کل بھوشن کوواپس لاناہی ہوگا

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>کل بھوشن کوواپس لاناہی ہوگا</h1>

نئی دہلی!پاکستان کے چنگل میں پھنسے نیوی کے ریٹائرافسرکل بھوشن جادھوکوپاکستان سے صحےح سلامت واپس لانا ہی ہو گا۔پورا ملک اور ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں اس معاملے میں سرکار کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں۔پاکستانی آرمی میں کل بھوشن کوہندستان کا جاسوس بتا کر موت کی سزاکااعلان کر رکھا ہے۔ابھی تک پاکستان یہ صاف نہیں کرپایا ہے کہ جادھوکے خلاف کس عدالت میں مقدمہ چلایا جائیگا اوراسے اپنی پرپیروی کرنے کا کیا کیاقانونی سہولتےں دی گئی تھیں۔پاکستان کبھی تو آرمی کورٹ میں جادھوپرمقدمہ چلائے جانے کی بات کرتا ہے توکبھی کہتا ہے کہ مقدمہ سول ٹرائل کورٹ میں چلا۔مرکزی وزیرخارجہ سشما سوراج نے پارلیمنٹ میں ایک بیان دے کرملک سے وعدہ کیا ہے کہ کچھ بھی کرنا پڑے ہم جادھو کو صحےح سلامت واپس لائیں گے۔انہو ںنے کہا کہ کل بھوشن جادھو کوپھانسی دینے کا فیصلہ ایک سوچی سمجھی قتل کی سازش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔سشما کے بیان کے بعد ملک کویقین ہوگیا ہے کہ جادھو کومودی سرکارصحےح سلامت واپس لائیگی۔ملک کی ایک کی بڑی آبادی کا تو اب یہ خیال ہے کہ پاکستانی حرکتوں کی وجہ سے اب صبر کاپیمانہ ٹوٹ چکا ہے او رپانی سر سے کافی اونچائی تک پہنچ گیا ہے۔اب ایٹمی جنگ کے خطرے اور خوف کوبھلا کر پاکستان کے ساتھ ایک بار فیصلہ کن طریقے سے دو-دوہاتھ ہوجانے چاہئے۔

اچھی بات یہ ہے کہ کل بھوشن جادھو کوپھانسی کی سزاکااعلان ہونے کے بعد سے پاکستانی میڈیا اوربڑی تعدادمیں سمجھدار لوگوں نے ا پنی سرکار کووراننگ دیتے ہوئے حکمرانوں سے کہا ہے کہ اس قسم کی غیرضروری فیصلوں سے دونوں ملک کے درمیان کشیدگی میں غیرضروری اضافہ ہوگا جو کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ہندستان کے ساتھ-ساتھ پاکستانی میڈیا اورذمہ داران کی جانب سے بڑھے دباو ¿ کی وجہ سے ایسا لگتا ہے بھلے ہی پاکستان نے کل بھوشن جادھو کے لئے پھانسی کی سزا کااعلان کردیا ہے انہیں پھانسی دینااب پاکستان کےلئے آسان نہیں ہوگا۔پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار’دی نیشن‘نے اپنے پہلے صفحے پرایڈیٹوریل شائع کیا جس میںلکھا ہے کہ جادھو کوپھانسی دینے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہی کریگا۔اخبار نے لکھا کسی کوپھانسی دینا کوئی بڑا کام نہیں ہے ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا اس پھانسی کے بعد اس کے جو سیاسی اور سفارتی کوٹنیتک برے اثرات کوجھیل پانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

مشہوراخبار’ڈان‘ اور’دی ایکسپریس ٹربیون‘ نے بھی کچھ اسی قسم کی رائے ظاہر کی ہے۔اخبار کے مطابق ہندستانی نیوی کا افسرجادھو جا سوسی کے مقصد سے حسین مبارک پٹیل نام سے پاکستان میں داخل ہوا۔اسے پکڑلیا گیا تومبینہ کتھت اقبالیہ بیان میں اس نے تسلیم کیا کہ اس نے کراچی اور بلوچستان کے کئی مقامات پربم دھماکے کرانے کی سازش رچی تھی۔ان دنوں اخبارات نے لکھا ہے کہ اس وقت ویسے بھی ددنوں پڑوسی ملکو ں کے درمیان کافی تناو ¿ کا ماحول ہے۔اس وقت اس قسم کے فیصلوں سے صورتحال مزیدخراب ہی ہوگی۔ اخبارات نے لکھا ہے کہ انٹرنیشنل فورم پرہمارے لئے جواب دے پانا آسان نہیں ہوگا اس کے علاوہ لائن آ ف کنٹرول پرجو سنگین حالات پیداہو جائیںگے ان سے نمٹ پانا آسان نہیں ہوگا۔

عجیب بات ہے کہ کل بھوشن جادھو کے معاملے میں ادھر کے وزیراعظم نواز شریف اور ادھر نریندرمودی دونوں خاموش ہیں۔پاکستانی ڈفینس منسٹرخواجہ آصف نے گیارہ اپریل کوکہا کہ کہ جادھو پرقانون کے مطابق پوری ایمانداری او رنیک نیتی کے ساتھ مقدمہ چلا یا گیا ہے۔ انہیں فوجی عدالت نے پھانسی کی سزادی ہے ساتھ ہی اس فیصلے کے خلاف اوپری عدالت میں اپیل کرنے کےلئے انہیں ساٹھ دنوں کاوقت بھی دیا گیا ہے۔ہندستانی وزیرخارجہ سشما سوراج اور ہوم منسٹرراجناتھ سنگھ دنوں نے سخت الفاظ میں پاکستان کووارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی حالت میں جادھو کوواپس لائیں گے۔جادھو پرپاک آرمی عدالت میں کسی قسم کا مقدمہ چلائے جا نے کا پاکستانی کا دعویٰ اس لئے بھی کھوکھلا،کمزوراورجھوٹ لگتا ہے کہ اگران کے مطابق جادھو نے بلوچستان اورکراچی میں بم دھماکے کرانے کی سازش رچی تھی توانہوں نے کچھ مقامی لوگوں کوبھی اپنے ساتھ لیا ہوگا۔مقامی ایجنٹوں کے بغیرایک جادھو تو بم دھماکے نہیں کرسکتے تھے۔وہ مقامی ایجنٹ کہاں گئے پاکستان کے پاس ان مقامی ایجنٹوں یا ماڈیولس کا کوئی ریکارڈ ہے کیا؟بہرحال ہربار کی طرح پاکستان کا یہ قدم بھی مضحکہ خیز ہی لگتا ہے۔ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ کل بھوشن جادھو صحیح سلامت واپس آئیں گے۔