شکایتوں کے نپٹارے میں افسران سنجیدہ نہیں

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>شکایتوں کے نپٹارے میں افسران سنجیدہ نہیں</h1>

بہرائچ:ضلع میں فریادیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے لیکن کے ان کے معاملوں میں نپٹارے میں انتظامیہ کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی ہے بلکہ فریادیوں کی تحریر اوپرسے نیچے اور نیچے سے اوپرضرور ٹہلا کرتی ہے۔پچھلے دنوں تحصیل سمادھان دیوس میں ضلع کی تحصیلوں میں ۴۴۰فریادیوں نے شکایتیں کیں جن میں۳۸۷لوگوں کو مایوس ہو کر لوٹنا پڑا۔جب کہ موقع پر صرف ۵۳ شکایتیں نپٹائی گئیں۔بتایا جاتا ہے کہ ضلع کی نئی تحصیل مہیں پورا میں پہلی بار ڈی ایم،ایس پی  وسی ڈی او نے لوگوں کی شکایتیں سنی۔یہاں آئی ۷۵ شکایتوں میں سے صرف دس شکایتیں موقع پر نمٹائی گئیں۔اس موقع پر ڈی ایم وایس پی نے بلہا بلا کے سریا کے رہنے اولے پھول چند کوٹرائی سائیکل اور موتی پور کے رئیس کو علا ج کیلئے پچاس ہزا رروپئے کا چیک دیا۔اسی طرح صدر تحصیل میں ا یس ڈی ایم گورانگ راٹھی کی صدارت میں شکایتیں سنی گئیں۔صدرتحصیل میں۴۱ شکایتوں میں سے آٹھ کو موقع پرنمٹایا گیا۔مہسی تحصیل میں ۵۶لوگ اپنی اپنی شکایتیں درج کرائیں جن میں چھ کانپٹارہ کیا گیا۔ تحصیل قیصر گنج میں ایس ڈی ایم نے شکایتوں کو سنا اور ۱۲ شکایتیں موصول ہوئیں جبکہ کل ۱۵۹شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔تحصیل نانپارہ میں ۵۳شکایتوں میں سے صرف پانچ شکایتوں کونمٹایاگیاجبکہ پیاگ پور میں۷۴ شکایتیں سنی گئیں۔جن میں بارہ کا نمٹارہ کیاگیا۔اسی طرح روزانہ تھانے ،ایس ڈی ایم ،سی او سے لے کر ڈی  ایم اور ایس پی سے سیدھے مل کر سیکڑوں شکایتیں دی جا رہی ہیں لیکن ضلع و پولیس انتظامیہ کی سنجیدگی سے نہ لینے سے ان کا مسئلوں کا نمٹارہ نہیں ہوتا ہے۔جس سے بدلے کی نیت سے بھی کرائم بڑھے ہیں اور لوگوں کو انصاف نہ ملنے سے مایوسی ہوتی ہے۔

 

 

HIndi Latest