ہندوستان کو الٹی دھمکی دیتا چین

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ہندوستان کو الٹی دھمکی دیتا چین</h1>

نئی دہلی۔ ہندوستان کے سب سے خطرناک اور طاقتور پڑوسی چین ہندوستان کو ہفتوں دھمکاتا رہا فوجی کاروائی کی دھمکی بھی دیتا رہا۔ کیلاش مانسرور جانے والے ناتھولا راستے کو بند کردیا ۔ بھوٹان تک جانے والی سڑک بنانے کے کام کو روکنے سے انکار کیا اور یہ دھمکی دی کہ اگر ہندوستان نے سرحد سے فوج نہیں ہٹائی تو اس کو کھدیڑ  دیگا۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس کے ذریعے چین نے ہندوستان کو ۱۹۶۲؁ء کی جنگ کی یاد دلاتے ہوئے دھمکی دی کہ ہم نے ہندوستان کے ساتھ پہلے کیا کیا ہے اسے ہندوستان کو نہیں بھولنا چاہئے۔ چین کو سخت جواب دیتے ہوئے ڈیفنس منسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ اب ہندوستان  ۱۹۶۲؁ء کا ہندوستان نہیں ہے اس لئے ہمیں دھمکایا نہ جائے اس پر چین نے پھر کہا کہ اب وہ بھی  ۱۹۶۲؁ء والا نہیں ہے۔

ہندوستان -چین سرحد پر لگی اس آگ کو بجھانے کے بجائے اسرائیل سمیت کئی ملکوں کے دورے پروزیراعظم نریندر مودی  نکل گئے اور چین  سے نمٹنے کی ذمہ داری کام چلاؤ ڈیفنس منسٹر ارون جیٹلی پر ڈال گئے۔ چین کے ساتھ تنا تنی کوئی نئی بات نہیں ہے یہ برسوں سے چل رہی ہے۔ گزشتہ دنوں مودی نے اسرائیل اور امریکہ سمیت جتنے بھی ملکوں کا دورہ کیا ہر دورے کو کامیاب تو کہا گیا لیکن کسی بھی ملک نے چین کے معاملے  میں ہندوستان کا ساتھ دینے کا یقین نہیں دلایا۔ نارتھ کوریا کے نیو کلئیر پروگرام کی وجہ سے امریکہ چین پر دباؤ تو ڈال رہا ہے لیکن چین اور ہندوستان کے تنازعہ پر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کچھ بولنے کو تیار نہیں ہوئے۔

سکم میں ہند- چین سرحد پر کشیدگی کا تازہ معاملہ وسط جون میں شروع ہوا جب ہندوستانی فوجیوں نے ڈوکلام علاقے میں چین کے ذریعہ سڑک بنائے جانے کے کام کو روک دیا جسے چین ڈونگ لانگ کہتا ہے۔ بھوٹان نے بھی اس سڑک تعمیر پر اپنا اعتراض درج کرایا تھا۔ تین ہفتے سے زیادہ ہوچکے ہیں اور معاملے میں چین اور ہندوستان اپنے رخ پر قائم ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے رشتوں میں کھٹاس بڑھتی ہی جارہی ہے۔ دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اس  وقت سے مزید شدت پائی جانے لگی جب ڈیفنس منسٹر کا بھی کام دیکھ رہے ارون جیٹلی نے صاف طور پر یہ کہا کہ چین کسی مغالطے میں نہ رہے، اب ہندوستان ۱۹۶۲؁ء والا ہندوستان نہیں ہے یہ بات چین کو بہت بری لگی اور اس نے ہندوستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعطل کو دور کرنے اور کارآمد بات چیت کے لئے پیشگی شرط یہ ہے کہ ہندوستان ڈونگ لانگ علاقے سے اپنی فوج واپس بلالے۔ ساتھ ہی چین نے ہندوستان کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت  کے ڈھائی مورچے والے بیان کوغیر ذمہ دار انہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج کو تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔  ۱۹۶۲؁ء ہند- چین جنگ کے سلسلے میں پیپلز لیبریشن  آرمی کے ترجمان کرنل ووکیان نے کہا کہ اس طرح کا دکھاوے کا بیان نہائت غیر ذمہ دارانہ ہے اور انہوں نے جنرل راوت کو جنگ کا شور شرابہ مچانے سے بچنے کی نصیحت دے ڈالی۔ جنرل راوت نے کہا تھا کہ ہندوستان ڈھائی مورچے پر لڑائی کے لئے تیار ہے۔ ان کا اشارہ چین ، پاکستان اور ملک کے اندر لڑائی سے نمٹنے کے متعلق تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے میڈیا بریفنگ کے دوران ڈونگ لانگ میں ہندوستانی فوج کی مبینہ دراندازی کے دو فوٹو بھی دکھائے۔ انہو ںنے کہا کہ سکم میں دونوں ملکوں کی فوج کے بیچ تناؤ اس علاقے سے ہندوستانی فوج کی واپسی سے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ ناجائز گھس پیٹھ ہے اس لئے ہم نے دہلی اور بیجنگ واقع ہندوستان کے اہم نمائندوں کے پاس اپنا اعتراض درج کرادیا ہے۔ جبکہ ہندوستان نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ سکم کے پاس دو کلام علاقے( جسے چین ڈونگ لانگ کہتا ہے) میں چین کے سڑک بنانے سے موجودہ صورت حال میں تبدیلی آجائے گی جس کے ہندوستان کی سلامتی پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ چین ہندوستان پر چین – بھوٹان تنازعہ میں تیسرا فریق بننے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ متعلقہ سبھی فریق تحمل برتیں اور سابقہ حالت میں یکطرفہ طور پر تبدیلی نہ کرتے ہوئے باہمی رضا مندی پر عمل کریں۔ وزارت خارجہ نے سولہہ جون سے بالترتیب ان واقعات کا ذکر کیا جب پیپلز لبریشن آرمی یعنی چینی فوج کا تعمیراتی دستہ دو کلام علاقے میں داخل ہوا اور اس نے سڑک بنانے کی کوشش کی۔ بھوٹان سرکار کے تعاؤن سے دو کلام کے عام علاقے میں موجود ہندوستانی جوان چین کے تعمیراتی دستے کے پاس پہونچے اور سابقہ حالت کو بدلنے سے بچنے کی اپیل کی۔

کہا جارہا ہے کہ ہند اور چین میں تازہ تنا تنی کے پیچھے وزیراعظم نریندر مودی کا امریکہ دورہ ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ فوجی گٹھ جوڑ مضبوط کیا ہے جس سے چین بوکھلایا ہوا ہے۔ حال ہی میں ہندوستا ن نے چین کے اربوں ڈالر کے سلک روڈ پروجیکٹ کو بھی خارج کردیا تھا۔ اس سے بھی ہندوستان کو چین کی ناراضگی جھیلنی پڑ رہی  ہے۔  ہندوستان کو خدشہ ہے کہ اس پروجیکٹ سے ایشیاء میں چین کی بالادستی کو تقویت ملے گی۔ جبکہ چین کا الزام ہے کہ ہندوستان کے سلامتی دستوں نے جون میں  ڈونگ لانگ علاقے کی سرحد کی خلاف ورزی کی اور سڑک کی تعمیر کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

ہندوستان اور چین سرحد پر پائی جانے والی کشیدگی کا اثر ناتھو لا راستے سے کیلاش مانسرور جانے والے تیرتھ یاتریوں پر بھی پڑا۔ چین نے تیرتھ یاتریوں کے لئے گیٹ نہیں کھولا۔ اس کی وجہ سے نوے یاتریوں کو واپس گنگٹوک بلانا پڑا۔ واضح ہو کہ ۲۰۱۵؁ء میں اس راستے کو کھولا گیا تھا تب ڈھائی سو یاتری اس علاقے سے مانسرور کی یاترا پر گئے تھے۔ اس بار تعطل کے پیش نظر ہندوستان کے وزارت خارجہ نے چین سے بات کی  لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ چین کے اڑیل روئیے کے بعد ناتھو لا راستے سے یاترا کو منسوخ کرنا پڑا۔