نتیش پرغالب مودی کا خوف

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>نتیش پرغالب مودی کا خوف</h1>

پٹنہ:۲۰۱۴کے لوک سبھاالیکشن کے نتیجوں سے نریندر مودی کو ملی کامیابی سے سب سے زیادہ خوف زدہ نتیش کمار ہی ہوئے تھے اس لئے کہ نتیش کمار کو اچھی طرح معلوم ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کو کامیابی دلانا تو دور وہ بہار کے کسی بھی اسمبلی حلقے سے خود ہی لڑکر الیکشن نہیں جیت سکتے ہیں۔انہوںنے شرد یادو اور ملائم سنگھ یادو کی پہل پر ۲۰۱۵میں مہا گٹھ بندھن میں شامل تو ہو گئے تھے لیکن اس وقت بھی وہ اندر خانے آرا یس ایس لیڈارن سے ملے ہوئے ہی تھی۔خبر ہے کہ آر ایس ایس لیڈران اور نتیش کے درمیان اترپردیش کاڈر کے دو ریٹائرڈ آئی اے ایس افسران پل کا کام کر رہے تھے۔ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت آرایس ا یس اور نریندر مودی نے رام گوپال یادو کو استعمال کر کے شروع میں ہی ملائم سنگھ یادو اور ان کی پارٹی کو ’مہا گٹھ بندھن‘ سے الگ کرا لیاتھا۔لیکن نتیش کو لالو یادو،کانگریس اور بہار کے عوام کو مناسب موقع پر ٹھگنے کیلئے چھوڑ کھا تھا۔ ۲۰۱۵کے بہاراسمبلی الیکشن میںلالویادو کی اسپیشل انجینئرنگ کی طاقت سے گٹھ بندھن جیتا تو نریندر مودی اپنی شکست برداشت نہیں کرسکے۔ جو دو ریٹائرڈ آئی اے ایس افسران نریندرمودی ،آر ا یس ایس او رنتیش کمار کے درمیان پل بنے ہوئے تھے وہ وویکانند فاؤنڈیشن میں بیٹھ کر ہی گٹھ بندھن اور سیکولر طاقتوں کے خلاف سازش رچنے کاکام کیاکرتے تھے۔ان میں سے ایک کا کام نتیش کیلئے کالے دھندوں اور ڈیل کراکر پیسے کموانے کا بھی بتایا گیاہے۔خود کو ایماندری کی علامت بتانے والے نتیش کمار در اصل اسی افسران کے ذریعہ پیسہ کماتے ہیں۔یہ سلسلہ تبھی سے جاری ہے جب نتیش کمار واجپئی سرکارمیں ریلوے منسٹرتھے۔۲۰۱۳تک نتیش کمار نے کافی پیسہ اکٹھا کر لیا تھا اور انہیں یہ غلط فہمی بھی ہو چکی تھی کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے اگلے وزیر اعظم کا چہرہ بن سکتے ہیں اسی لئے جب بی جے پی نے ۲۰۱۳کے اپنے گووا اجلاس میں نریندر مودی کو وزیراعظم کے طور پر پروجیکٹ کرنے کااعلان کیا تو نتیش کمار بھڑک گئے اور بی جے پی سے انہو ںنے تقریباً سولہ سالہ پرانا رشتہ توڑ لیا۔دہلی میں نتیش کے کچھ نزدیکیوں کا کہنا تھا کہ اس وقت تک نتیش کمار بہار کے مبینہ ایماندار وزیر اعلی کی جو تصویر بنائی تھی اس کے ذریعہ انہیں اگلا وزیراعظم بننے کایقین ہو چکا تھا۔انہو ںنے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بھی اپنے جال میں پھانس لیاتھا۔ اس وقت تک ا نہیں یہ یقین تھا کہ نریندرمودی ملک کے کٹر پنتھی ہندوؤںمیںمسلم مخالف برانڈبن چکے ہیں۔ ۲۰۱۴میں مودی کی کامیابی نے نتیش کمارکو اور بھی زیادہ خوف زدہ کر دیا۔دہلی کے سبھی راستے بند ہوجانے کی وجہ سے انہوں نے طے کر لیا کہ اب کسی بھی قیمت پر بہار کا اقتدارہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔۲۰۱۵میں بہار کے اسمبلی الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں لالو کے ہونے کے باوجود لالویادو نے نتیش پر اتنا بھروسہ کیاکہ وزیراعلی اور اسمبلی اسپیکر دونوںہی عہدے نتیش کی پارٹی کو دے دیئے۔ لالو جتنے اچھے سیاست داں اور سوشل انجینئرنگ کے ماہر ہیں دل کے معاملے میں اتنے ماہر نہیں ہیں۔دل صاف ہونے کی وجہ سے ا نہوں نے اسپیکر کاعہدہ بھی نتیش کی پارٹی کو سونپ کر پورے پانچ سال تک ان کے اشاروں پر ناچتے، کبھی دھوکہ دینے کی ہمت نے کرپاتے۔ نتیش کمار بھلے ہی بیس مہینے پہلے گٹھ بندھن کی کے وزیر اعلی بن گئے تھے مگرپہلے دن سے ہی انہو ںنے آر ا یس ایس لیڈران سے سانٹھ گانٹھ کرکے لالویادو کو سیاسی چوٹ پہنچنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔جدید مرکز کوپختہ خبر ہے کہ جس دن وویکا نند فاؤنڈیشن کے دفتر میں نتیش کمار کے نزدیکی ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر نے آر ایس ایس لیڈران کے ساتھ بیٹھ کر لالو یادو اور ان کے کنبے کے خلاف سی بی آئی ،انکم ٹیکس محکمے اور انفورسمنٹ ،ڈائریکٹریٹ کو استعمال کرنے کافیصلہ کیا اس دن نتیش بھی بہار بھون میں موجود تھے۔اور فون پر مسلسل میٹنگ میں موجود لوگوں کے رابطے میں تھے۔ لالو کنبے کے خلاف لکھوائی جانے والی ایف آئی آر میںتیجسوی کا نام شامل کرانے کامشورہ نتیش کمار کا ہی تھا تاکہ لالو کنبے کی جانب سے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں کوئی نہ رہ سکے۔

نتیش کمار نے ایمانداری کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ بھی فرضی اور بناوٹی بتایاجاتا ہے۔ خبریں تو یہاں تک مل رہی ہیں کہ انہوں نے موٹی موٹی کمائی کیلئے ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر کو اپنی ناک کا بال بنارکھا ہے۔ اس افسر کے ذریعہ پیسہ کمانے کا ان کا سلسلہ ریلوے منسٹری سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ایک اطلاع کے مطابق ریلوے منسٹر کی حیثیت سے انہو ںنے جو کارنامے کئے تھے ان کی تفصیل اب وزیراعظم نریندرمودی کے ہاتھوں تک پہنچ چکی ہے اسی لئے نتیش مودی کے سامنے بھیگی بلی کی طرح دم ہلانے کومجبور ہیں۔ بے شرمی او راخلاقی بے ایمانی کاعالم یہ ہے کہ جن نریندرمودی کو وہ پانی پی پی کر کوستے تھے اور ان کامذاق اڑاتے رہے اب ا نہیں مودی کیلئے کہنے لگے کہ ۲۰۱۹کے لوک سبھاالیکشن میں مودی اور بھی زیادہ سیٹیں جیت کر واپسی کریں گے۔کہنے لگے ملک میں نریندر مودی کے مقابلے کا کوئی دوسرا لیڈر ہے ہی نہیں نہ آنیوالے سالوں میں کوئی ان کامقابلہ کر سکے گا۔مودی بھکتی کاان کا یہ حال تب ہے جب خبر لکھے جانے تک وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے ملاقات تک نہیں کی تھی کہ بی جے پی کے تیسرے درجے کے لیڈر ہی نتیش کے رابطے  میں رہے ہیں۔

جہاں تک ایمانداری کا سوال ہے وہ بھی نتیش کا ڈھونگ  ہی ہے۔اگر وہ ایماندار ہوتے تو بہار کے عوام کاووٹ لے کر ان کے ساتھ بے ایمانی نہ کرتے اور اسی بی جے پی کی گودمیں نہ بیٹھتے جس بی جے پی کے خلاف بہار کے لوگوں نے انہیں اور گٹھ بندھن کوووٹ دے کر انہیں اقتدار سونپا تھا۔دماغی خرابی کا عالم یہ ہے کہ اب کہہ رہے ہیںکہ الیکشن میں مہا گٹھ بندھن کا چہرہ تووہی تھے انہیں کے ایماندار چہرے پر لوگوں نے ووٹ دئے۔ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اگر ان کے چہرے پر ووٹ ملا تھا تو برابر سیٹیں لڑ کر لالو ان سے زیادہ سیٹیں کیسے جیت گئے۔اگر ان کا چہرہ دیکھ کر گٹھ بندھن کو ووٹ ملا تھا تو جنتا دل یونائیٹیڈ کو کم سے کم نوے سیٹیں ملنی چاہئے تھیں دونوں پارٹیاں ۱۰۳-۱۰۳ سیٹوں پر لڑی تھیں نتیش صرف ۷۱ پر اور لالو ۸۰سیٹوں پر جیتے تھے۔

دہلی میں سیاسی حلقو ں میں یہ خبر بھی گرم ہے کہ ریلوے میں نتیش نے جو گھپلے کئے تھے ان کی تفصیل وز یراعظم نریندرمودی کے پاس بہار اسمبلی الیکشن کے وقت ہی پہنچ گئی تھی ا ور ا نہوں نے مناسب وقت پر اس کا استعمال کرنے کیلئے رکھ لیاتھا۔ اب خبر ہے کہ بڑی صفائی کے ساتھ مودی نے کہہ دیا تھا کہ و ہ نتیش سرکار برخاست کرا دیں گے۔نتیش اسی سے خوفزدہ ہو گئے اور تقریباً ایک سال سے وہ لالو اور کانگریس کے خلاف جو سازشیں کر رہے تھے ان پر فوراً عمل کردیا۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ نریندرمودی کو خوش کرنے کی غرض سے انہوںنے ہی اپنے پرانے ساتھی سشیل مودی کو لالو یادو اوران کے پریوار کے خلاف اہم دستاویز بھی دئے۔یہ دیگر بات ہے کہ ان دستاویزات میں کئی گڑھے ہوئے جھوٹ فرضی ہیں۔

اگر نتیش کے اندر ذرا بھی ایمان اور آتما نام کی کوئی چیز ہوتی تو بہار کے عوام کے ساتھ ھوکے بازی کرنے کے بجائے دوبارہ الیکشن میدان میں جانے کا فیصلہ کرتے۔ انہو ںنے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ پھر ان کی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی ٹوٹ کر لالو یادو کی مرضی کا کوئی وزیر اعلی بن جاتا پرپھر نتیش اپنی زندگی میں دوبارہ وزیراعلی کبھی نہ بن پاتے۔وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔توڑپھوڑ کے ذریعہ ۲۰۰۵میں ملی چیف منسٹری نہیں چھوڑسکتے۔ چیف منسٹری کے لئے اگر ان کے والد زندہ ہوتے تو انہیں بھی دھوکہ دے دیتے۔نتیش کمار عادتاً دھوکہ بازہیں۔ان کے ساتھ مل کر سمتا پارٹی بنانے والے جارج فرنانڈیز کو انہوںنے دھوکہ دیا،لالویادو کو دوسری بار دھوکہ دیاہے ۔ جنتا دل یونائیٹیڈ بنانے والے شردیادو کو دھوکہ دیا۔سونیا گاندھی ،راہل گاندھی سے دھوکے بازی کی سب سے زیادہ بہار کے عوام کو دھوکہ دیا۔بڑے تیاگی بن کر جتن رام مانجھی کو ۲۰۱۳میں انہو ںنے اپنی جگہ وزیراعلی بنوایا تھامگر بہت دنوں تک کرسی چھوڑ کر رہ نہیں سکے تومانجھی کو دھوکہ دے دیا۔

راہل گاندھی او رتیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش نے بہار کے عوام اور ان دونوں سے دھوکہ بازی کی تو نتیش نے اعلان کر دیاکہ وہ ایک ایک الزام کا جواب دیں گے۔ جواب تو ان کے پاس نہیں ہاں کوئی نیاجھوٹ ضرور بولیںگے۔ بے شرمی دکھائیں اور اسی طرح کا  جواب دیں گے کہ نریندرمودی بھگوان ہو چکے ہیں ان کے مقابلے آج ملک میںدوسرا کوئی لیڈر ہی نہیں ہے۔ ویسے جوڑی خوب بنی ہے ان کے مطابق مودی کے مقابلے آج ملک میں دوسراکوئی نہیں ہے تو بہار کے عوام کی زبان میں ان سے بڑا دھوکے باز،جھوٹ بولنے والا او رایمانداری کی ڈھونگ رچنے والا ملک میں دوسرا کوئی نہیں ہے۔

 

’’لالو کنبے کے خلاف انکم ٹیکس، سی بی آئی او ر انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کااستعمال کرنے کافیصلہ دہلی میں وویکانند فاؤنڈیشن کے دفترمیں ہوئی میٹنگ میں ہوا تھا بتایا جاتا ہے کہ میٹنگ میں آر ایس یس لیڈارن کے ساتھ نتیش کے ایک نزدیکی آئی اے ایس افسر بھی موجود تھے۔ اس وقت نتیش بھی دہلی میں تھے اور اپنے نزدیکی افسر کے ساتھ موبائل کے ذریعہ رابطے میں تھے۔رپورٹ میں تیجسوی کو بھی نامزد کرنے کا مشورہ نتیش کمار کا تھا تا کہ لالو کنبے میں ان کا مقابلہ کرنے کیلے لائق کوئی نہ رہ سکے‘‘۔

 

’’لا لویادو سیاست اور سوشل انجینئرنگ میں جتنے ماہر ہیں دل کے معاملے میں اتنے ہی کمزو رہیں۔فوراً کسی بھی بھروسہ کر لیتے ہیں۔اسی بھرو سے کی وجہ سے ا نہو ںنے نتیش کو اپنی آستین میں پالا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود وزیراعلی،ہوم منسٹر اور اسمبلی اسپیکر تینوںعہدے انہیں سونپ دئے۔اگر اسپیکر آر جے ڈی سے ہوتا تو نتیش کبھی بھی اتنی بڑی سازش نہیں کر پاتے۔ گٹھ جوڑسرکارمیںہر ریاست میں یہی فارمولارہا ہے کہ وزیراعلی،اسپیکر کا عہدہ اورہومن منسٹری ایک پارٹی کے پاس نہیں رہی ہے‘‘۔

نتیش کمار کتنی بھی لفاظی کیو ںنہ کریں بہار کی کسی بھی اسمبلی سیٹ سے وہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔دعویٰ کہ ان کے چہرے پر ہی گٹھ بندھن جیتا تھا اگر ان کے چہرے پر جیتتا تو لالو کی سیٹیں ان سے ز یادہ کیسے آگئیں۔ان کی ایمانداری بھی دکھاوٹی ہے۔ایک ریٹائرڈ آئی اے ا یس افسر کے ذریعہ ان کے پیسہ کمانے کی خبریں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلوے منسٹری کے دوران انہوںنے اپنے اس چہیتے افسر کے ذریعہ جو گھوٹالے کئے تھے ان کی تفصیل اب نریندر مودی کے ہاتھ لگ چکی ہے اسی  لئے وہ مودی کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں‘‘۔