بی جے پی کی جیت کا سہرا مودی کے سر… امت شاہ

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>بی جے پی کی جیت کا سہرا مودی کے سر… امت شاہ</h1>

نئی دہلی۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے کہا کہ وہ اتر پردیش، اترا کھنڈ منی پور اور گوا میں حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ پانچ ریاستوں کے الیکشنکے نتائج آنے کیبعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے لئے یہ حوصلہ افزائاور خوش کرنے والے ہیں۔ ملک کے باشندوں کو ہولی کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کے عوام کا خصوصیشکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ الیکشننتیجے ملک کی سیاست کو نئی سمت دیں گے۔ امت شاہ نے کہا کہ اتر پردیش اور اتراکھنڈمیں بی جے پی کو تین چوتھائی اکثریت ملی ہے جو ان دونوں ریاستوں میں آزادی کے بعد سب سے بڑی جیت ہے۔ گوا اور منی پور میں بھی ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں. پنجاب میں ہار کے باوجود بھی ہم نے تیسفیصد ووٹ حاصل کیا ہے۔

امت شاہ نے اس جیت کا کریڈٹ وزیر اعظم نریندر مودی کو دیا۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے تین سال کی مدت کار میں غریبوں کی بہبود کے لئے ۹۳منصوبے نافذ کیے جس کا براہ راست فائدہ عام لوگوں کو ملا۔ پانچ ریاستوں کے عوام نے ثابت کر دیا کہ نوٹ بندی، دیہات میں بجلی پہونچانے اور اجولا اسکیم سے انہیں کافی فائدہ ہوا۔ ملک کے دلت اور پسماندہ طبقے کے لوگوں نے مودی پر اعتماد کیا۔ امت شاہ نے کہا کہ اس نتیجے کے بعد مخالفینبھی مانیں گے کہ ملک کی آزادی کے بعد پی ایم مودی سب سے مقبول لیڈر بن کر ابھرے ہیں۔ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وزیر اعظم مودی ۲۰۱۴؁ئمیں کئے گئے وعدے کو نبھانے میں سو فیصد کھرے اترے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پورے انتخابات میں نریندر مودی پر ذاتی حملے کا عوام نے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت ملک سے ذات پات، منہ بھرائی کی پالیسی ، کنبہ پرستی کو ختم کرے گی۔ یوپی سمیت دیگر چار ریاستوں کے عوام نے پالیٹکس آف پرفارمنسپر ووٹ دیا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ دو مرحلوں کے بعد میں نے کہا تھا کہ ہم ۱۲۵میں سے ۹۰نشستیں جیتیں گے۔ میرے اس بیان کو کچھ صحافیوں نے ہلکے میں لیا تھا۔ رزلٹ آئے تو ہم نے ۱۲۵میں سے ۱۱۵نشستیں جیتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جی ڈی پی کو دہائی کے آنکڑے میں پہونچانے کے لئے یوپی کی ترقی ضروری ہے۔ جو اب ممکن ہو پائے گی۔ امت شاہ نے کانگریسصدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی اور رائے بریلی میں بی جے پی کی جیت کا الگ سے ذکر کیا۔ کہا کہ لوک سبھا الیکشن کے دوران ان دونوں جگہوںہمارا مظاہرہخراب رہا تھا لیکن اس بار دس میں سے چھ نشستیں بی جے پی کے کھاتے میں گئی ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کی جانب سے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ والی بات پر امت شاہ نے بولنے سے انکار کر دیا۔ وزیر اعلیٰ کے سوال پر امت شاہ نے کہا کہ بارہ مارچ کو بی جے پی دفتر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی پارلیمانی بورڈ وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کے عوام ہندو مسلم کے دائرے سے باہر آ چکے ہیں۔

امت شاہ رائے بریلی میں پرینکا گاندھی کے ذریعہ نریندر مودی پر کئے گئے حملے کا سوال ٹال گئے۔ گورکھپورمیں پریس کانفرنس میں صحافیوں نے جب پرینکا کے حملوں پر بی جے پی کا جواب جاننا چاہا تو امت شاہ نے کہا کہ یہ بتانے کا میرا لیول نہیں ہے۔ امت شاہ سے پوچھا گیا تھا کہ پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ یوپی کو کسی کو گود لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟ جواب میں شاہ نے کہا کہ ہمارا کوئی ترجمان کا جواب دے گا۔ مجھے کہاں اس میں الجھاتے ہو۔ امت  شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ لیول ایک رہنے دو۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے گورکھپور میں پریس کانفرنس کر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد پر جم کر حملہ سادھا۔ امت شاہ نے کہا کہ جو سماج وادی پارٹی زندگی بھر کانگریس کی مخالفت کرتی رہی اسی سے اتحاد کر لیا۔ اتحاد سے صاف ہے کہ اکھلیش یادو نے اپنی ہار قبول کر لی تھی۔ امت شاہ نے کہا کہ اتحاد دو کرپٹ کنبوں کے درمیان ہے۔ سماج وادی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یوپی میں عورتیں محفوظنہیں ہیں۔  یہاں غنڈوں کا بول بالا ہے۔ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کا حال برا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نے اکھلیش کے ترقی کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ میٹرو صحیح طریقے سے شروع نہیں ہوسکی اور اکھلیش جی نے ہری جھنڈی دکھا دی۔ وزیر ریپ کے الزام میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان الزامات پر اکھلیش خاموش ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ ہم نے اپنے انتخابی منشورمیں تمام چھوٹے اور معمولی کسانوں کے قرض معاف کرنے کی بات کہی ہے۔