بوانامیںنہیںچلا مودی کاجادو

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بوانامیںنہیںچلا مودی کاجادو</h1>

نئی دہلی! بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی تمام کوششوں کے باوجود نئی دہلی کے بوانا اسمبل حلقے کے عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پالیسیوںکو ٹھکرا دیا۔ اپنے بھوجپوری گانوں کے ذریعے لوگوں کا دل بہلانے والے دہلی ریاستی بی جے پی کے صدر منوج تیواری بھی بوانا کے عوام کا دل بہلانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کافلمی انداز اور بڑ بولا پن بھی کسی کام نہیں آیا۔ اس بائی  الیکشن میں جیتنے والے عام آدمی پارٹی کے رام چندر کو ملے ۵۹ ہزار۸۸۶ ووٹوں کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ویدپرکاش کو ملے ۳۵ ہزار۸۳۴ ووٹوں پر ایک نظر ڈالنے اور دونوں کے درمیان ۲۴ ہزار سے بھی زیادہ ووٹوں کا فرق اس بات کا  ثبوت ہے کہ دہلی کی عوام نے ایک بار پھر نریندر مودی اور ان کی بڑی بڑی لچھے دار باتو ںکو نا پسند کیا ہے۔ اگر بی جے پی امیدوار کو ہزار دو ہزار ووٹوں سے شکست ملتی تب بھی پارٹی کے لئے آنسو پوچھنے کا ایک موقع رہتا، لیکن تمام طاقت اور بیشمار پیسہ جھونکنے کے باوجود پارٹی امیدوار چوبیس ہزار سے بھی زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ یقینا جمہوریت میں یہ واقعہ بی جے پی کیلئے شرمناک ہی کہاجائے گا۔

یاد رہے کہ پچھلے اسمبلی انتخابات میں، وید پرکاش عام آدمی کے ٹکٹ پراس حلقے سے جیتے تھے ۔ کچھ دنوں قبل، ان کے اندر آر ایس ایس پھر بیدار ہو گیا اورانہوں نے اسمبلی سیٹ او رعام آدمی پارٹی دونوں سے استعفیٰ دے کر بی جے پی کا دامن تھام  لیا۔بائی الیکشن ہوا تو بی جے پی نے انہیں اپناامیدوار بنا دیا۔ ان کے مقابلے عام آدمی پارٹی نے رام چندر کو میدان میں اتارا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پوری طاقت لگا دی پارٹی کے کئی سینئر لیڈر بھی بوانا کی گلیوں کی خاک چھانتے رہے لیکن عوام پر کوئی اثر نہیں ڈال سکے۔ اس  بائی الیکشن میں بہت سارا پیسہ خرچ کیاگیا۔ بوانا کے عوام نے ویدپرکاش کوکو دل بدلو اور فرقہ پرست کہہ کر انہیں تو ٹھکرایاہی ان کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی سیاسی اعتبار سے ٹھکرا ہی دیا ۔ ۲۰۱۳ سے، بھارتی جنتا پارٹی کا مطلب صرف  اور صر ف نریندر مودی  ہو گیا ہے۔ پارٹی اور پارٹی کے تمام فیصلے انہی کی مرضی سے ہوتے ہیں ۔اس بائی الیکشن میں بھی بی جے پی نے صرف نریندر مودی کو ہی فوکس کر کے پوری انتخابی مہم چلائی تھی۔اس بائی الیکشن میں کانگریس تیسرے نمبر پر رہی، صرف ۳۱ ہزار نو سو انیس ووٹ ہی ملے۔