دجانہ کے مارے جانے سے کشمیر میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>دجانہ کے مارے جانے سے کشمیر میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی</h1>

سری نگر:کشمیر وادی میں لشکر طیبہ کمانڈر ابو دجانہ کو ایک انکاؤنٹر میں مار گرائے جانے کے بعد سے وادی میںفی الحال پاکستانی پشت پناہی والی دہشت گردی کی کمر کافی حد تک ٹوٹ گئی ہے۔دجانہ کے مارے جانے کے ساتھ یہ بھی پتہ چل گیا کہ پاکستان سے آنے والے خطرنا ک دہشت گر د اور ان کے نزدیکی مقامی ساتھی کہنے کو تو مجاہد ہیں لیکن کشمیر وادی میں وہ لڑکیوں اور ان کے والدین کو دہشت زدہ کر کے زنابالجبر بھی کرتے ہیں۔ اپنی اسی عیاشی کی وجہ سے دجانہ بہت جلد سکیورٹی فورسیز کی زدمیں آگیا۔اس نے کشمیر آکر ایک لڑکی سے شادی کر رکھی تھی،تو ایک دوسری لڑکی کواپنی محبوبہ بنا کر اپنی جنسی غلامی میں رکھ رکھا تھا۔دجانہ ایک بہت ہی ظالم،خونخوار اور بے رحم قسم کا دہشت گرد تھا۔وہ پاکستان قبضے والے کشمیر کے گلگت بلتستان کا رہنے والا تھا۔ اسے دہشت گردی کی ٹریننگ دے کر لشکر طیبہ نے ۲۰۱۰ میں ہندستان میں داخل کرایاتھا۔۲۹اکتوبر ۲۰۱۵کو وادی میں پاکستان کی جانب سے تعینات لشکر کمانڈر قاسم کے ایک انکاؤنٹرمیں مارے جانے کے بعد ہی دجانہ کوکشمیر وادی میںلشکر کا کمانڈر بنایاگیاتھا۔

؎ابو دجانہ کا ا نکاؤنٹر اتفاق سے ایسے موقع پر ہوا جب پاکستان کی حامی ہوئی حریت لیڈران ٹیررفنڈنگ کے معاملے میں گرفتار ہو چکے ہیں جو گرفتاری سے بچ رہے وہ نظر بند ہیں۔ اس لئے ابو دجانہ کے مارے جانے سے وادی میں کوئی بڑا ہنگامہ بھی نہیں ہونے پایا۔ دجانہ پاکستان میں بیٹھے لشکر دہشت گرد اور او رہینڈلر سیف اللہ کا خصوصی گرگا تھا۔ سیف اللہ نے اسے کئی طرح کی ٹریننگ دلانے کے بعد ہی ۲۰۱۰میں کشمیر وادی میں تعینات کیاتھا۔وہ سکیورٹی فورسیز پر حملہ کر کے ا نہیں زخمی کرنے یا شہید کرنے کام زیادہ کرتا تھا۔موبائل  فون اور وائرلیس بات چیت کوریکارڈ کرنے کے فن میں بھی ابو دجانہ بہت ماہر تھا۔ٹیررفنڈنگ میں ملوث پائے جا رہے حریت لیڈران کی گرفتاری کی وجہ سے کشمیر وادی میں نوجوانوں کو اکسانے والی مشینری بھی مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ اسی لئے ابو دجانہ کے مارے جا نے کے بعد وادی میںاتناہنگامہ نہیںہواجتناہنگامہ مسلسل پتھراؤ کے واقعات ۲۰۱۶جولائی میں برہان وا نی کے انکاؤنٹر کے بعد ہوئے تھے۔

اس وقت وادی کے تیرہ اضلاع میں لشکر طیبہ اور دیگر پاکستانی دہشت گرد سرگرم ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کی ان پٹ کی مددسے سکیورٹی فورسیز نے ان علاقوں میں البدر ، جیش محمد اور لشکرطیبہ کے جن تقریباً ڈھائی سو دہشت گردوں کی شناخت کی ہے ان میں ۱۲۸غیرملکی اور ۱۳۰ کشمیری بتائے گئے ہیں۔سکیورٹی فورسیز نے آپریشن آل آؤٹ کے تحت ان سبھی کا صفایا کرنے کا منصوبہ بنایاہے۔اس کے علاوہ فوج اورپیراملیٹری فورسیز نے اب تک ۱۲۰دہشت گردوں کومارگرانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ بھی ایک حوصلہ بخش بات ہے کہ ابو دجانہ کے انکاؤنٹر پر جموں وکشمیر کی کسی بھی سیاسی پارٹیوں نے ایک ہی قسم کا مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اس کے لئے سکیورٹی فورسیز کی تعریف کی تو سابق وزیرنیشنل کانفرنس کے لیڈر لوک سبھا ممبرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے  امید ظاہر کی کہ سکیورٹی فورسیز اسی قسم کا بہتر کام کرتے رہیں گے تاکہ کشمیر میں امن وامان بحال ہو سکے اس کے لئے ہم سکیورٹی فورسیز کو مبارکباد دیتے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ آف اسٹیٹ کرن رجیجو نے فورسیز کی پیٹھ تھپتھاتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر ہو یا ملک کا دوسرا کوئی علاقہ سکیورٹی فورسیز اسی طرح کی دہشت گردوں کے خلاف ضروری اور مناسب قدم اٹھاتے رہیں گے۔

سکیورٹی فورسیز نے پلوامہ ضلع میں ہرکی پورا کے جس مکان میں ابودجانہ کو گھیر کر ٹھکانے لگایا اس میں دجانہ اور اس کے ساتھی عارف کے علاوہ تقریباً آدھا درجن دوسرے لوگ بھی تھے۔۳۱جولائی اور یکم اگست کی رات میں تقریباً بارہ بجے سکیورٹی فورسیز نے اس مکان کو گھیرا تو سب سے پہلے محلے والوں پھر اس مکان میں رہنے والے آدھا درجن لوگوں کو باہر نکالا اسی کے بعد آپریشن دجانہ شروع ہوا۔خود کوچاروں طرف سے گھراپاکر عارف اور دجانہ نے بھی ادھا دھند فائرنگ کر دی لیکن وہ کچھ کرپانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ان دونوں کے  مارے جانے کے بعد بھیڑ اکٹھاہوگئی توہربار کی طرح بھیڑ میں شامل کچھ دہشت گردوں نے بھی فائرنگ کی ان کی فائرنگ میں کچھ شہری زخمی ہوگئے اور ا یک شخص کی گولی لگنے سے موت بھی ہو گئی۔ اس کے باوجود سکیورٹی فورسیز نے اس انکاؤنٹر کا اتنا فل پرو ف انتظام کیاتھا  کہ کراس فائرنگ میں پھنس کر کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہونے پایا۔

دس لا کھ کے انعامی دہشت گرد ابو دجانہ کے انکاؤنٹر کے بعد وادی میں زیادہ ہنگامہ نہ ہونے پائے اس کا بندو بست سکیورٹی فورسیز نے پہلے ہی کر ر کھا تھا۔ احتیاطاً علاقے کے اسکول کالج بند کر دئے گئے تھے۔ انٹر نیٹ اورموبائل سروسز کو بھی روک دیاگیا تھا۔ وادی میں افواہوں کا بازا رگرم نہ ہونے پائے اس لئے پلوامہ کے علاوہ پوری وادی میں موبائل فون اور انٹر نیٹ سروسز بند کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کرلیاگیاتھا۔جس گھر میں عارف اور ابو دجانہ چھپے ہوئے تھے اس پر سکیورٹی فورسیز نے اتنی فائرنگ کر دی تھی کہ اس کی شکل کچھ ایسی ہو گئی تھی کہ جیسے زلزلے کے بعد کسی عمارت کی ہوتی ہے۔

اس انکاؤنٹر کے بعد پلوامہ کے علاوہ ،کلگام،کپوواڑہ، شوپیاں اور سری نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوانوں ، طلباء اور سکیورٹی فورسیز کے درمیان ٹکراؤ بھی ہوا لیکن یہ ٹکراؤ اتنی شدت کا نہیں تھا کہ کوئی جانی نقصان ہو پاتا۔ دجانہ اور عارف کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد دونوں کو  بارامولا ضلع کے بونیار میں پہاڑ کے نزدیک دفنایاگیا۔ اس انکاؤنٹر کے بعدجھڑپوں اور فائرنگ میں ایک شہری کے مارے جانے کے خلاف کئی شہرو ںمیں احتجاجاً بازا ر بھی بند رہے۔