مایاوتی نے لگایا اے وی ایم میں گڑبڑی کا الزام

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مایاوتی نے لگایا اے وی ایم میں گڑبڑی کا الزام</h1>

لکھنؤ۔ اپنی تمام انتخابی ریلیوںمیں اتر پردیش میں حکومت بنانے کا دعویٰ کرنے والی بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نریندر مودی اور امت شاہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں شرمناک شکست کھانے کے بعد پریس کانفرنس میں براہ راست الزام لگایا کہ ووٹنگ مشین میں خرابی کی وجہ سے بی جے پی کی جیت ہوئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی ۱۹۹۳؁ئسے یوپی میں دلت پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی اور ملائم سنگھ یادو کے ساتھ حکومت بھی بنائی تھی اس کے بعد سے یہ اس کی سب سے کراری شکست ہے۔  اگر چہ لوک سبھا الیکشن میں اس کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا مگر اسمبلی الیکشن میں جس پستی میں پہونچ گئی اس کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو۔ پریس کانفرنس میں مایاوتی نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو ووٹ ملا یہ ہضم ہونے والی بات نہیں ہے۔ ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ سے بی جے پی کی جیت ہوئی ہے۔

مایاوتی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ دوبارہ انتخابات کرائیں۔ مایاوتی بولیں کہ بی جے پی نے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ مایاوتی نے کہا دوسری پارٹیوں کا ووٹ بھی بی جے پی کو ملا۔ بٹن کوئی بھی دبایا ہو لیکن ووٹ بی جے پی کو ہی پڑا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ اس مسئلے کو لے کر ہم نے الیکشن کمیشن میں بھی شکایت درج کی  لیکن الیکشن کمیشن نے اسے بے بنیاد الزام بتایا۔ مایاوتی نے کہا کہ پی ایم مودی اور امت شاہ کو الیکشن کمیشن میں خط لکھ کر یہ بتانا چاہئے کہ انہیں صحیح ووٹ ملے ہیں یا نہیں۔  ووٹنگ کے لیے بیلییٹ پیپر کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ ای وی ایم سے۔  مایاوتی بولیں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ۲۰۱۹؁ئکے لوک سبھا الیکشن تک جمہوریت ختم ہو جائے گی۔

مسلم سماج کے لوگ بول رہے ہیں کہ ہم نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیاپھر کس طرح ووٹ ملا۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کو کس طرح ووٹ مل گیا۔ ہم نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اترپردیش اسمبلی الیکشن کے نتائج میں ہیرا پھیری کی بات کہتے ہوئے بی جے پی پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔  مایاوتی نے پریس کانفرنس میں سیدھے سیدھے بی جے پی پر ووٹنگ مشین کو مینج کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا مسلم اکثریتیعلاقوں میں بھی بی جے پی کو بہت زیادہ ووٹ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ ۴۰۳اسمبلی حلقوں میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار نہیں اتارا پھر بھی مسلم علاقوں میں بی جے پی کے امیدوار جیت گئے. یہ بات گلے نہیں اترتی۔ بی جے پی پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ۲۰۱۴؁ء لوک سبھا الیکشن میں بھی ووٹنگ مشین میں گڑبڑی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا جس میں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۷۳سیٹوں پر قبضہ جمایا تھا۔ مایاوتی نے بی جے پی صدر امت شاہ اور پی ایم مودی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست میں دوبارہ انتخابات کرانے کے لئے چیف الیکشنکمشنر کو عرضی دیں۔ اترپردیش اسمبلی الیکشن کے نتائج جہاں بھاری چونکانے والے اور بی جے پی کے حق میں ہیں تو وہیں دوسری طرف ان انتخابات میں بی ایس پی چیف مایاوتی کی کراری شکست نے کئی علاقائی پارٹیوں کی فکر مندیاں بڑھا دی ہیں۔  ۴۰۳  اسمبلی سیٹوں اترپردیش میں مایاوتی سو کے آنکڑے کو بھی نہیں چھو پائی۔ ظاہر طور پر گزشتہ پانچ سال سے اقتدار سے دور مایاوتی کی بی ایس پی کے مستقبل پر اس الیکشن نے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ویسے تو ۲۰۰۹؁ء کے لوک سبھا الیکشن کے بعد سے ہی بی ایس پی کا سیاسی گراف ڈھال پر ہے۔  ان انتخابات میں اس کے پاس واپسی کا آخری موقع تھا۔  لیکن مایاوتی چوک گئیں۔ ماہرین کی مانیں تو اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی بھاری جیت کی ایک بڑی وجہ دلت اور مسلم ووٹ بینک یعنی جو ووٹ بینک مایاوتی کا رہا ہے وہ اب کھسک کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں آیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال دیوبند کی مسلم اکثریتی سیٹ ہے جہاں سے بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار برجیش سنگھ نے الیکشن جیت لیا ہے۔