹے کو ڈیرے میںبلایا معافی مانگی اور ہنی پریت کو طلاق دلوادیا۔ اس واقعہ کے بعد سے ہنی گرمیت سنگھ کی چیف داشتہ بن گئی اب بھی وہ ہنی پریت کے بغیر نہیں رہ پاتا ۔عدالت سے اس نے ہنی پریت کو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت مانگی تھی۔ جو عدالت نے اسے ٹھکرا دی۔

ہریانہ کی منوہر لال کھٹر حکومت گرمیت کے تمام گناہوں میں اس کی بھر پور پشت پناہی کرتی رہی۔ گرمیت نے اپنے ڈیرے میں ذاتی کمانڈوں کے بہانے دہشت گردو ں کی ایک ٹیم بنا رکھی تھی۔جن کے پاس کے اے کے-۴۷ جیسے خطرناک ہتھیار بھی تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کی روپورٹوں کے باوجودکھٹر حکومت نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔پچیس اگست کو پنچکلا کی اسپیشل عدالت میںاس کا فیصلہ ہونا تھا۔ ۲۲؍ اگست کو ہی اس نے پنچکلا میں اپنے اسلحہ بردار غنڈو ںکو پہنچانا شروع کر دیاتھا۔اس کے بدمعاشوں میںاتنے شاطر لوگ شامل تھے کہ وہ کچھ بھی کر گزرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ان لوگوں کے پاس الگ الگ طرح کے اسلحے تھے۔ ہریانہ سرکار کے وزیر تعلیم رام بلاس شرما سمیت کئی وزیر اور ممبران اسمبلی گرمیت کے غنڈوں کے لئے کھانے کے پیکٹوں بوتل بند پانی اور سڑک پر سوانے کیلئے چٹائیوں تک کابندوبست کرتے دیکھے گئے۔ پنجاب -ہریانہ کورٹ نے ۲۴؍ اگست کو سختی دکھاتے ہوئے سرکار کو آرڈر دیا کہ وہ گرمیت کے غنڈوں سے پنچکلا کو خالی کرائیں۔کھٹر حکومت نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے دفعہ-۱۴۴ لگانے کا آرڈرتوکیا لیکن اس کے آرڈرمیںیہ تک نہیں لکھاکہ پانچ یا اس سے زیادہ لوگ ایک ساتھ اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ ہائیکورٹ نے ڈانٹا تو سرکار کی طرف سے کہہ دیا گیا کہ ٹائپ کی غلطی سے ایسا ہو گیا۔سرکار کی پشت پناہی میں گرمیت کے غنڈوں کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ وہ کسی پولیس  افسر کو بھی کچھ سمجھنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اسی لئے جیسے ہی عدالت کے ذریعہ اسے مجرم قرار دئے جانے کے خبر پھیلی گرمیت کے غنڈوں نے پورے پنچکلا کو یرغمال بنا لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ۳۲لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔۲۵؍اگست کو پنچکلا کی عدالت میں حاضر ہونے کیلئے گرمیت سنگھ کو سرسا کے اپنے ڈیرے سے نکلا تو اپنی پرائیویٹ فائر بریگیڈ گاڑیوں سمیت ۳۰۰ سے زیادہ گاڑیاں اس کے قافلے میں تھیں۔ہریانہ سرکارنے انہیں روکنے کی کوئی کوشش نہیںکی۔ قافلے میں درجن بھر سے زیادہ کھلی جیپیں تھیں جن پر لدے گرمیت کے پرائیویٹ کمانڈو ہتھیار اور رائفل لہراتے چل رہے تھے۔ پرائیویٹ فائر بریگیڈ کی جو گاڑیاں اس قافلے میں شامل تھیں اگلے دن اس کی تلاشی ہوئی تو اس میںپانی کے بجائے تیز جلنے والا کیمیکل بھرا تھا۔ گرمیت کے جو ہتھیار بند غنڈے اسپیشل سی بی آئی عدالت سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں پہنچ چکے تھے ان میں سے دو تین پکڑے گئے تو انہوںنے بتایا کہ ان کی سازش گرمیت کے عدالت سے نکلنے کے بعد عدالت کی عمارت جج اور دیگر ملازمین کو جلانے کی تھی۔اسی لئے آگ بجھانے کی گاڑی میں تقریباً تین ہزار لیٹر تیزی سے جلنے والا کیمیکل لایاگیاتھا۔

کھٹر سرکار کے اشارے پر ہریانہ پولیس اور زیڈ سکیورٹی کے نام پر اسے ملے کمانڈواتنے بے لگام ہوچکے تھے کہ ملزم قراد دئے جانے باوجود بھی جب گرمیت کو جیل لے جایا جا رہا تھا تو اس نے اپنی گاڑی میں جانے کی بات کہی۔ اس موقع پر موجود کرنا ل زون کے آئی جی نے کہا نہیں۔سرکاری گاڑی میں ہی جانا پڑے گا تو ایک کمانڈو نے آئی جی کو تھپڑ ما ردیا اور سکیورٹی میں شامل کانسٹیبل نے آئی جی پر گولی چلا دی۔ ان کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بچ گئے۔پنچکلا سے مجرم گرمیت کو جس اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ روہتک کی سناریا جیل لے جایاگیا اس طرح کے ہیلی کاپٹر ملک میں صرف دو ہیں۔جو اڈانی گروپ کے پاس ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اڈانی گروپ کے اس ہیلی کاپٹر سے الیکشن مہم کے دوران مہینوں سفر کرتے رہتے ہیں۔اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ حرام کے ہیلی کاپٹر گرمیت کے لئے وزیراعظم نریندرمودی نے بھجوایاتھا؟بی جے پی لیڈران میں گرمیت کی خدمت کرنے کی ایسی ہوڑ لگی رہی ہے کہ اپنی فلم کے سلسلے میں وہ ممبئی گیا تو مہاراشٹر کے وزیراعلی دیویندر فڑنویس نے اس کی عزت افزائی کیلئے اسے ’ورسٹائلسپرسنالٹی‘ ایوارڈ دینے کا بھاری بھرکم جلسہ کر ڈالا۔ جوکر قسم کے اس مجرم کی شخصیت میں کون سی ورسیٹلٹی فڑنویس کو دکھی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔