مودی کے دورے سے اسرائیل کوہی فائدہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مودی کے دورے سے اسرائیل کوہی فائدہ</h1>

نئی دہلی۔وزیراعظم نریندرمودی کے اسرائیل دورے کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہی ملے گا۔کیونکہ اسرائیل نے پچھلے ۷۰سالوں میں پہلی بار کسی ہندستانی وزیراعظم کا دورہ کرانے میں کامیابی حاصل کر  لی ہے۔اسی کے ساتھ اسرائیل نے ہندستان کو بڑے پیمانے پر اسلحہ بیچنے کا سودا بھی کر لیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھلے ہی نریندرمودی او رہندستان کواپنا دوست قرار دیا ہواس دورے سے ہندستان کو کوئی خاص فائدہ اس لئے ہوتا نظر نہیں آتاکیونکہ گزشتہ مارچ میں ہی اپنے چین کے دورے کے وقت نیتن یاہو نے چین کے صدر شی جنپنگ کواپنا بڑابھائی اور ’آدرش‘قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ چین نے دنیا بھر کی معاشی حالات پر برتری حاصل کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی آپ کے پیچھے چل کر اقتصادی معاملات میں اور بھی زیادہ مضبوط بننا چاہتے ہیں۔نیتن یاہو نے چند مہینے پہلے اسی چین میں یہ باتیں کہی تھیں جو چین مودی کے اسرائیل دورے کے دوران ہی بھارت کو فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہا تھا۔

نریندر مودی کے اسرائیل دورے کے وقت بھی وہی گھسی پٹی بات کہی گئی کہ اسرائیل نے دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کرنے کا یقین دلایاہے۔ نریندرمودی نے آج تک جتنے ملکو ںکا دورہ کیاہے ہر بار یہی کہا گیا ہے کہ اس ملک نے ہندستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اگر پچاس سے زیادہ ملکوں نے ہندستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی خصوصاًپاکستانی دہشت گردی ختم کرنے کایقین دلا رکھا ہے تو یہ سب ملکر ابتک ہندستان میں پاکستان سے آنیوالی دہشت گردی کوروک کیو ںنہ سکے۔مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد دو سرکاری جملے اب مذاق بننے لگے ہیں۔ایک دہشت گردوں اور نکسلیوں کے کسی بھی حملے کے بعد واقعہ کی سخت مذمت کرنے کا دوسرا جملہ’’ فلاں ملک سے پاکستانی دہشت گردی پر مودی کا سخت  حملہ‘‘۔

جہاں تک اسرائیل سے اسلحہ خریدنے کا سوال ہے اسرائیل سے اسلحو ںکی خرید تو پہلے سے ہی ہور ہی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی مہارت بھی ہندستان اسرائیل سے دسیوں سال سے حاصل کر رہا ہے۔ مودی کے دورے سے  اسرائیل اپنا ز یادہ سے ز یادہ اسلحہ بھارت کو تو بیچ لے گا لیکن کیا وہ چین سمیت دوسرے پڑوسی ملکوں سے خراب ہو چکے تعلقات میں بھی کوئی مدد کرے گا اس میں شک ہے۔

اس دورے کے دوران نیتن یاہو مذاق میں ہی سہی مودی کی شادی شدہ زندگی پر چوٹ کرنے سے بھی نہیں چوکے۔اپنے گھر میں ڈنر کے وقت نیتن یاہو نے کہا کہ تیس سال پہلے وہ اپنی محبوبہ کو لیکر پہلی بار جس ہندستانی ہوٹل میں لے کر گئے تھے اس ہوٹل کے کھانے کانتیجہ یہ نکلا کہ ان کی وہ محبوبہ ان کی بیوی بن گئی۔مودی کو مخاطب کرتے ہوئے ا نہو ںنے کہا کہ آج آپ کے لئے بھی میں نے اسی ریسٹورنٹ سے کھانا منگوایا ہے۔

مودی کے اسرائیل دورے میں نریندر مودی نے وہاں جو تقریر کی وہ بھی کچھ اس طرح کی تھی جیسے وہ ہندستان کے کسی شہر میں کسی ا نتخابی میٹنگ میں تقریر کررہے ہوں۔اپنی تین سال کی سرکار کے دوران انہوںنے اپنے ملک کے لئے کیا کیاہے یہی بیان کرتے رہے۔ ان کی تقریرسے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اسرائیل کے اگلے پارلیمانی ا لیکشن میں بی جے پی کے ا میدوار کھڑے ہو نگے۔ وہ صر ف یہ کہنا بھول گئے کہ تین سال میں ان کی سرکار نے ملک میں کہیں بھی کمزور لوگوں کوپیٹ پیٹ کر مار ڈالنے والے غنڈوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی باقی بار باروہ یہی کہتے رہے کہ تین سال میں ہم نے کیا کیاکرڈالا۔انہوں نے اپنی تقریر میں پہلے کی کانگریس حکومتوں کے نام تو نہیں لئے لیکن تقریر کچھ اسی قسم کی کی جیسے تین سال کی ان کی سرکارکے پہلے ملک کی کسی سرکار نے ترقی کا کوئی کام نہیں کیا۔

مودی ہندستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہو ںنے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔اس سے پہلے وزیروں کی سطح کے لوگوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔لیکن کوئی بھی وزیر جب بھی اسرائیل آیااس نے توازن برقرار رکھتے ہوئے فلسطین کا بھی دورہ کیا۔اس بار وزیراعظم کی حیثیت سے نریندرمودی کا صرف اسرائیل کا دورہ او روہ بھی اس صورت میں جب اسرائیل غزہ پر لگا تار  بمباری کر رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں چھوٹے بچے تک مارے گئے ہیں۔اسرائیل کی زبردست ڈپلومیٹککامیابی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں مودی کا سارے پروٹوکال توڑتے ہوئے گرم جوشی سے خیرمقدم ہوا۔

Lead News