بہاربولا-بی جے پی بھگائیں گے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بہاربولا-بی جے پی بھگائیں گے</h1>

لالو یادو نے گاندھی میدان میں کی اپنے سیاسی زندگی کی سب سے بڑی ریلی

انوارالہدیٰ

پٹنہ! اگر عوامی بھیڑ کوئی سیاسی پیمانہ ہے تو ستائیس اگست کو گاندھی میدان میں لالو یادو نے جو ’بی جے پی ہٹاؤ ملک بچاؤ‘ ریلی کی اسے دیکھ کر یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہاں اب بی جے پی کی سیاسی زوال کا وقت آ گیا ہے۔ آدھے سے زیادہ بہار سیلاب کی زد میں ہے اس کے باوجود لالو یادو اور نوجوانوں کے درمیان ’آئیکان‘بن چکے ان کے بیٹے تیجسوی یادو کے بلانے پر اتنی بڑی تعداد میں لوگ پٹنہ آ گئے کہ گاندھی میدان بھی چھوٹا پڑ گیا۔ جتنے لوگ گاندھی میدان کے اندر تھے اس سے زیادہ لوگ میدان سے باہر اور پورے پٹنہ کی سڑکوں پر تھے ۔ ڈائس پر کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، سماج وادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، یونائیٹڈ مسلم فرنٹ، این سی پی، جھارکھنڈ وکاس مورچہ اور شرد یادو سمیت ان تمام سترہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندے موجود تھے جنہیں گذشتہ دنوں صدر کے الیکشن کے سلسلے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ایک  ڈائس پر اکٹھاکیاتھا۔ اس موقع پرکانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کا بھی خط پڑھ کر سنایاگیا۔ لالو یادو نے کہا کہ سونیا گاندھی بھی ریلی کی کامیابی کے لئے ایک پیغام بھیجاہے۔ اس ریلی میں شامل غلام نبی آزاد ہوں، ممتا بنرجی ہوں، اکھلیش یادو ہوں، طارق انور ہوں یا شرد یادو ہوں بھیڑ دیکھ کر سب کو یقین ہو گیا کہ اگر کوشش کی جائے اور عوام کو بی جے پی اور نریندر مودی کی حقیقت بتائی جائے تو۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں انہیں اکھاڑپھینکنا بہت مشکل کام نہیں ہوگا۔ اس ریلی سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ نتیش کمار نے لالو یادو، مہااگٹھ بندھن اور بہار کے عوام کے ساتھ بھلے ہی غداری کی ہو انہوں نے اپنی اس حرکت سے تیج پرتاپ اور تیجسوی کی شکل میں لالو جیسے ہی دو اور بی جے پی اور آر ایس ایس مخالف مضبوط لیڈر پیداکردئے۔آر جے ڈی صدر اور اس ریلی کے دولہا لالو پرساد یادو نے ’بی جے پی ہٹاؤ ملک بچاو‘ ریلی میں آئے ہوئے تمام کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار نے آپ لوگوں کی پیٹھ پر لات ماری ہے۔ یہ ریلی تین مہینے قبل راجپور میں ملک کی موجودہ حالات کودیکھتے ہوئے طے کی گئی تھی۔ اس وقت اتحاد تھا، جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ۲۷اگست کو ریلی کی جائے۔ اتوار ہونے کی وجہ سے اسکولوں اور کالجوں کی چھٹی  رہے گی۔ کس بھی پریشانی کا سامنا نہیں پڑیگا۔ لوگوں کو آج معلوم  ہو گا کہ آپ کی طاقت کتنی ہے۔ فاسسٹسٹ اورفرقہ پرست کو دہلی کی  گدی سے ہٹا نا ہے۔ جب مہا گٹھ بندھن کیا تھا تو مجھے پتہ تھا کہ نیتش کمار اچھا آدمی نہیں ہے۔ نتیش گنجی اور پتلون پہن کر کر  شردجی کے یہاں گھومتا تھا، آج یہ آدمی کہتا ہے کہ لالو یادو کو ہم نے بنایا۔ یہ انجینئرنگ کالج کے  طالب علم تھے، ایک کمرے میں رہتے تھے ۔ ہم توپٹنہ یونیورسٹی کے جنرل سکریٹری تھے۔ سبھی ذات اور  سماج کے لوگوں نے مجھے ووٹ دیا تھا۔نتیش کمار کا کوئی سوچ  اور اصول نہیں ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ نتیش کمار کومہااگٹھ بندھن کا لیڈرطے کر دیا جائے، تو میں نے کہا کہ آپ ہی کر  دیجئے۔ انتخابا ت کے دوران، اپنے اثر والی جگہوںپر ٹکٹ دئے۔ ہر جگہ گھوم کر گھوم کر مہم چلائی۔ ہمیں 80 نشستیں ملی ہیں۔ جنتا دل یونائیٹیڈ کو صرف 71۔ کچھ لوگوں نے ہم سے کہا کہ آپ کی پارٹی کو زیادہ نشستیں ملی ہیں، پھر کون وزیر ا علی بنے گا؟ میں نے کہا کہ میں اصول کا پکاہوں۔ نیتش کمار کوہی وزیر اعلی بنائیںگے۔ غریبوں نے میرے چہرے پر ووٹ دیا۔ ہم نیتش کو وزیراعلی بنایا،کہا کہ کام کرنے میںکوئی  پریشانی نہیں ہوگی۔ تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کو کہا کہ کوئی غلط کام نہیں ہونے پائے، اس کا خیال رکھنا۔تیجسوی کی وجہ سے جے پی پل وقت پر بن پایا۔ لیکن نیتش کو تیجسوی سے جلن ہو گئی۔ نتیش کو دلتوں سے بھی جلن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتش میرے گھر آئے اور کہا کہ ہمیں آشیرواد دیجئے۔ صرف اس بار وزیر اعلی بنادیجئے ۔ ہم نے بنادیا۔جب بن گیا تن پینترا لینے لگا۔ نتیش کو خطرہ تھاتیجسوی یادو سے ۔اس لئے دہلی جا کر نریندر مودی اور امت شاہ سے ملاقات کی۔ میرے اور میرے کنبہ کے خلاف سازش رچی۔ بہار کی بیٹی کی بیٹی میرا کمار کی بھی توہین کرنے کا کام کیا۔نیتش کمار کی سانٹھ گانٹھ بی جے پی سے چل رہی تھی۔ لوگ بولتے بھی تھے، لیکن ہم یہ کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن نتیش کمار نے دھوکہ دینے کا کام کیا۔ جس شرد یادو نے نتیش کو وزیر بنانے کا کام کیا، وہی نتیش آج  شردیادوکو گالیاں دے رہے ہیں۔اپنی لمبی تقریر میں لالو یادو نے نتیش کمار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی نشانے پر رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پھانسی پر چڑھ جائیں گے لیکن بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی اور آر ایس ایس کے ساتھ کھڑا ہونے کا گناہ کبھی نہیں کریںگے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بار بار خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن وہ کسی بھی حالت میں ان بزدل فرقہ پرستوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ بھیڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس کو اتنی بڑی تعداد میں عوام کی حمایت حاصل ہو وہ ان  بزدلوں سے کیوں خوفزدہ  ہوگا۔

کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں پورے ملک کے لیڈران کا مجمع ہے۔ گزشتہ ۳-۴ سالوںسے اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کی۔ ہمیشہ ۱۸-۱۷پارٹی کے لیڈران نے شرکت کی۔یہ ملک کی پہلی عوامی میٹنگ ہے، جہاں دہلی کے بعد اتنی ساری پارٹیوں کے لیڈرموجود ہیں۔  یہ اتحاد جس کی بنیاد بہار سے رکھی گئی تھی۔ یہی منچ تھا، یہی لوگ تھے۔ ہمارے کانگریس کے صدراور نائب صدربھی موجود تھے۔ بہار کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم بہار کے۱۱ کروڑ عوام کی جانب سے حلف لیتے ہیں کہ عوام کو انصاف دینے کیلئے مہاگٹھ بندھن بنائیں گے۔جنتا دل یونائیٹیڈ،آرجے ڈی اور کانگریس نے مل کربی جے پی کو پٹخنی دی۔ وزیراعظم مودی اور ان کی کیبنیٹ کے سبھی لیڈران یہاں آئے ۔ بی جے پی کے لوگوں نے ۲۶  ہیلی کاپٹر اور ۶ ہوائی جہاز اڑائے، وہیں مہاگٹھ بندھن کے صرف۴ ہیلی کاپٹر۔ پیسوں کا کوئی حساب نہیں ۔ لیکن اس  پیسے کی طاقت کے ساتھ ہم نے لڑائی کی۱۱؍ کروڑ ہمارے بھائیوں نے ہمارا ساتھ دیا اور بی جے پی کو شکست دی لیکن جس منچ سے ہم نے وعدہ کیا تھا عوام کوانصاف دینے کااس منچ سے ایک آدمی غائب ہے وہ ہیں نتیش کمار۔نتیش کمار نے۱۱ کروڑ عوام کو دھوکہ دیا۔ ان کو ووٹ بی جے پی کو  بیچ دیا۔ آپ اصلی جدیو نہیں ہیں۔ اصلی جدیو شرد یادو ہیں۔ نیتش کمار کو دوبارہ انتخاب لڑنا چاہئے۔ ان کوحق نہیں ہے کہ شادی کسی اور کریں اور بھاگ کسی اورکے ساتھ جائیں۔ یہاںشادی ہوئی ہے۔ عدالت نے انہیں طلاق نہیں دی ہے۔ آپ سے تو ایک سال میں ہی دھوکہ ہوا۔ لیکن سوا کو کروڑ لوگوں کوبی جے پی نے دھوکہ دیا۔ نوجوانوں کو دھوکہ دیا۔ لڑکیوں کو دھوکہ دیا۔ بی جے پی والے بچو ںکے قاتل ہیں۔ جب  حادثہ ہوا تو سب سے  پہلے میں پہنچ گیا۔ لیکن بی جے پی اور اس کے وزیر اعلی نہیں  پہنچے۔آج سے دس سال پہلے جب بہارمیں سیلاب آیا تھا تو کانگریس حکومت نے۱۰۰۰ کروڑ روپے دیئے تھے لیکن آج مودی حکومت نے صرف ۵۰۰ کروڑ روپے دیئے ہیں۔ مودی سرکار کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ ان سے کوئی ڈرنیوالا نہیں ہے۔

کانگریس کے ہی سی پی جوشی نے بھی سونیا گاندھیکا ریکارڈیڈ پیغام اسٹیج پردکھایا۔ سونیا گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں سب کو یقین  دلاتی ہوں کہ ہم ’سماجی ذمہ داری‘ اور’ سروجن ہتائے اور سروجن سکھائے‘ کے راستے پرہمیں چلنا ہے۔یہ ریلی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کٹرتا کے بیج  نئے سرے سے بوئے جا رہاہیں۔ آج، ملک کی اقتدار میں بیٹھے لوگ چاہتے ہیں کہ عوام بیوقوف بنی رہے۔ بہار میں، رائے عامہ کی جس طرح  توہین ہوئی ہے، یہ پورے ملک  توہین ہے۔ یہ ریلی اس ریاست میں ہو رہی ہے جہاں چمپارن آندولن اور بھارت چھوڑو آندولن شروع ہوا تھا۔ ہمیں ایک ایسی حکومت کے خلاف ڈٹ کرکھڑا ہوناہے جو جھوٹے خوابوں کے ساتھ اقتدار میں آئی۔آپ ہی بتائیںکہ اس حکومت کو کتنے لوگوں نے روزگار دیا۔ الٹے روزگار چھین لیا گیا۔ بچوں کو ہسپتال میں جانیں جا رہی ہیں۔اقتدار کی پشت پناہی میں جھوٹی ذہنیت کو تھوپنے کاجو کام ہو رہا  ویسا کبھی نہیں ہوا۔آج یہ طے کرنے کا وقت آگیا ہے کہ ہم اتہاس کے کس دھاراپر چلیں گے ۔ جسے پاپو نے سکھایا تھا اور پوری دنیا میں باوقا ر شناخت بنائی ہے۔بھارت کی تکثیریت، ادارتا اور سالمیت کی ہم سب کو مل کرحفاظت کرنی ہے۔ آج کی ریلی میں الگ الگ انگلیوںکوایک کر کے مضبوط مٹھی بنا دیا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے، لوگ بہار اور بنگال دونوں جگہ کے لوگ پریشان ہیں۔ ہم کافی دکھی ہیں۔ جتنے لوگ میدان میں ہیںاس سے زیادہ باہر سڑک پر بھی لوگ ہیں۔ میں نے دیکھا کہ آپ  لوگ آ ئے اور چلے گئے، ایسا نہیں ہے۔ سبھی لوگ میدان میں موجود ہیں۔ آپ نے دل سے اس ریلی میں شرکت کی ہے۔اس سے پہلے، جب نیتش وزیر اعلی کے طور پر مقرر کیا گیا تھاتب میںآئی تھی لیکن ہم اس وقت نتیش جی کیلئے نہیں بہار کے  عوام کے لئے آئے تھے۔جب سی بی آئی نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارنے آئی تھی تو رابڑی نے ہمیں فون کر کے بولیں کس کیس میں کیوں آئی پتہ نہیں چلا۔ اسی وقت نیتش راج گیر چلے گئے۔بے ایمانی پر زیرو ٹولرینس کی بات کرنے والے نتیش نے سرجن گھوٹالے پر  کارروائی کیوںنہیں کی۔ سشیل مودی کو بھی اس بات کی پوری جانکاری تھی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی بی آئی اس معاملے کو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں جانچ کرے۔

لالو نے نیتش پر طنز کستے ہوئے کہا’ایگو چھونڑی بلکی،جنے دیکھی دہی چوڑا، او کے جا کے ہلکی‘۔یہ نیتش کمار کی آخری  پلٹی ہے۔ اس کے بعد وہ کبھی پلٹی نہیں مارسکتا ہے۔نیتش نے کہا کہ ہم شراب بند کر دیتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ آس پاس کے ریاستوں میں شراب بک رہی ہے۔ شراب آنا رکے گی کیسے۔حالت یہ ہے کہ گھرگھر شراب پہنچائی جا رہی ہے۔ ہم نے تاڑی پر سے  ٹیکس ہٹایا تھا کیونکہ یہ دلتوں اور پسماندہ لوگوں کے لئے آمدنی کا ایک ذریعہ تھا۔ لیکن نتیش کمار نے ان تمام دلتوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ شراب کے نام پر، چالیس ہزار سے زائد لوگ جیلوں میں ہیں۔ ان میں سے بہت سے  پسماندہ اور پچھڑے طبقات کے ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں کہ بہار میں سیلاب ہے اور لالو ریلی کر رہا ہے۔ سرجن اسکینڈل میں وپن کا نام کاجو آدمی  ہے وہ بی جے پی کے کسان سیل کا صدر ہے۔ اس کے علاوہ، بہت سے بی جے پی کے لیڈراس میں شامل ہیں۔ایک منڈل اس اسکینڈل کا گواہ تھا، اسے قتل کردیاگیا۔ یہ لڑائییہاں ختم ہونیوالی نہیں  ہے۔ اس کے بعد پورے ملک میں جائیں گے۔ ملک کو بچاناہے۔

رابڑی دیوی نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ سیلاب زدہ علاقوں سے بھی بہت سے لوگ ائے ہیں۔  اپنے اپنے پیسے خرچ کرکے۔ساتھ دینے کے لئے آپ لوگوں کابہت بہت شکریہ ۔آپ لالو پرساد جی کی طاقت بن رہے ہیں۔ بہارمیںجد وجہد کیجئے۔ ملک کو بچائیے۔ ملک ٹوٹنے کے کگار پر ہے۔ غریب آدمی سبھی کوستانے کام بھارت سرکار کر رہی ہے۔ یہ گاندھی میدان ہے، جہاں وزیر اعظم مودی میںآئے تھے، تو بم چھوٹ رہاتھا۔ یہ سب بہار کے لوگوں کو بدنام کرنے کے لئے بی جے پی کے لوگوںنے کیا تھا۔ تمام ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی  ایک ہوجائیں۔ بہار کو ہمیشہ آگے بڑھانے کا کام کریں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ۲ کروڑ لوگوں کو ملازمت دینے اور۱۵سے ۱۵ لاکھ تک دینے کا وعدہ  کئے تھے، لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ نتیش کمار کے ڈی این اے میںکھوٹ بتانے پر ناخن او ربال دہلی بھیجاگیا تھالیکن آج تک ڈی این اے رپورٹ کی جانچ نہیں آئی۔ ہم سب کو مل کر ملک کو بچانا ہے۔ بی جے پی کو بھگانا ہے۔نتیش کمار نے کہا کہ تیجسوی کی وجہ سے وہ منہ  دکھانے کے لائق نہیں ہیں۔ نتش کمارمیں خود سینکڑوں چھید ہیں۔ نتیش کمار قتل کے  ملزم ہیں۔ لالو جی پر چارہ گھوٹالہ کاالزام لگاتے ہیںخود سرجن گھوٹالے کئے ہیں۔نتیش کمار اور سشیل مودی جلد کرسی چھوڑیں۔ بی جے پی حکومت میں غریبوں کی آواز کو دبانیکاکام کیا جا رہا ہے۔غریب اور پچھڑوں کو ستایاجار ہا ہے ۔ لیکن ہم جن نائک کرپروریٹھاکور اور لوہیا جی کے خوابو ںکو پورا کرنے کیلئے ان کے بتائے ہوئے راستے پرچلیں گے۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ سب متحد ہوجائیں۔ بی جے پی آپس میں لڑوانا چاہتی ہے، ڈرانا چاہتا ہے، لیکن ہم ڈرنے والے نہیںہیں۔ جوبہارکی عوام کہے گی ہم وہی کریں گے۔نیتش کمار اکیلے انتخابات میں مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہے۔ اس لئے بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ ہم سب آپ  سب سے کہتے ہیں کہ آپ سب ایک ہو کر دنگائیوں کے خلاف ووٹ کیجئے۔بہارسے نیتش کمار کو بھی بھگائیے۔ آج بھارت میں ایک ایسی حکومت ہے جو کہتی ہے کہ کوئی بھی  تھوڑا آواز نکالے، تو اسے جیل میں ڈال دو۔ ہم نے بھی کہہ دیا ہے کہ دیکھتے ہیں تمہارے کتنی جیلیں ہیں۔ کتنے لوگوںکو جیل میں بھیجتے ہو؟ میں اس حکومت کو تین سال سے دیکھ رہی ہوں۔ صرف جھوٹ بولتی ہے ۔ بھگوان کو بھی اپنا ایجنڈابنالیا ہے۔ بے ایمانی کی بات کرتے ہیں،لیکن خود سب سے زیادہ بے ایمانی کرتے ہیں۔ آج نتیش نے لالو جی کو چھوڑا، لولا جی نے نہیں۔ آنے والے دنوں میں، بہار کی عوام نتیش کمار کو چھوڑ کر لالو جی کو ساتھ لے آئے گی۔ ہم لالوجی کی بات پر یقین کرتے ہیں۔ہمارے ملک کے غریبوں پر ظلم ہو رہا ہے ۔ اقلیتوں، ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف ظلم ہو رہا ہے ۔ کبھی بہار کے اوپر ہو رہا ہے تو کبھی بنگال تو کبھی یوپی ہے، تو کبھی لالو کے اوپر۔ لیکن سب سے زیادہ خطرہ ہندوستان کے اوپر ہے۔جب اندرا گاندھی کی حکومت نسبندی میں جا سکتی ہے تونوٹ بندی میںبی جے پی کی سرکار بھی جائے گی۔مال مہارا جا کا اور مرزا کھیلے ہولی۔ لالو پرساد کے نام پر ووٹ ملا اورنتیش کمارسرکاربنائیں بی جے پی کے ساتھ ۔ آنے والے دنوں میں عوام اس کا حساب لے گی۔ہمارے یہاںبنگال  میںہمیشہ فساد کرانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن خود سے ایک فساد نہیں سنبھلتا ہے۔ ان کے پاس آرمی ہے،ہم توکہتے ہیں، مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے،وہی ہوتا ہے جو منظور خداہوتا ہے۔ ہم کو گالی دیتا ہے کہ ہم ہندو نہیں ہیں۔ ارے، ہم ہند میںپیدا ہوئے ہیں، یہ سرٹیفکیٹ وہ کیا دیں گے۔ رہا گلشن تو ہوا کھلیں گے، رہا جد وجہد توبی جے پی جائے گی۔بات ۲۰۲۲کی کرتے ہیں۔ آپ پہلے ۲۰۱۹تو جیتو۔ اچھے د ن کی بات کرتے ہیں۔  ارہے ہندو نہیں رہے گا،مسلم نہیں رہے گاتو کس کے اچھے دن آئیں گے۔ صرف تقریریں کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ہماری جد وجہدجاری رہے گی۔ یہ توآغاز ہے، ملک سے بی جے پی کو بھگانے کے لئے۔

تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ ہمارے والد نے نیتش کمار کا نام پلٹورام رکھاہے اور سشیل مودی جو آکے سلٹا دیتے ہیں۔ ایک گھنٹے میں کھیلا کرنے کا کام کیا۔ راتوں رات نتیش کمار اور سشیل مودی بیاہ کر لیتے ہیں۔ آج جوہمارا دل گد گد ہوگیا میرے بھائی۔ میں سوؤنگا نہیں ،سانس نہیں لونگاجب تک بی جے پی کے  راج چھین نہیں لونگا۔ آر جے ڈی کی ریلی کو بھگوان کرشن بھی دیکھ رہے ہیں۔ موسم بھی ہمارے ساتھ ہے۔ میرا بھائی تیجسوی میرا ارجن ہے۔ آج میں شنکھ نادکرونگا جیسے بھگوان شری کرکشن نے کیا تھا۔ بی جے پی میں کوئی نیتا شنکھ نہیں بجا پائیگی نتیش کمار کی تو جان ہی نکل جائیگی ۔ پھر انہو ںنے شنکھ بجا کر بی جے پی کو وارننگ دی بولے اب لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوںکہ بی جے پی اور نیتش کمار کواکھاڑنا ہے کہ نہیں؟ نیتش کہتے تھے کہ مٹی میں مل جاؤنگالیکن وہ آر ایس ایس کے ساتھ نہیں جاؤنگا۔ لیکن آج اسی کی گود میں چلے  گئے۔آر ایس ایس والے ہاف پینٹ  پہنتے ہیں کیونکہ انکا دماغ ہاف ہے۔ ہماری تنظیم ڈی ایس ایس آر ایس ایس کے خلاف تمام لوگوں کو ساتھ  لانے کا کرے گی۔ ہندو، مسلمانوں، سکھ اور عیسائی  سب ساتھ رہیں گے۔

جنتا دل کے باغی لیڈر شرد یادو نے کہا کہ آج آج بہار میں پورے ملک کی طرف سے یہی جنگی ریلی رکھی گئی ہے۔ افسوس مجھے کہ ۴۴۰ لوگ جنہوں نے سیلا ب میں اپنی جان گنوائی۔ جب کوسی کا زلزلہ آیاتھا تب میں وہاں کا اس وقت لوک سبھا رکن تھا، پھر کانگریس حکومت نے ۱۰۰۰ کروڑ روپے دیئے تھے۔ امید کرتاہوں ایسے بھارت کی تعمیر ہو، جہاں  اس طرح سے کسی کی جان نہ جائے۔ یہ ہماری زندگی کا ایسا دور ہے، جب سایہ بھی ہمارے خلاف ہے۔ پورا ملک یہاں بیٹھا تھا، یہاں کے غریب لوگوںنے ہم سے زیادہ محنت کی۔ اسی  اسٹیج پر، بی جے پی کے خلاف ایک مہا گٹھ بندھن بناتھا۔ ایسا انقلاب کیا جو لوگ سوچتے تھے کوئی ہمارا رتھ روک نہیں سکتا، بہار کے لوگوںنے اسے بری طرح سے پٹحنی دی تھی۔ اس وقت جس حالت میںملک ہے، وہ بہت ہی براہے۔ ایک طرف ملک میںکسان خودکشی کر رہے ہیں، دوسری طرف کسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ لیکن بہار کی عوام نے،یہاں کے کسانو ںنے آج جو مظاہرہ کی اس سے پوری سرکار ہل گئی ۔ بہار میںمہا گٹھ بندھن توڑنے والوں کو میں زیادہ کچھ نہیں کہونگا۔ گٹھ بندھن ٹوٹنے کا زخم دل پر ہے لیکن یہ جان لیں کہ پورے ملک میں گٹھ بندھن بنے گا۔ شرد یادو نے کہا کہ ہریانہ میںجو کچھ ہوا پورا ملک اسے دیکھ رہا ہے۔ ٹرینیں جلائیں گئیں،لوگوں کے گھروں پر حملے کے گئے بسیں او رپرائیویٹ کاریں جلائیں گئیںلوگوں کا قتل کیاگیا یہ کس کی غلطی سے ہواجو لوگ وہاں سرکار میںہیں ان کی غلطی سے ہوا۔سرکار میں بیٹھے لوگ اس بابا کے پاؤں چھوتے تھے اور اس کے ساتھ تصویریں کھنچواتے تھے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کئی لوگوں کو وزیر اعلی بنوایا لیکن خود کبھی کرسی پر قابض ہونے کی خواہش نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے عوام کی خدمت کی ہے عوام سے بڑا مالک جمہوریت میں کوئی نہیں ہوتا۔ہمیں ستر سالوں کے بھارت کو پانچ سالوں میں تبدیل کرنا ہے۔سیاسی جنگ کا وقت آگیاہے انقلاب کا وقت آگیا ہے۔بہار کے عوام کو اب ایک نیا انقلاب لانا ہے۔

جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہمینت سورین نے کہا کہ اس تاریخی میدان سے ملک کوبچانے کی آواز نکلی ہے۔ ہم اس آواز کو  اٹھانے والے لالو یادو کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ عوامی سیلاب بی جے پی سرکار کے خلاف غصہ ہے۔ نوجوان ساتھیوں سے کہونگاکہ ہمارے بزرگوں نے ملک کی ایکتا اور سالمیت کو بچانے کے لئے  کافی محنت کیا ہے۔ لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کے اقتدارپرفرقہ پرست طاقت ہے جواسے توڑنے میں لگی ہے۔دلتوں سے دلتو ںاور پسماندہ سے پسماندہ کو لڑانے کا کام کر رہی ہے۔ آج  ڈیجیٹل انڈیا کی حکومت میںروزانہ۱۹ کروڑافراد بھوکے سوتے  ہیں ۔ یہ لوگ آج تک ساٹھ ہزارروزگار ہی پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں جتنی بھی باتیں کہیں تھیں وہ جملہ ثابت ہو ئیں۔کھاتے میں ۱۵لاکھ دینے کی بات کہی تھی لیکن پیسہ تو آیا نہیں گھر کا بھی یپسہ نکلوا لیا۔ہمارا ملک زراعت پر مبنی ملک ہے۔لیکن کہیں کسان سڑکوں پر سبزی پھینکنے کو مجبور ہیں تو کہیں دودوھ پھینک رہے ہیں۔آج یہ ملک عجیب حالات سے گزر رہا ہے۔ملک عجیب بھنور میں پھنس گیا ہے۔اس کو نکالنے کی ضرورت ہے۔امید ہے کہ ہم سب ایک ساتھ مل کرملک کو ہر بھنور سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔ بی جے پی کو گوا سے لے کر پورے ملک میں کہیں بھی اکثریت نہیں ملی۔ لیکن بی جے پی سرکار بناتی ہے۔یہ دھرم کے لٹیرے ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے بھی لٹیرے ہیں۔ ان’ دیش دروہیوں‘ اور ’راشٹر دروہیوں‘ کو جواب دینا ہو گا۔ آج پورے ملک میں غصہ ہے۔دلتوں ،پچھڑو ںکو ستایا جا رہا ہے۔گجرات میں دلتوں کو ننگا کر کے پیٹا جار ہا ہے۔ آوازاٹھانے پر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔یہ ویاپار یوں کی پارٹی ہے۔چانکیہ نے کہاتھا کہ جس ملک کا راجا ویاپاری  ہوتاہے اس ملک کی رعایا بھکاری ہوتی ہے۔ آج ہم ان ویاپاریوں کو ملک کی اقتدار سے ہٹانے کاعہد کرنا ہوگا۔

سماجوی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ قابل احترام لالو یاد وکو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ یہ جو عوامی سیلاب دکھائی دے رہا ہے یہ سب ڈیجیٹل انڈیا والی پارٹی بی جے پی والے بھی دیکھ رہے ہیں۔یہ آواز گیارہ کروڑ عوام کی آواز ہے۔اترپردیش ۲۲کروڑ کا ہے۔آپ کی آواز سے آواز ملا دے گا بنگال سے بھی آواز نکلے گی کہ ہمیں ملک بچانا ہے۔ہم ملک اس لئے بچانا چاہتے ہیں کیونکہ انہو ںنے ملک کو پیچھے کر دیا۔غریبوں،کسانوں کو سب سے زیادہ پریشانی ہوئی۔اب تو تین سال گزر گئے ہیں اب تو سمجھا دو کہ اچھے دن کب آئیں گے۔ہم بہار کے عوام سے پوچھیں گے کہ تین سال میں ان کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئی ہے؟نوجوانوں کو تو کچھ ملا نہیں اور ملے گا بھی نہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ہم موبائل میںکچھ پھیلا دیں گے،ٹی وی پر کچھ پھیلا دیں گے۔ یہ تو بھلا ہوا جمہوریت کے چکر میں سب کچھ سامنے آنے لگاہے ۔ آپ ہی بتاؤ کہ کہاں ہیں بھگوان،ہم وہیں جھک جائیں گے۔کہیں چوری ہو جائے ،ڈکیتی ہو جائے،لیکن پیڑ سے ٹنگا گھنٹہ آج تک چوری نہیں ہوتا دیکھا۔ہمارے ملک میں آبادی بہت بڑی ہو گئی ہے۔انہو ںنے کہا کہ نوٹ بندی سے بے ایمانی ختم ہو جائے گی،دہشت گردی ختم ہو جائیگی۔ہم بہار کی عوام سے پوچھناچاہتے ہیں کہ آخر کسے فائدہ ہوا۔ہم پہلے سے ہی کہتے ہیں کہ پیسہ کالا یا سفید نہیں ہوتا۔لین دین کے طریقے سے ہوتا ہے۔نوٹ بندی بینکوں میں پیسہ واپس لانے کیلئے کی گئی۔بہار میں سیلاب آیا ہے۔یوپی میںسیلاب آیا ہے۔پیکیج دیا گیا ہے۔لیکن جن کی جان چلی گئی،جن کی گائے بہ گئی ان کا کیا ہوگا۔نیو انڈیا والے پتہ نہیں کون سا بھارت بنانا چاہتے ہیں۔ہم تو کسانوں اور نوجوانو ںکا بھارت بنانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اترپردیش میں کام بھی کیا ہے۔اترپردیش میں سماجوادی لوگوں نے سب سے بڑا ایکسپریس وے بنا کر دکھا یا ہے۔ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرنے والو ںنے ہماری اسکیم چرا لی ہے۔ہم یو پی میں فری موبائل دیناچاہتے تھے لیکن آج کوئی کمپنی فری میں دینے والی ہے۔ بہار کی زمین انقلابی زمین ہے۔ جب یہ زمین رتھ روک سکتی ہے تو بی جے پی کو بھی روک سکتی ہے۔آپ کو روک کر دکھانا ہے۔ہمارے اوپر بھی جانچ ہو رہی ہے۔ہمارے یہاں رومیو کو پکڑا جا رہا ہے۔ لیکن یہ تو بتا دو سب سے زیادہ کس پارٹی کے رومیو کو پکڑا جار ہا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ملک بنے کہ کسانوں ،نوجوانوں سب کو حق ملے۔ آج تو آدھار بن گیا ہے۔ ملک میں ۸۰فیصد تک آدھار بن گیا ہے۔جو کچھ حساب کتاب لگانا ہے تو آدھار سے لگاؤ۔سب کو حق دو۔گنتی آپ کے پاس ہے۔سب کو ان کا حق دو۔بہار کے لوگو ں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ سب اس لڑائی میں ہمارا ساتھ دیں۔ بی جے پی کو بھگانے کا کام کریں۔

راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری نے کہا کہ یہ مہا ریلی نہیں ہے ریلا ہے ریلا۔ہم بہار کے عوام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔سبھی لوگ لالو کے ساتھ کھڑے ہیں۔پورے ملک میں جب جب سماجی انقلاب آیا ہے اس کی چنگاری بہار سے ہی نکلی ہے۔ چمپارن سے راج کمار شکل جی، سوامی سہجانند جی وغیرہ نے جو چنگاری جلائی وہ سب لوگ جانتے ہیں۔ آج دوبارہ وہی حالات ہیں۔ملک میں لوگوں کو بولنے نہیں دیا جار ہا ہے۔وقت آگیا ہے سوال پوچھنے کا۔تیجسوی نے آج سارے سوال جنتا کی عدالت میں رکھے ہیں۔ تیجسوی جی آپ نے کہا کہا کہ آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔نتیش کمار نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیاہے۔مودی سرکار نے وعدہ کیا تھاکہ دو کروڑ لوگوں کو روزگار دیں گے لیکن نہ تو لوگوں کو روزگا ملا او رنہ ہی ان کے کھاتے میں پیسے آئے۔نوٹ بندی کے بعد معاشی حالات چوپٹ ہو گئی۔ غریبوں اور مزدوروں کا روزگار چھین لیا۔گورکھپور کا واقعہ کوئی نہیں بھول سکتا ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ قدرتی آفت ہے یہ آفت نہیں قتل ہے۔بہار کے لوگ سمجھدار ہیں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بہار کے سپوت دن کر جی نے جو کہا تھاکہ سنہاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے۔

این سی پی کے طارق انور نے کہا ملک ایسے راستے پر چل رہا ہے جس نے آنے والے دنو ںمیں ایکتا اورسالمیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔لوگ ڈرے ہوئے ہیں ہم سب کو ایک ساتھ آکر پورے ملک سے بی جے پی کو بھگانا ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ سیلاب کے باوجود بھی جو جوش اور جنون دکھ رہا ہے اس کیلئے آپ سب کا شکریہ۔ آپ سب کہیں تو اپنے چچا نتیش کا بھی ہاتھ جوڑ کرپرنام کرتے ہیں۔ہمارے پریوارنے بڑے بزرگوں کی عزت کرنا سکھایا ہے۔وہ ہمارے چاچا ہیں اور رہیں گے لیکن اب اچھے چاچا نہیں رہے۔نیتش جی ہمارا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔لیکن مہا گٹھ بنددھن نہیں ٹوٹا۔ اصلی جنتا دل یونائیٹیڈ کے نیتا ہمارا چاچا شرد یادو ہیں ہمارے چچا نتیش کی آج سے الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ہم نوجوان چاہتے ہیں کہ آپ لوگ ہر ہر مودی گھر گھر مودی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ وہ بڑ بڑ مودی اور گڑ بڑ مودی نکلا ہے۔ آپ سب لوگ جانتے ہیں چاچا نتیش نے کہا تھا کہ سنگھ مکت بھارت بنائیں گے لیکن آج سنگھ کی گود میں جا کر بیٹھ گئے ہیں۔ہے رام کی جگہ جے شری رام کہنے لگے گاندھی کے قاتل کے ساتھ جاملے۔ہم بھاگلپور گئے تو دفعہ ۱۴۴ لگا دیا۔ہمارے رکنے تک کاانتظام نہیں ہونے دیاگیا۔ یہ لوگ ڈرے ہوئے لوگ ہیں۔جمہوریت کی ڈکیتی ہے۔سرجن گھوٹالے میں جنتا دل یو نائیٹیڈ اور بی جے پی لیڈر شامل ہیں ۔وزیراعلی پر آرمس ایکٹ او رقتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے ۲۰ہزار کرجرمانہ لگا دیا ہے۔انہو ںنے کہا کہ تیجسوی تو بہانہ تھا ،سرجن کو چھپانا تھا،بی جے پی کی گود میں جانا تھا۔ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔لالو جی کا خون ہیں۔ ان لوگوں نے جو بے ایمانی کی ہے وہ سب سامنے آئے گا۔یہ تو صرف ایک ضلع کا ہے۔کچھ دن پہلے نتیش بھاگلپور گئے تھے تا کہ سارے ثبوتوںکو مٹادیاجائے۔ سرجن میںبھی دو موتیں ہو چکی ہیں۔ جو اصلی ملز م تھا اس کی پراثرار طریقے سے موت ہو گئی۔ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اب آپ کی ضمیر کہاں گئی۔ کیا وہ مودی ضمیر تھا یا کرسی ضمیر تھا۔نتیش کمار نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کیا ہے۔عوامی رائے کی توہین کرنے کا کام کیا ہے۔یہ عوامی سیلاب اسی توہین کا انتقام لینے آئی ہے۔وزیر اعظم مودی نے بہار کے ڈی این ا ے پر سوال اٹھایاتھانتیش جی اور ان کے لوگوں نے بال اور ناخن کاٹ کر دہلی بھیجے تھے کیا ہوااس ڈی این اے کی جانچ کا اسے پھر سے دہلی سے لاکر پٹنہ کے میوزیم میں رکھ دیا جائے۔آج ہم بی جے پی کے لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ لوگوں نے بھی گھوٹالہ کیا تھا جو آپ کو وزارت سے ہٹا دیاگیاتھا۔نتیش کمار جی نے سبھی لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔بی جے پی کے لوگ ابھی ہی ایف ای ڈیوڈ پر لکھوا لیں کہ وہ پھر سے پلٹی نہیںماریں گے۔ایسا کوئی سگانہیں جسے نتیش نے ٹھگا نہیں۔جنتا اس  عوامی رائے کی توہین کا انتقام لے گی۔ہندستان کا میرا پہلا پریوار ہو گا جس کی تین تین پیڑھیوں نے سی بی آئی کا چھاپہ دیکھا۔ جب تک ہم ملک سے بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھگا نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔جس طرح شری کرشن بھگوان نے سداما  کی مدد کی تھی اسی طرح سے ہمیں کرشن بن کر پسماندہ،دلتوں اور سماج کے آخری پائیدان پر بیٹھے لوگوں کی مدد کرنی ہے۔تیجسوی نے عوام سے پوچھا کہ کیا ہم سب بے ایمان ہیں۔صحیح سے پہچان لیجئے کہ ایمانداری کا چونگا پہن کر بے ایمان آپ کو پھر سے ٹھگنے آئیگا۔لیکن آپ سب کو اس دھرم اور ادھرم کی لڑائی میں آپ سب دھرم پتر کو بچانے کا کام کریں گے۔ملک بچانا ہے آپ کو ،بی جے پی کو بھگانا ہے آپ کو۔ہم جوڑنے کی بات کرتے ہیں یہ توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ہم انصاف کی بات کرتے ہیں یہ بے انصافی کی بات کرتے ہیں۔سب گول بند ہو جائیے۔ہمیں ساتھ مل کر لڑائی لڑنی ہے۔تیجسوی نے مرکزی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کارو ںکی سرکار ہے۔غریب کسانوں کا قرض معاف نہیں کریںگے اڈانی،امبانی کا قرض معاف کر دیں گے۔میں ہاتھ جوڑ کر وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ آپ ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگاردینے کا کام کیجئے غریبو ںکے کھاتے میں پندرہ -پندرہ لاکھ دینے کا کام کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منڈل او رکمنڈل کی لڑائی ہے۔غریب اور امیر کی لڑائی ہے۔سب ایک جٹ ہو کر لڑائی لڑیں میں قسم کھاتا ہوں کہ جب تک ان جملے بازوں کوبہار اور دہلی سے نہیں ہٹائیں گے تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ملک کو خطرہ ہے۔ اس غیر معمولی لہر کو دیکھو۔ آج مکمل بینڈریج مکمل ہے۔ ملک بھر سے رہنما آ چکے ہیں۔ ہم ساتھ مل کر بی جے پی کو ملک سے نکالنے کے لئے کام کریں گے۔ نوجوانوں کو روشن چمک بنانے کے لئے کام کرے گا۔

جھار کھنڈ وکاس مورچہ اور جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے کہا کہ ملک بحران کے دور سے گزرر ہا ہے۔ نریندرمودی کی سرکار نہ قانون کو مانتی ہے اور نہ ہی آئین کو۔ بولنے کی آزادی پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ہم کریں گے اور کیا لکھیںگے سب وہی طے کرنے لگے ہیں۔اگر ان کے من مطابق کام نہیں کریں گے تو سی بی آئی کا چھاپہ مروا دیں گے۔ جھارکھنڈ میں تو وہ یہ بھی طے کر چکے ہیں آپ کس بھگوان کی پوجاکریں گے۔آپ بنا پوچھے کہیں جا نہیں سکتے۔ جھارکھنڈ میں کسان بی جے پی سرکار کی مرضی کے بنا کھیتی بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم سب جمہوریت کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک ساتھ آکر آگے بڑھنا ہو گا۔بی جے پی سرکار کوپورے ملک سے بھگانا ہو گا۔ تبھی جمہوریت زندہ رہے گی۔

آر جے ڈی نیتا رگھونش پرساد سنگھ نے کہا کہ ہر جگہ بی جے پی پیسوں کاکھیل کر رہی ہے ۔گجرات میںجب کانگریسی پیسے سے نہ بکے اور بنگلور میں جا کر رک گئے تو وہاں بھی نریندرمودی نے چھاپہ پڑوا دیا۔جب بہار میں لالو یادو نے مہا گٹھ بندھن بنا کر بی جے پی مخالف خیموں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تو یہاں بھی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔نتیش کمار نے عوام کہ ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ نتیش کی سرکار غیراخلاقی سرکار ہے اس سرکار کو ہٹنا چاہئے۔لمبا آندولن چلے گا۔عوامی رائے کے ساتھ دھوکے بازی ہوئی اخلاقیات کا گلہ گھونٹ دیاگیا۔ آج بھی بی جے پی کی حکومت میں کروڑوں لوگوں کاروزگا چھین لیا۔پڑھائی چوپٹ ہے۔ اسکول کالج میںٹیچر نہیں ہیں۔اسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کسانوں پر گولیاں چلوائی گئیں۔کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ ملک پر خطرہ ہے۔یہ عوامی سیلاب کو دیکھو۔آج پورا پٹنہ بھراہوا ہے۔ پورے ملک کے نیتا لوگ آئے ہوئے ہیں۔ہم سب مل کر بی جے پی ملک کو بھگانے کا کام کریں گے۔نوجوانو ںکا روشن مستقبل بنانے کا کام کریں گے۔