مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے میں آر ایس ایس کا ہاتھ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے میں آر ایس ایس کا ہاتھ</h1>

نئی دہلی۔ جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں ہوئی لنچنگ معاملے میں گرفتار نتیا نند مہتو بی جے پی کے ترجمان اور سرگرم لیڈرہیں۔تین جولائی کو عدالت میں حاضر ہونے والے دیپک مشرا اور چھوٹو ورما دونوں بجرنگ دل اور گئو رکشا سمیتی کے لیڈر ہیں ان سب کو ویڈیو میں علیم الدین کو پیٹ پیٹ کر مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔نتیا نندکی گرفتاری کے فوراًبعد مقامی بی جے پی لیڈران انہیں بچانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

-وزیراعظم نریندر مودی نے ۲۹ جون کومبینہ گئو رکشکوں کو وارننگ دی تھی،ٹھیک تیسرے دن تین جولائی کو بھارتیہ جنتا پار ٹی کی سرکار والے آسام میں راجدھانی گوہاٹی کے باہر ہی آر ایس ایس سے متعلقہ ہندو تنظیم ’ہندو یوا چھاتر پریشد‘ کے لوگوں نے مویشیوں سے لدے ایک ٹرک کو روک کر ڈرائیواور مویشی تاجر کو سڑک پر پیٹا۔انہیں بھی پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا لیکن کچھ مقامی ہندؤں کے دباؤ میں ہی موقع پر پہنچی پولیس نے کسی طرح انہیں شدید زخمی حالت میں بچالیا انہیں تھانے میں پناہ دی گئی لیکن حملہ آوروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

-اترپردیش کے وزیراعلی یو گی آدتیہ ناتھ نے اسی بحث کے دوران یہ کہکر سڑکوں پر گئو رکشا کے نام پر تشدد کرنے والوں کے حوصلہ ہی بلند کر دئے کہ گئو اسمگلروں اور گئو کشی کرنیوالوں کی پوجا نہیں کی جائیگی۔

-بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدرامت شاہ نے یکم جولائی کوگووا میں کہہ دیا کہ لنچنگ کے واقعات مودی کے تین سالوں کی سرکار کے مقابلے منموہن سنگھ کی یو پی اے سرکار کے دوران ۲۰۱۱سے۲۰۱۳تک بہت زیادہ  ہوئے تھے۔ان کا یہ بیان پوری طرح غلط اور لنچنگ میں ملوث رہنے والوں کا حوصلہ بڑھانے والا ہی کہا جائیگا۔

-پہلو خان کو پیٹ پیٹ کرراجستھان میں مار ڈالا گیا نامزد ملزمان کو گرفتا کرنے کے سوال پر راجستھان کے ہوم منسٹر گلاب چند کٹاریا نے کہہ دیا کہ پہلو خان تو گئو کشی اور گایوں کی اسمگلنگ کرنے والو ںمیں شامل تھا۔تین لوگ گرفتار کرلئے گئے بہت ہے۔

-۲۴جون کو دہلی-متھرا لوکل ٹرین میں ۱۶سال کے جنید کو قتل کرنے والوں میں سب سے پہلے گرفتار کئے گئے رمیش چند نے پولیس کسٹڈی میں میڈیا سے صاف کہا کہ اس کے ساتھی نے جنید کو گائے کھانے والا ملا کہکر حملہ کیا تھا۔اس کے باوجود مقامی بی جے پی ممبر اسمبلی ٹیک چند بار بار یہی کہتے رہے کہ گائے کھانے والا ملا جیسی بات  کسی نے نہیں کی تھی۔

-ہریانہ کے وزیرانل وج با ربا مبینہ گئو کشی اور گایوں کی اسمگلنگ کرنیوالوں کو سبق سکھائے جانے کااعلان کر کے گئو رکشا کے نام پر  تشدد کرنے والوں کو اکسانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔

-اب تک گائے کی حفاظت کے نام پر سڑکوں پر تشدد اور پیٹ پیٹ کرمارے جا نے کے جتنے  واقعات پیش آئے ہیں ان میںصرف پانچ فیصد معاملات میں تشدد اور قتل کرنے والوں کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں۔۹۵فیصد معاملات میں غنڈوں کی دہشت گردی کا شکار ہو کر مرنے والوں کے خلاف گئو کشی،اسمگلنگ او رجانوروں پر ظلم کرنے کی دفعات میں ہی مقدمے درج کئے گئے ہیں۔کیونکہ بیشتر واقعات انہیں ریاستوں میں پیش آئے ہیں جن میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکاریں ہیں۔ان ریاستوں کی پولیس کو اچھی طرح پتہ ہے کہ اس سلسلے  میں سرکار کی منشا کیا ہے۔

یہ تمام باتیں پختہ ثبوت ہیں کہ کوئی کتنی بھی صفائی کیوں نہ دے لنچنگ اور گائے کے نام پرسڑکوں پر تشدد کرنے والوں کا تعلق آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہی ہے۔اب تک بی جے پی کی سب سے پرانی سیاسی دوست شیو سینا نے بھی اپنے اخبار ’سامنا‘کے تین جولائی کے شمارے میں صاف طورپرلکھ دیا ہے کہ گئو رکشکوں کے ہاتھوں سڑکوں پر مسلمانوں کو ہی پیٹ پیٹ کر موت کے گھا ٹ اتارا جا رہا ہے۔مسلم مخالفت کی سیاست کرنے والی شیو سینا نے بھی اس وحشی پن اور لنچنگ کیلئے گئو رکشکوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں بی جے پی اور آر ایس ایس سے متعلق بتایا ہے۔شیو سینا نے اس بات پر سخت اعتراض کیا ہے کہ مہاراشٹرسے ملے صوبے  گوا میں گائے ذبح کرنے اور کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ وہاں گزشتہ پندرہ سالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہی سرکار ہے۔شیو سینا نے مطالبہ کیا ہے کہ گئوکشی کے معاملے میں ایک جیسی پالیسی پورے ملک کیلے ہونی چاہئے۔

اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکار کے سو دن مکمل ہونے پر ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں صاف طور پر کہا کہ ’گئو تسکروں کو پوجیں گے نہیں‘ان کے اس بیان پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔مسلمان تو پہلے سے ہی پورے ملک میں گئو کشی پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیکن وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کون گائے کے اسمگلرہیں اور کون گائے پالنے والے یہ طے کرنے کاکام پولیس اور قانون کریگا یا سڑکوں پر گئو رکشکوں کے نام پر ا کٹھا ہونے والی متشدد بھیڑ کرے گی۔؟اب یوگی محض ہندو مہا سبھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ہی نہیں ہیں ریاست کے آئینی مکھیابھی ہیں۔ان کو پورا ریکارڈ مل سکتا ہے آج تک گائے اور اس کے گوشت کی افواہ پر گئو رکشکوں نے جتنے بھی حملے کئے کتنے معاملات میں گائے کا گوشت برآمد ہوا اور کتنی محض افواہ نکلی۔اگر کہیں گائے ملی بھی ہو تو کیا گئو کشی کرنے والوں گرفتار کرکے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے بجائے کسی بھیڑ کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ مبینہ گئو کشی کرنے والے کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالے۔اگرایسا ہی کرنا مناسب سمجھا جا رہا ہے توایک قانون بنا کر گئو رکشکوں کوہی یہ اختیار دے دیا جانا چاہئے کہ اگر کوئی گئو کشی میں ملوث پایا جائے تووہ اسے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیں۔پھر اس معاملے میں پولیس کا کوئی کرول بھی نہیںہونا چاہئے۔وزیراعلی نے آدھی با ت کرتے ہوئے یہی کہا کہ ’گئو تسکرو ںکی پوجا نہیں کی جائیگی‘ان کی اس بات کاگئو رکشکوں نے تو یہی مطلب نکالا ہوگا کہ ان گائے کی اسمگلنگ کرنے اور کاٹنے والوں کو سزا دینے کی چھوٹ ا نہیں مل گئی ہے۔

یکم جولائی کو گوا میں بھارتیہ جنتا رپاٹی کے صدر امت  شاہ نے یہ کہکر مبینہ طور پر گئو رکشکوں کے حوصلے بلند کردئے کہ لنچنگ کے واقعات منموہن سنگھ کی یو پی اے سرکار کے دوران مودی سرکار کے تین سالوں کے مقابلے بہت زیادہ ہوئے تھے۔اب گئو رکشک وزیراعظم نریندرمودی کے بیان اور وارننگ کو نظر انداز کرکے حساب برابر کرنے میں لگ جائیں گے۔ سرکاری اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ۲۰۱۰سے اب تک لنچنگ کے ۶۳معاملات پورے ملک میں پیش آئے ہیں۔ ان میں تقریباً نوے فیصد واقعات ۲۰۱۴سے اب تک یعنی مودی سرکار کے دوران پیش آئے ہیں۔سب سے زیادہ واقعات اسی سال یعنی ۲۰۱۷ تک کے پچھلے ہی مہینے ہوگئے ہیںامت شاہ اس حقیقت کو جھٹلانے پر تلے ہیں کہ مئی۲۰۱۴میں مودی سرکار کے آنے کے بعد سے اس سال جون تک گائے کے بہانے مسلمانوں پر بتیس حملے ہوئے ہیں۔ان حملوں میں تئیس مسلمانوں کوسرعام پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے اور گائے کے گوشت کے بہانے ہریانہ میں دو بے قصور مسلم خواتین کی اجتماعی آبروریز بھی ہوئی۔اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۱سے اب تک ۲۶ہندوؤں پر بچہ چوری کے بہانے حملے کئے گئے ان حملوں میں پانچ لوگوں کو قتل کردیاگیا۔ جبکہ ۷۴کومار مارکر زخمی کیاگیاہے۔امت شاہ کے بیان کے بعد چار جولائی کو وشو ہندو پریشد کے لیڈر سریندر جین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کسی بھی لنچنگ کے واردات میں گئو رکشکوں کاہاتھ نہیں ہے۔انہیں تو زبردستی بدنام کیا جار ہا ہے۔سریندرجین نے الٹاالزام لگا دیاکہ ۲۰۱۱سے اب تک گائے کی اسمگلنگ اور گئو کشی کرنے والو ں نے گئورکشکوں اور پولیس پرڈیڑھ سو سے زیادہ حملے کئے ہیں۔

جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں سر بازار پیٹ پیٹ کر مارے گئے علیم الدین قتل کیس میں نتیا نند مہتو اور سنتوش سنگھ کو پولیس نے گرفتار کیا ۔پولیس کپتان کشور کوشل کے مطابق دونوں بی جے پی کے مقامی لیڈر ہیں۔بعد میں تین جولائی کو عدالت میں سرینڈر کرنے والے دیپک مشرا اور چھوٹو ورماگئو رکشک سمیتی کے لیڈر ہیں۔بارہ ملزمین میں ان چاروں کا ذکرمجبوراً ضروری ہو گیا تھاکیونکہ ان سبھی کا چہرہ ویڈیو فوٹیج میں صاف صاف دکھ رہا ہے۔دیپک مشرااورچھوٹوورمابھی ہیں،گئو رکشا کے نام پر طرح طرح کے کام کرتے رہتے ہیں۔خود کو بہت بڑاہندتوا وادی ثابت کرنے کیلئے دونوں عدالت میں حاضر ہوئے تو اس وقت بھی بھگوا کپڑے پہنے ہوئے تھے،ماتھے پر تلک تھا،عدالت میں اس طرح کی سرگرمیاں دکھا رہے تھے جیسے دیش میں ان سے بڑاہندتواوادی لیڈردوسرا کوئی نہیں ۔پولیس کو بھی ان کے ساتھ بہت ادب کے ساتھ پیش آتے دیکھا گیا۔خبر ہے کہ بی جے پی کے کسی  لیڈر نے نہیں بلکہ خود وزیراعلی رگھور داس نے پولیس کپتان سے بات کرکے کہا تھا کہ نتیا نند مہتو،سنتوش سنگھ،چھوٹو ورما اور دیپک مشرا کو اس معاملے میں نامزدنہ کیاجائے۔لیکن پولیس کپتان کشور کوشل نے انہیں جب یہ بتایا کہ خود ا نہیں لوگوں نے علیم الدین انصاری کی پٹائی کرنے کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے ان میں سب کے چہرے صاف نظر آتے ہیں۔وہ ویڈیو لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو چھوڑنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔یہ اتنے شاطر کریمنل ہیں کہ علیم الدین کو مارتے وقت انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کی گاڑی میں گائے کا گوشت نہیں ہے۔اس لئے ان لوگوں نے وین بھی جلا دی تا کہ اس میں رکھے بھینس او ربکرے کے گوشت کی بھی فارنسک جانچ نہ ہوسکے۔

وزیراعظم نریند رمودی کے سخت بیان کے بعد تین جولائی کو آسام کی راجدھانی گوہاٹی کے باہری حصے میں ہندو یوا چھاتر پریشد کے نام پر غنڈوں نے ایک ٹرک کو روک لیا جس میں مویشی لدے ہوئے تھے۔ٹرک ڈرائیور اور مویشی تاجروں کو نکال کر سڑک پر بری طرح سے پیٹا،بھیڑ اکٹھا ہو گئی ،بھیڑ میں شامل لوگوں نے پولیس بلائی تو پولیس والے زخمیوں کو اٹھا کر تھانے لے گئے ۔ مقامی  ٹی وی چینلوں نے اس واقعہ کے ویڈیو گھنٹوں تک دکھائے۔ویڈیو میں پٹائی کرنے والے دہشت گردوں کی تصویریں صاف نظر آرہی تھیں لیکن پولیس نے کسی کے خلا ف رپورٹ درج نہیں کی ۔گوہاٹی ایسم کے پولیس کمشنر بھوتیک مشرا نے عجیب وغریب دلیل دیتے ہوئے کہاکہ پٹنے والوں لوگوں نے رپورٹ ہی نہیں لکھوائی تو ہم کس کے خلاف کارروائی کیسے کرسکتے ہیں۔موہنیک مشرا کے کہنے کامطلب یہی ہے کہ سڑک پر چاہے کتنا ہی سنگین جرم کیو ںنہ ہوجائے اگرکوئی رپورٹ لکھوانے والانہ ہواور کرائم کرنیوالے صاف دکھ رہے ہوں تو بھی پولیس ملزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔جس ٹرک کو روک کر ہندویوچھاترپریشد کے غنڈوں نے ،ڈرائیور اور تاجروں کومارااس پرسوار تاجروں نے مویشی خرید وفروخت کے سارے کاغذات دکھائے تھے۔

ہریانہ میں دہلی -متھرا لوکل ٹرین  میں سفر کر تے وقت جنید نام کے جس سولہ سال کے لڑ کے کو پیٹ پیٹ کر اور چاقوؤں سے گود کر مارا گیا اور اس کے جسم میں چاقو کے پچپن زخم پائے گئے اس کا تقریباً پورا جسم ہی چھلنی کر دیا گیا تھا۔ظاہر ہے اتنا سنگین جرم ایسا کوئی شخصنہیں کرسکتا جس نے باقاعدہ اس طرح چاقوبازی کی ٹریننگ نہ ملی ہو۔اس طرح کی ٹریننگ پچھلے کئی سالوں سے کن کیمپوں میں دی جا رہی ہے یہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ اس وحشیانہ قتل کیس میں پولیس نے چار اور لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔جی آر پی کے پولیس کپتان کمل دیپ گورو نے یہ تو بتا دیا کہ گرفتار ہونے والو ںمیں پچاس سے چوبیس سال تک لوگ ہیں لیکن وہ ان کے نام بتانے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔اس معاملے میں پلول کے رہنے والے رمیش چند کو پہلے ہی گرفتار کیاجاچکا ہے۔

راجستھان کے الور میں ہوئے پہلو خان کاقتل ہوئے مہینوں گزرچکے ہیں۔شروع میں ہی تین لوگوں کو گرفتار کیاکرلیاگیاتھا جبکہ بارہ کے خلاف نامزد رپورٹ درج کی گئی تھی۔باقی کی گرفتاری نہیں ہوئی ۔اس سوال پر راجستھان کے ہوم منسٹر گلاب چند کٹاریانے بھڑکتے ہوئے کہا کہ اب گایوں کی اسمگلنگ اور گئو کشی کرنیوالوں کی شکایت کو گئو رکشکوں کو پھانسی پر نہیں چڑھایا جاسکتا۔بی جے پی کے رام گڑھ حلقے سے ممبراسمبلی گیان دیوآہوجھا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیںکہ گئو رکشکوں کی گرفتاری کے خلاف وہ باقاعدہ آندولن چلائیں گے اور کسی بھی گئو رکشک کو گرفتار نہیں ہونے دیں گے۔

 

باکس

’’۲۰۱۷کے پہلے چھ مہینوں میں گائے کے نام پر تشدد کے ۶۳واقعات پیش آئے ہیںجوپچھلے سالوں سے کہیں زیادہ ہیں۔لنچنگ یعنی پیٹ-پیٹ کر مارے جانے والوں کی تعداد پانچ سالوں میں ۲۸ تک پہنچ گئی ہے، جس میں ۲۴مسلمان ہیںان تمام معاملات میں بی جے پی سرکاروں والی ریاستوں میں ۹۵فیصد مقدمے ا نہیں کے خلاف درج کئے گئے ہیں جو مارے گئے ہیں۔اس کے باوجود بی جے پی صدر امت شاہ کہتے ہیں کہ مودی کے مقابلے منموہن سنگھ سرکار میں لنچنگ کے واقعات زیادہ پیش آئے تھے‘‘۔

 

جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں علیم الدین انصاری کو پیٹ پیٹ کر مارے جانے کے معاملے میں ویڈیو کلیپنگ کی بنیاد پر گرفتار لوگوں میں بی جے پی ،بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے لوگ ہی شامل ہیں۔وزیراعظم نریندرمودی کی سخت وارننگ کے تیسرے دن گوہاٹی میں مویشی لے جا رہے ٹرک کو روک کر آر ایس ایس سے متعلق ہندویواچھاتر پریشد کے لوگو ںنے مویشی تاجروں کو بری طرح پیٹا،پولیس نے کوئی کارورائی نہیں کی‘‘۔

 

’’اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں کہ گائے کی اسمگلنگ کرنیوالوں کی پوجا نہیں کی جاسکتی۔لیکن انہوں نے یہ صاف نہیں کیا  کہ ان اسمگلروں کے خلاف قانونی کارروائی پولیس کرے یا گئو رکشک؟انہیں یہ بھی صاف کردینا چاہئے کہ محض گائے کی افواہ پرکسی پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی بھی یا نہیں؟مسلمان ملک بھر میں گئو کشی پر پابندی کامطالبہ کر رہے ہیںیہ مطالبہ کب تسلیم کیاجائیگا۔‘‘