یوگی کی ہندو یوا واہنی بے لگام

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>یوگی کی ہندو یوا واہنی بے لگام</h1>

لکھنو ¿:اترپردیش جیسے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلی بننے کے بعد آدتیہ ناتھ یوگی نے بھلے ہی کئی بار میڈیاکے ذریعہ یہ کہا ہے کہ پردیش میں مذہب اور طبقے کے نام پرکسی کے ساتھ کوئی زیادتی نا انصافی نہیں ہونے دی جا ئیگی۔ان کی ا پنی بنائی ہوئی فوج’ہندویوا واہنی‘کے نام پرشہروں میں دہشت پھیلانے والے کچھ لوگوںپریوگی کے اعلان کاکوئی اثر پڑتا نہیں دکھا ئی دے رہا ہے۔ ہندویواواہنی کے لوگوں کا حوصلہ پہلے کے مقابلے بہت زیادہ بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔یوگی سرکار بنتے ہی پردیش میں اینٹی رومیومہم چلی تو جیسے پردیش بھر میں ہندو یواواہنی اوربجرنگ دل کے نام پرہنگامہ کرنے والو ںکوسڑکوں پرمن مانی کرنے کا لائسنس مل گیا۔چونکہ پولس ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہی لوگوں کا ساتھ دیتی ہے اس لئے یہ لوگ قانون اپنے ہاتھوں میں لینے سے بالکل بھی ڈرتے نہیں ہیں۔میرٹھ میں ہندو یواواہنی کے لوگوں نے تو اس وقت انتہا کردی جب ایک ہندو نوجوان اسیم ولدراجیش اور اس کی محبوبہ کوایک ہوٹل میں پکڑا او رلڑکے پرالزام لگادیا کہ وہ مسلمان ہے اورلوجہاد کی مہم میں اس نے ہندو لڑکی کواپنے جال میں پھنسایا ہے۔لڑکے نے جب صفائی دی کہ وہ تو ہندو ہے اور اس کی دوست بھی ہندو ہے تو ہندو یواواہنی کے میرٹھ صدر نے کہا توپہلے مسلمان تھا کیا اپنا مذہب تبدیل کرکے تو ہندو بنا ہے؟اس نے کہا کہ وہ تو پیدائشی ہندو ہے تو اسے دھکا دیتے ہوئے ہندتو کے ٹھیکیداروں نے دھمکی دی کہ ابھی مار-مارکراسے بھوت بناتے ہیں۔وہ سہم گیا۔دروازے کے باہربھیڑلگ گئی بھیڑ میں شامل کچھ لڑکیوں اور عورتوں نے ہندویواواہنی کی اس حرکت کی مخالفت میں آواز اٹھائی تو ہندتو کے ٹھیکیداروں نے انہیں بھی دھمکاتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی بیچ میں بولا تووہ دونوں کومارمارکربھوت بنا دیں گے۔دروازے کے باہرصرف لوگ ہی اکٹھا نہیں ہوئے تھے۔پولس بھی اس انداز میں کھڑی تھی جیسے وہ ان ٹھیکیداروں کے حکم کے انتظار میں ہو۔گالی ،گلوچ اور بری طرح دہشت زدہ کرکے دونو ںکوتھانے لے جایا گیا۔پولس نے لڑکی کوچھوڑدیا اورلڑکے کوعوامی جگہ پرنازیباحرکتیں کرنے کے جھوٹے الزام میںگرفتارکرجیل بھیج دیا۔لڑکے کی جوڈیشیل کسٹڈی میں جیل بھیجنے والے جج نے بھی نہیں سوچا کہ لڑکے کی غلطی کیا ہے؟میرٹھ کا یہ دوسرا واقعہ بہت ہی خطرناک ہے۔شاستری نگر کے سکھ ویرسنگھ تیاگی کے مکان میں کرائے پرایک کمرہ لے کررہنے والے مظفرنگرکے محمد وسیم کے کمرے پربارہ اپریل کوہندویواواہنی کے لوگوںنے دھاوابولا اورالزام لگایا کہ لو جہاد کے تحت ہی وسیم نے اپنے کمرے میں ا یک ہندولڑکی رکھی ہے۔اسی لئے انہیں سبق سکھانا ضروری ہے۔وسیم کے کمرے ےا سکھ ویر سنگھ تیاگی کے مکان کے دوسرے حصے میں کوئی لڑکی یا عورت نہیں پائی گئی لیکن ہندوایوواہنی کے مغربی اترپردیش کے صدر ناگیندرپرتاپ سنگھ تومر،سچن متل،روبی پروین اور اپیندر سنگھ وغیرہ یہی کہتے رہے کہ کمرے میں انہوں نے وسیم کے ساتھ ایک عورت قابل اعتراض حالت میں دیکھا ہے ۔اگر کمرے میں لڑکی دکھی تھی اوریواواہنی کی تقریباً پچاس لوگوں نے کمرے کوگھیررکھا تھا تووہ لڑکی کہاں غائب ہو گئی؟اس کا جواب نہ تو یواواہنی کے پاس ہے او ر نہ میرٹھ پولس کے پاس۔اس کے باوجود میرٹھ پولس نے وسیم کے خلاف دفعہ-294کا مقدمہ لکھ کراسے جیل بھیج دیا۔

میرٹھ پولس ا ورہندویواواہنی دونوں کے ہنگامے سے مکان مالک سکھ ویر سنگھ تیاگی اتناخوفزدہ ہو گئے کہ وہ اس مسئلے پرکچھ بھی بولنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔سب انسپکٹر موہن سنگھ نے کانسٹیبل سنیل شرما کی جانب سے وسیم کے خلاف جورپورٹ درج کرائی اس میں لکھا گیا کہ وہ (سنیل شرما) شاستری نگرمیں جا رہا تھا توسڑک کنارے کھڑاایک نوجوان لڑکیوں کودیکھ کربدتمیزی کی حرکتیں کررہا تھا۔لڑکیوں اور عورتوں کودیکھ کروہ کسی سے کہتا تھا ’ڈارلنگ تم بہت اچھی لگ رہی ہو‘توکسی کودیکھ کرگانے گاتا تھا۔اسی لئے اسے گرفتارکیا گیا۔

وسیم نے بتایا کہ وہ کمپیوٹرایپلیکیشن میں ماسٹرڈگری(ایم سی اے)کےلئے پڑھائی کررہا ہے او رایک ٹیلی فون کمپنی کےلئے کام بھی کرتا ہے اس پرصرف اس لئے حملہ کیا گیاکہ وہ مسلمان ہے اور شاستری نگر کے ہندومکان مالک کے گھر میںکرائے پررہتا ہے۔ایک ہی معاملے میںہندویوا واہنی کے الگ -الگ لوگوں کے الگ -الگ بیانات اور پولس کا تیسرا،چوتھا بیان،اس کے باوجودپولس نے وسیم کوزبردستی ملزم بنا کرجیل بھیج دیا۔اس بات سے میرٹھ کے مسلمانوں میں غصہ بھی ہے او رخوف بھی۔لیکن چونکہ یوگی کی حکومت ہے اورانہیں کی بنائی ہندویواواہنی بے لگام ہوکرکام کررہی ہے اسی لئے کوئی کچھ بولنے کوتیار نہیں ہے۔

ایک واقعہ کانپور جیسے حساس شہرمیں پیش آیا۔سرفراز نام کا ایک مسلم نوجوان اپنی بیوی او ربہن کے ساتھ جا رہا تھا دونو ںلڑکیاں برقع میں تھیں انہیں سڑک پرروک لیا گیا۔سرفراز نے بتایا کہ دونوں میں ایک بیوی دوسری اس کی بہن ہے لیکن خود قانون سے اوپرسمجھنے والوں نے اس کی بات پریقین نہیں کیا۔اس سے کہا کہ و ہ اپنے گھرپرفون سے بات کرا دے اگرسچ بول رہا ہوگاتو اسے جانے دیا جائیگا۔موقع پربھیڑجمع ہوگئی توسرفراز کی بیوی نے کہاآپ لوگ کیوں ہمارے پیچھے پڑے ہیں او ر سڑک پرہمارا تماشہ بنا رہے ہیں۔اس پر ایک بجرنگی نے انتہائی بد تمیزی سے اسے ڈانتے ہوئے کہا زیادہ ٹیں ٹیں کریگی تو ابھی یہیں بتا دیں گے کہ کس کے ساتھ پالا پڑا ہے۔اس درمیان سر فراز نے اپنے بڑی بہن سے گروہ کے لیڈرکی موبائل سے بات کرائی تو بڑی بہن سے اس گروہ کے سرغنہ نے پوچھا کہ سرفراز آپ کا کون ہے انہوںنے کہا میرا چھوٹا بھائی ہے۔دوسرا سوال ہوا کیا اس کی شادی ہوچکی ہے بہن نے کہا ہاں ہوچکی ہے۔وہ اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے باہرگیا ہوا ہے۔گھبراہٹ میں سرفراز کی بڑی بہن نے تیز آواز میں پوچھ لیاکہ آخرہواکیا ہے جو اتنی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔اس پرگروہ کا سرغنہ بڑی بہن سے بدتمیزی کرتے ہوئے بولاتیز آوازمیں بات مت کرمیں تجھ سے زیادہ تیز بول سکتا ہوں۔بھیڑ بھی بڑھ چکی تھی شاید بھیڑدیکھ کر ہی بجرنگ دل کے سماج کے ان خودساختہ بنے ٹھیکیداروںنے سرفراز اس کی بیوی اور بہن کوجانے دیا۔ہندویواواہنی اور بجرنگ دل کے لوگ سڑکوں پرجو کچھ کرتے ہیں اس کی باقاعدہ ویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پروائرل کرتے رہتے ہیں۔پردیش پولس کے کسی بھی افسر میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ویڈیومیں دکھنے والو ں کے خلاف کوئی کاروائی کرسکے۔ایسے ویڈیوسوشل میڈیا پربھرے پڑے ہیں۔سماج،سرکاربی جے پی،سماجوادی پارٹی،کانگریس، بی ایس اور پولس ان کے خلاف زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔عدالتیں بھی سوموٹونوٹس نہیں لے رہی ہیں۔ان حرکتوں کا کیا انجام ہوگایہ روکی جائیں گی یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔لیکن یہ ویڈیوہے بہت ہی خوفناک او رعام لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والے۔ شاید دہشت پیداکرنے کے لئے یہ سوشل میڈیا پروائر ل کیا جا رہی ہے۔ایسا ہی ایک دہشت ناک ویڈیو فیس بک پروائرل ہو رہا ہے جس میں چار-پانچ غنڈے قسم کے لوگ منھ اورگلے میں بھگوا کپڑا ڈالے ہیں یہ سب مل کرسڑک پرسرعام ایک لڑکے اور لڑکی کوموٹے -موٹے ڈنڈوںسے جانوروں کی طرح پیٹتے دکھ رہے ہیں۔لڑکا او رلڑکی دونوں موٹرسائیکل سے جا رہے تھے ا نہیں روک کران کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔شاید سماج کے ٹھیکیداروں کواندازہ لگ گیا تھا کہ لڑکا لڑکی دونوں پڑوس کے گاو ¿ں کے رہنے والے ہندوہی ہیں اسی لئے دونوں کوبری طرح پیٹتے ہوئے یہ غنڈے کہہ رہے تھے کہ تم دونوں’چھنرائی‘کرتے پھررہے ہو تمہیں سماج کی بھی فکر نہیں ہے۔گڈفرائڈے کے موقع پرگورکھپورسے ملے ہوئے مہاراج گنج ضلع کے ڈتھولی میں بنے پرانے چرچ میں گڈفرائڈے کی پرئیر کے لئے علاقے کے تقریباً ڈیڑھ سو عیسائی اکٹھا ہوئے تھے۔ان میں دس امریکی شہری بھی تھے۔گڈفرائڈے کی پرئیرچل رہی تھی کہ موٹرسائیکل پرسوارہندویواواہنی کے سیکڑوں لوگ بھگوا جھنڈے لئے نعرے لگاتے ہوئے چرچ میں پہنچ گئے اور یہ کہہ کرپرئیررکوا دی کہ چرچ میں ہندو ¿ں کا مذہب تبدیل کرکے انہیں عیسائی بنانے کی حرکت کی جا رہی ہے۔ ہندویواواہنی کے لوگوں کا کہناتھا کہ امریکہ سے آئے دس عیسائی بڑی مقدار(ماترا)میںڈالرلے کرآئے ہیں جو ہندوو ¿ں کومذہب تبدیل کرانے کے کام میں خرچ کئے جانے تھے۔ہندویواواہنی کے لوگ شاید پولس کواطلاع دے کرآئے تھے اسی لئے ڈتھولی کے انچارج داروغہ آنندکمار گپتا بھی پولس ٹیم کے ساتھ موقع پرپہنچ گئے۔فوراً یواواہنی نے انہیں ایک کمپلینٹ سونپی جس میں لکھا تھا کہ چرچ کے پادری یوحنا ایڈم چرچ میں ہندوو ¿ں کامذہب تبدیل کرا رہے ہیں۔تھانیدارآنندکما رگپتا بھی فوراًیواواہنی کی زبان بولتے ہوئے کہنے لگے کہ گڈفرائڈے کی پرئیرکے لئے چرچ کے پاسٹر نے پہلے سے کوئی اجازت نہیں لی یہ غیرقانونی کام ہے۔ اب ہندتو کے رنگ میںشرابوراس داروغہ سے کون پوچھتا کہ گڈفرائڈے کے موقع پرپورے ملک کے چرچوں میں خصوصی عبادت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ پرئیرعوامی جگہ پرنہیںہوکرچرچ کے اندربندہال میں ہوتی ہے اس لئے اس کی اجازت لیناقانوناً ضروری نہیں ہے۔ہاں اگرچرچ کے باہرمیدان میں عیسائیوں کاکوئی مذہبی پروگرام ہورہاہوتا تو اس کےلئے اجازت ©ضروری تھی۔داروغہ گپتا نے چرچ میں ہو رہی پرئیررکوا دی امریکی شہریوں اور ان کے سامان کی سختی کے ساتھ تلاشی لی گئی۔ بعدمیں داروغہ نے کہاکہ ہندویواواہنی کی جانب سے انہیں شکایات ملی ہیں کہ چرچ میں ہندوو ¿ں کا مذہب تبدیل کرایا جا رہاتھااس کی تحقیقات کی جائیگی۔اگر شکایت صحیح پائی گئی توچرچ اور اس کے پاسٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائیگی۔اگریواواہنی کی شکایت کوصحیح مان کراس پرپولس کوکارروائی کرنی ہے تو موقع پرجب ہندویواواہنی کے لوگ چرچ کے باہراسے گھیرے کھڑے تھے پولس موقع پر تھی توچرچ کے پاسٹر سے کہہ کرپولس کو اسی وقت اندرجاکروہاں موجود سبھی ڈیڑھ سولوگوں سے پوچھ گچھ کرکے معلوم کرلینا چاہئے تھا کہ کیا چرچ میں کوئی ہندوبھی موجودتھا جسے یواواہنی کے مطابق مذہب تبدیل کرانے کےلئے بلایا گیا تھا۔پولس نے ایسا نہیں کیا تا کہ بعد میں کچھ فرضی لوگوں کا بیان درج کرکے چرچ پرمذہب تبدیل کرانے کے الزام لگایا جاسکے۔گورکھپور کے ہی نزدیکی ضلع گونڈا میں ہندویواواہنی کے لوگ مودی سرکارکے اس اعلان پرعمل کرانے پہنچ گئے کہ اب کوئی بھی سرکاری ڈاکٹرپرائیویٹ پریکٹس نہیں کریگا۔ان لوگوں نے اپنے طریقے اوراپنی زبان میں گونڈا میں تعینات سرکاری ڈاکٹروں کوپرائیویٹ پریکٹس نہ کرنے کا سبق دے ڈالا۔یواواہنی کے طورطریقوں سے ناراض ضلع میںآدھا درجن ڈاکٹروں نے استعفیٰ دے کراپنی جان بچانا ہی مناسب سمجھا۔استعفیٰ دےنے والوں ڈاکٹروںمیں میں فزیشین ڈاکٹرسمیر گپتا،ڈاکٹرآلوک شکلا،چائلڈاسپیشلسٹ ڈاکٹر گھنشیام گپتا،سرجن شاداب زماں خان،ای ایم اوڈاکٹراجیت سنگھ اور آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹرڈی کے راو ¿ شامل ہیں گونڈہ ضلع کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹررتن کمار نے ان سبھی ڈاکٹروں کے استعفیٰ کی تصدیق تو کی لیکن یہ بھی کہا کہ استعفیٰ منظورکرنے کااختیارانہیں نہیں ہے۔

اس طرح یوگی کی اپنی نجی سینا ہندویواواہنی کا دخل سرکاری کام کاج میں برابربڑھتا جا رہا ہے۔لیکن بظاہرخبرلکھے جانے تک آدتیہ ناتھ یوگی نے ہندویواواہنی کوقانون کے دائرے میں رہنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔

Lead News