احمد پٹیل سے مودی کو اتنا خوف کیوں؟

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>احمد پٹیل سے مودی کو اتنا خوف کیوں؟</h1>

بنگلور:ملک میں صرف میں -میں اور میں ہی رہونگا، میرے علاوہ کوئی نہیں،نہ کوئی لیڈر، نہ کوئی سیاسی پارٹی،کوئی رہ سکے گا تو میری مرضی سے۔اس فارمولے پر چلتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی پارٹی کے صدر امت شاہ کے ساتھ مل کر ملک میں سیاست کا جو نیا راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ راستہ صرف اور صرف ڈکٹیٹر شپ کی طر ف جاتا ہے۔گجرات میں تین میں سے ایک راجیہ سبھا سیٹ سے کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نمائندگی کرتے رہے ہیں۔اس بار وہ راجیہ سبھا نہ پہنچ سکیں مودی اور شاہ نے اس کیلے تمام کوششیں کیں۔ کامیابی ملتے نہ دیکھ آخر میں ا نکم ٹیکس محکمے کا  استعمال  بھی کر لیا۔

گجرات میں کانگریس کے ۴۷ ممبران اسمبلی تھے ان میں سے چھ کو استعفیٰ دلاکر بی جے میں شامل کر لیا باقی بچے ۴۱ میں بارہ کو توڑنے کی کوشش تو اس حد تک ہوئی کہ کانگریس کے مطابق استعفیٰ دینے کیلئے اس کے ممبران کو  پندرہ کروڑ روپئے اور سال کے آخر میں ہونے والے  اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے ٹکٹ کی پیش کش کردی گئی۔ممبران اسمبلی کو ڈاریا دھمکایابھی گیا۔ ان کو تو ڑا نہجا سکے اس لئے کانگریس نے چالیس ممبران کو بنگلور کے نزدیک ایک ریسورٹس ’ایگل ٹن‘میں لے جا کررکھا۔ ممبران کے کھانے پینے کے بندوبست کی نگرانی کیلئے کرناٹک کے بجلی کے وز یر ڈی کے شیو کمار کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ ڈی کے شیوکمار جب دو اگست کو گجراتی ممبران اسمبلی کے ساتھ ناشتے کی تیاری کر رہے تھے اسی وقت انکم ٹیکس افسران کی ٹیم نے مرکزی فورسیز اور مقامی پولیس کے ساتھ جا کر ریسورٹ پر چھاپے ماردیا۔کہا گیاکہ شیو کمار رات سے ہی گھر پر نہیں تھے۔صبح سویرے ان کے گھر پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپہ مارا تھااسلئے انہیں لانے کے  انکم ٹیکس کی ٹیم ریسورٹ گئی تھی۔

شیو کمار نے بھگوڑ ے تھے نہ ان کے خلاف کوئی رپورٹ، ان کے گھر پر چھاپے کے دوران یا اس کے بعد ان کی ضرورت تھی تو محض ایک فون کال کر کے ا نہیں بلایاجاسکتا تھا۔لیکن افسران نے انہیں بلانے کے بجائے ریسورٹ پر چھاپہ مارنا مناسب سمجھا۔ شاید ایسی ہی ہدایت دہلی میں بیٹھے ان کے آقاؤں سے انہیں ملی تھی۔کانگریس لیڈران کے مطابق یہ ساری کارروائی وزیراعظم کی ہدایت پر ہوئی ہے۔تاکہ گجرات کے ممبران اسمبلی کو  خوفزدہ کیاجاسکے۔

اس مسئلے پر دو اگست کوہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کانگریس نے زبردست ہنگامہ کیا راجیہ سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن غلام نبی آزاد اور آنند شرما نے تو لوک سبھا میں پارٹی لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ ایک اکیلے احمد پٹیل کو راجیہ سبھا میں پہنچنے سے روکنے کیلئے وزیر اعظم نریندرمودی اس طرح انکم ٹیکس اور دوسری سرکاری ایجنسیوں کا بے جا استعمال کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے بنگلور سے فون پر ملی تفصیل کے مطابق ہی پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایاتھا۔سرکار کی طرف سے جواب دیتے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ انکم ٹیکس محکمے کی ٹیم ایگل ٹن ریسورٹ یا وہاں رہ رہے گجرات کے ممبران اسمبلی پر چھاپہ مارنے نہیں گئی تھی بلکہ ڈی کے شیو کمار کابیان لینے گئی تھی۔ سول یہ ہے کہ اگر انکم ٹیکس محکمے کے افسران بنگلور میں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ شیو کمار کولینے گئے تھے اور دہلی میں بیٹھ کر ارون جیٹلی کہہ رہے ہیں کہ ٹیم ان کا بیان لینے گئی تھی تو ان دونوں میں جھوٹ کون بول رہا ہے۔؟ احمد پٹیل کو روکنے کیلئے الیکشن کمیشن کا بھی استعمال کر لیاگیا۔یہ پہلا موقع ہے جب الیکشن کمیشن راجیہ سبھاکے الیکشن میں بھی نوٹا کااستعمال کر رہا ہے۔یعنی اگر کوئی  ووٹر چاہے تو نوٹا کو ٹک کر کے کسی بھی امیدوار کوووٹ دینے سے انکار کرسکتا ہے۔جولائی کے شروع میں پرانے چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر نسیم زیدی کے ریٹائر ہوتے ہی نریندرمودی نے گجرات کاڈر کے ایک آئی اے ایس افسر اچل کمار جیوتی کو سیدھے چیف الیکشن کمشنر بنا دیا تھا۔ اس وقت کچھ لوگوںنے شک ظاہر کیا تھا کہ اب نریندرمودی اپنے سیاسی مفاد کیلئے الیکشن کمیشن کا بھی استعمال کریں گے۔ وہ شک اب یقین میں بدل گیا ہے۔نوٹا کا استعمال ایسے الیکشن میں کیسے کیا جا سکتا ہے جس میں پارٹی امیدوار کوووٹ نہ دینے والے ممبران کی ممبر شپ چلی جاتی ہے۔کانگریس نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے راجیہ سبھا الیکشن میں نوٹا کا استعمال روکنے کی اپیل کی تھی ۔سپریم کورٹ نے اسٹے دینے سے منع کر دیا۔ اور اگلی تاریخ تیرہ اگست کو لگا دی۔ جبکہ راجیہ سبھا الیکشن ۸؍ اگست کو ہونا ہے۔اب کانگریس کو یہ شک ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی احمد پٹیل کو ہرانے کیلئے کچھ ممبران اسمبلی کو ڈرا دھمکا کر نوٹا کااستعمال کرا سکتی ہے۔

کرناٹک سرکار کی جانب سے اعلان کیاگیاہے کہ ان کے بجلی وزیر ڈی کے شیو کمار پر سیاسی مقاصدکیلئے چھاپہ ڈلوایاگیا ہے۔اس لئے پارٹی اور سرکار دونوں اپنے وزیرکے ساتھ کھڑے ہیں۔یوتھ کانگریس او ر مہیلا کانگریس نے اس چھاپے ماری کے خلاف بنگلور سے دہلی تک مظاہرے کئے دوسری طرف انکم ٹیکس افسران کاکہنا ہے کہ  شیوکمار کے درجنوں ٹھکانوں پر چھاپوں میں گیارہ کروڑ سے زیادہ کی نقدی اور بڑے پیمانے پر جائیداد کے کاغذات برآمد ہوئے ہیں۔