ووٹ سمجھانے سے نہیں، بہکانے سے آتا ہے…اکھلیش یادو

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ووٹ سمجھانے سے نہیں، بہکانے سے آتا ہے…اکھلیش یادو</h1>

لکھنؤ۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی  الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اکھلیش یادو نے صحافیوں سے بات کی۔ یوپی میں پچاس سیٹوں کی گنتی بھی نہ چھو پائی سماج وادی پارٹی کے قومی صدر موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ وہ اتر پردیش کے عوام کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو ایکسپریس وے پسند نہ آیا ہو اور وہ بلٹ ٹرین چاہ رہے ہوں۔ شاید اسی لیے انہوں نے ووٹ دیا ہے۔ اتر پردیش میں پارٹی کی شکست کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد ہی انہوں نے شکست کی ذمہ داری لینے کی بات کہی ۔ اکھلیش یادو نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات تو صاف ہے کہ ووٹ سمجھانے سے نہیں بہکانے سے آتا ہے۔ اکھلیش نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کو اپنی کمزوری نہ مانتے ہوئے اسے دو لیڈروں کا ملن بتایا ۔ مایاوتی کے اے وی ایم پر سوال اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو حکومت کو اس کی جانچ کرنی چاہئے۔ میں بھی اپنے طور پر اس معاملے پر نظر رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جو عوام نے فیصلہ کیا وہ مجھے قبول ہے۔ انہوں نے  کہا بی ایس پی نے ای وی ایم پرجو سوال اٹھایا ہے۔ اس سوال پرالیکشن کمیشن اور دیگر کو توجہ دینا چاہئے۔ حکومت کو اس بارے میں سوچنا چاہئے۔ انہوں کانگریس کے اتحاد کے بارے میں کہا کہ یہ آگے بھی جاری رہے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ کانگریس ہمارے ساتھ آئی اور دو نوجوان لیڈر ساتھ الیکشن لڑے۔ انہوں نے کہا انتخابات کے نتائج حیران کرنے والے ہیں۔ ہماری میٹنگوں میں بھیڑ دیکھنے کو ملی لیکن رزلٹ کچھ اور ہی ہے۔ اکھلیش نے شکست کی ذمہ داری پر کہا کہ پارٹی کا قومی صدر ہوں اور میں شکست کا تجزیہکروں گا۔ اگر میری ذمہ داری ہے تو میں اسے ضرور لوںگا۔ انہوں نے کہا کام ہمیشہ بولے گا اور جب تک ہم سے اچھا نہیں کر پائے گا تب تک کام بولے گا۔ انہوں نے ووٹنگ کے بارے میں کہا کہ ووٹ سمجھانے سے نہیں بہکانے سے ملتا ہے۔ اتر پردیش کے عوام کو بہکایا گیا۔ اکھلیش پریس کانفرنس میں ہنستے  ہوئے نظر آئے۔ انہو ںنے کہا کہ میں تو ہنس بھی رہا ہوں باقی جو پارٹیاں ہارتی ہیں وہ ہنستی بھی نہیں۔