نگر نگموں کی کاردوائی شروع ہوتے وقت وندے ماترم گانا لازمی، اتراکھنڈ مےں بھی گواےا جائے گا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>نگر نگموں کی کاردوائی شروع ہوتے وقت وندے ماترم گانا لازمی، اتراکھنڈ مےں بھی گواےا جائے گا</h1>

لکھنو ¿۔ ”اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے“ مشرقی اتر پردیش میں سالوں سے یہ نعرہ لگانے والی ہندو ےووا واہنی کے سروے سروا آدتیہ ناتھ یوگی پردیش کے وزیر اعلیٰ بن گئے تو کئی شہروں میں اس نعرے کے ذریعے مسلمانوں کو باقاعدہ خوفزدہ کیا جانے لگا ہے۔ میرٹھ میونسپل کار پو ریشن مےں سب سے پہلے یہ مسئلہ اٹھا تو میرٹھ کے بعد الہٰ آباد، مرادآباد، بنارس اور گورکھپور سمیت کئی شہروں مےں میونسپل کارپوریشن کے مئےروںنے رےزولوشن پاس کرا دیا کہ ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے وقت وندے ماترم گایا جائے گا اور ہر ممبر کے لئے یہ گانا لازمی ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہہ رکھا ہے کہ وندے ماترم گانا ضروری نہیں ہے جس کا دل چاہے اسے گائے اور جس کا دل نہ چاہے وہ نہ گائے۔ سپریم کورٹ کے اس آرڈر کے باوجود اترپردیش کے گورنر رام نائک نے نو اپریل کو محمودآباد میں کہا کہ وندے ماترم گانا قومی فرےضہ ہے جس پر عمل کرنا ملک کے ہر شہری کے لئے ضروری ہے۔ اس سے ایک دن پہلے راج بھون میں ایک کتاب کا اجرا ءکرتے ہوئے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے صاف کہہ دیا تھا کہ وندے ماترم نہ گانا تنگ نظری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اکیسویں صدی کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک اسی جھگڑے مےں الجھے ہیں کہ وندے ماترم گائیں گے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں ترقی کے راستے پر آگے بڑھنا ہے تو اس تنگ نظری اور تنگ ذہنےت سے ابھرناہوگا ۔ گورنر کی طرح وزیر اعلیٰ کا بھی انڈائرےکٹ طریقے سے فرمان یہی ہے کہ ”اگر اتر پردیش میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے۔“

اتر پردیش کو دیکھ کر اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت کے وزیر تعلیم دھن سنگھ راوت نے صاف کہہ دیا کہ جسے اتراکھنڈ میں رہنا ہے اس وندے ماترم کہنا ہوگا جو وندے ماترم نہ کہے وہ اتراکھنڈ چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت جلد ہی کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے لئے وقت مقرر کرے گی کہ وہاں کس وقت وندے ماترم گایا جانا ہے۔ یہ سرکاری فیصلہ سرکاری، پرائیویٹ، مشنریوں اور این جی اوز کے ذریعے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کے لئے لازمی ہوگا۔

اتر پردیش ہی نہیں پورے ملک کے مسلمانوں کو وندے ماترم گانے پر اعتراض رہا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وندے ماترم کا مطلب بھارت ماتا کی ”وندنا“ یعنی عبادت کرنے کا ہے جبکہ اسلام کے ماننے والے اللہ کے علاوہ کسی اور کی نہ تو عبادت کر سکتے ہیں نہ ہی کسی کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم وندے ماترم نہیں کہہ سکتے۔ اگرچہ بہت سے مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وندے ماترم کا مطلب بھارت ماتا کی وندنا، عبادت یا عبادت کرنا نہیں ہے اس کا مطلب ہے ”ماں تجھے سلام“۔ مشہور میوزک ڈائرکٹر اے آر رحمن نے ہاتھ مےں ترنگا لے کر ”ماں تجھے سلام“ نام سے گانا کمپوز کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی ایک بڑی کوشش کئی سال پہلے کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیونکہ مسلم مذہبی رہنماو ¿ں کا کہنا ہے کہ وندے ماترم صرف اور صرف بھارت ماتا کی وندنا، عبادت اور عبادت کرنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ دوسرے ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بتائی جانے والی سب سے زیادہ سطحی کتاب ”آنند مٹھ“ سے لیا گیا ہے لہٰذا ہم اسے گانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

مسلم رہنماو ¿ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ۲۸۸۱ءمیں فقیر سنےاسی تحریک کے وقت اس کی حماےت مےں بنکم چندر چٹرجی نے ”آنند مٹھ“ نام کی کتاب لکھی تھی اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ یہ کتاب انگریز مخالف تحریک کی حمایت میں لکھی گئی تھی۔ اسی میں وندے ماترم نام کا نغمہ تھا۔ ۵۰۹۱ءمیں انگریزوں نے سازش کرکے بنگال کو دو حصوں (ایسٹ اور ویسٹ) میں تقسیم کیا تو پورا بنگال اس تقسیم کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ ہر کوئی وندے ماترم گا کر ہی انگریزوں کی مخالفت کرتا تھا۔ مخالفت کرنے والوں میں ہندو، مسلم سب شامل رہتے تھے۔ اس وقت تک آر ایس ایس پیدا نہیں ہوا تھا ہندو مہاسبھا تھی، ہندو مہاسبھا نے نہ صرف وندے ماترم کی زبردست مخالفت کی تھی بلکہ اس کی چڑھ میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ اب اسی ہندو مہاسبھا اور اس تحریک کے تقریباً بیس سال بعد وجود میں آئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی موجودہ نسلیں وندے ماترم زبردستی گوانے کے لئے مسلمانوں پر دباو ¿ ڈال رہی ہیں۔ دباو ¿ بھی اس حد تک کہ مسلمان خوفزدہ ہو رہا ہے۔

اتر پردیش کے نگر نگموں کا الےکشن جون-جولائی ۲۱۰۲ءمیں ہوا تھا بیشتر (سب سے زیادہ) شہر کارپوریشنز پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا قبضہ ہے اسی کے میئر ہیں۔ شہر کارپوریشنز کے الےکشن مےں بمشکل تین ماہ کا وقت بچا ہے۔ اب چونکہ پردیش میں آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت آ گئی، لہٰذا اچانک وندے ماترم کا جھگڑا میرٹھ میونسپل کار پو ریشن سے شروع کر دیا گیا۔ پونے پانچ سال تک صوبہ کے تمام شہر کارپوریشنز مےں وندے ماترم گایا جاتا تھا تو وندے ماترم شروع ہونے سے پہلے مسلمان کارپورےٹر ایوان سے باہر چلے جاتے تھے اور ختم ہونے کے بعد واپس آتے تھے۔ کبھی کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ اب الےکشن قریب دیکھ کر انتےسمارچ کو میرٹھ کے میئر ہری کانت اہلووالیہ نے فرمان جاری کر دیا کہ وندے ماترم کے وقت جو کارپورےٹر ایوان سے باہر جائیں گے انہیں واپس نہیں آنے دیا جائے گا اور ایوان میں وندے ماترم گانا لازمی ہوگا۔میرٹھ کے مسلم کارپورےٹرو ںنے میئر کے حکم پر ٹکراﺅ سے بچنے کا بہترین طریقہ نکال لیا۔ کارپورےٹر شاہد عباسی، عادل احمد اور عارف انصاری کارروائی شروع ہونے کے وقت آئے ہی نہیں جب وندے ماترم ختم ہو گیا اس کے بعد ہال میں داخل ہوئے۔

میرٹھ کے مسلم کارپورےٹروں کے اس فیصلے سے بی جے پی کے کٹر پنتھےوںنے جھگڑا بڑھانے کے لئے الہٰ آباد سے ایک نیا کام شروع کرنے کی ٹھانی، ابھی تک رےاستی اسمبلی اورنگر کارپوریشنز کی کارروائی کا آغاز وندے ماترم اور اختتام قومی ترانہ یعنی ”جن گن من“ سے ہونے کا رواج ہے۔ میرٹھ کے مسلم کارپورےٹر ایوان کی کارروائی شروع ہوتے وقت وندے ماترم ختم ہونے کے بعد ایوان میں آئے تو الہٰ آباد کے میونسپل بی جے پی کارپورےٹر گری شنکر پربھاکر ”بابا“ نے صرف نیا جھگڑا پیدا کرنے کے لئے ایوان میں ایک تجوےز پیش کردی کہ اب ایوان کی کارروائی کا آغاز قومی ترانے اور اختتام وندے ماترم سے ہوگا۔ ان کی منشا یہ تھی کہ جب وندے ماترم بعد میں ہوگا تو دن بھر وندے ماترم کی مخالفت کرنے والے ایوان میں آنے نہیں پائیں گے۔ ان کی اس تجوےز پر سماجوادی پارٹی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران نے سخت اعتراض کیا دونوں کے درمیان جم کر نوک جھونک ہوئی تو موقعہ کی نزاکت دیکھ کر میئر ا بھیلا شہگپتا نندی نے پورے معاملے مےں دخل دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں کوئی نیا رواج قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایوان کی کارروائی پہلے کی طرح ہی وندے ماترم سے شروع ہوکر قومی ترانے پر ختم ہو گی۔

میرٹھ، الہٰ آباد کے بعد مرادآباد، بنارس اور وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کے اپنے شہر گورکھپور کے بی جے پی مےئروںنے بھی وندے ماترم پر سختی شروع کر دی۔ بنارس میں بھی بی جے پی کے کارپورےٹر اجے گپتا اور میئر رام گوئل موہلے نے کہا کہ وندے ماترم نہ گانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔جو لوگ وندے ماترم گائے جانے کے وقت ایوان میں نہیں ہوں گے انہیں دن بھر کی کارروائی میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ گورکھپور کے میئر ستےہ پانڈے نے بھی اعلان کر دیا کہ اب ایوان کی کارروائی کا اختتام وندے ماترم سے ہوگا۔ ظاہر ہے یہ سارے فیصلے محض جھگڑا پیدا کرکے ہندو ووٹروں کو پولرائز کرنے کی نیت سے کئے گئے ہیں تاکہ جولائی میں ہونے والے میونسپل الےکشن میں ۴۱۰۲ءکے لوک سبھا اور اس سال کے اسمبلی انتخابات کی طرح ہندو ووٹروں کو پولرائز کرکے میونسپل الےکشن جیتے جاسکیں۔

وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کے وندے ماترم پر آئے بیان کے بعد ہندوتو وادی طاقتوں کے حوصلے کافی بلند ہیں کئی جگہ یہ نعرے سنے جا سکتے ہیں کہ اگر”ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے“۔ نعرے بازی صرف کی ہی نہیں جا رہی ہے اس کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جا سکے۔

 

تصویر آدتیہ ناتھ ےوگی- مسلمانوں سے وندے ماترم کہلانے کی تکلیف اور وندے ماترم کے نعرے لگاتی بھیڑ

 

 

 

 

”۵۰۹۱ءمےں انگریزوں نے سازش کرکے بنگال کو مشرقی اور مغر بی دو حصوں میں توڑا تو پورا بنگال انگریزوں کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا۔ لوگوں کا جوش بڑھانے کے لئے وہاں کے ہندو مسلم تمام بنکم چند چٹرجی کی کتاب”آنند مٹھ“ سے لیا گیا نغمہ وندے ماترم گاتے تھے۔ آر ایس ایس وجود مےں نہیں تھا ہندو مہاسبھا کے لوگوں نے وندے ماترم کی مخالفت کی تھی۔ اب انہی کی نسلیں اسے مسلمانوں پر تھوپ رہی ہیں۔“

 

 

 

”وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے وندے ماترم نہ گانے والوں کوتنگ نظری کا شکار قرار دے کر ان لوگوں کو طاقت دے دی جو وندے ماترم کے بہانے مسلم مخالف نعرے بازی کرتے پھرتے ہیں۔ میرٹھ، مرادآباد، گورکھپور، بنارس اور الہٰ آباد کے بی جے پی میئر پونے پانچ سال خاموش رہے یوگی حکومت بنتے ہی کہنے لگے کہ جوکارپورےٹر وندے ماترم گانے میں شامل نہیں ہو گے انہیں ایوان کی کارروائی میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا۔“

 

 

 

 

”مسلم مذہبی رہنما وندے ماترم کو بھارت ماتا کی عبادت اور وندنا کرنا بتاتے ہیں حقیقت ایسی نہیں ہے۔ اے آر رحمان نے وندے ماترم کا ترجمہ ”ماں تجھے سلام“ کمپوز کرکے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، کٹر ہندوتو وادہ طاقتیں جب یہ نعرہ لگاتی ہیں کہ ”ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے“ تو اس نعرے سے چڑھ کر مسلمان بھی اس مخالفت کرنے لگتے ہیں۔“

Lead News