جئے للیتا کے وفادار پنیر سیلوم کی ششی کلا کے خلاف بغاوت – تمل ناڈو میں گدّی کے لئے رسّا کشی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>جئے للیتا کے وفادار پنیر سیلوم کی ششی کلا کے خلاف بغاوت – تمل ناڈو میں گدّی کے لئے رسّا کشی</h1>

چینئی۔ تمل ناڈو پچھلے چند مہینوں سے نیشنل میڈیا کی سرخیاں بٹور رہا ہے چاہے وہ تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جئے للیتا کی بیماری ہو یا پھر ان کی موت پر پورے صوبے کا امّا کے سو گ میں ڈوب جانا یا پھر جلی کٹو پر پابندی کے خلاف مرینہ بیچ پر مظاہرین کا اژدہام لیکن اب جو معاملہ سرخیوں میں ہے اس نے تمل ناڈو میں ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔ تمل ناڈو کی سابق وزیر  اعلیٰ جئے للیتا کی جگری دوست ششی کلا اور جئے  للیتا کے سب سے بڑے معتمد او پنیر سیلوم کے بیچ صوبے کی گدی کے لئے تلواریں کھنچ گئی ہیں۔ ششی کلا  دعویٰ کررہی ہیں کہ ان کے ساتھ ایک سو تیس سے زیادہ ممبران اسمبلی ہے جبکہ  جئے للیتا کی موت کے بعد وزیر اعلیٰ بنے پنیر سیلوم نے یہ کہہ کر  اے آئی ڈی ایم کے  میں بھونچال لادیا کہ ان پردباؤ  ڈال کر وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دلوادیا گیا۔ پانچ فروری کو اے آئی ڈی ایم کے لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں حال ہی میں پارٹی کی جنرل سکریٹری بنی ششی کلا کو لیڈر چنا گیا تھا دو دن تک سب کچھ معمول پر چل رہا تھا اور یہ مانا جارہا تھا کہ جیسے ہی ریاست کے گورنر ودیا ساگر ممبئی سے واپس چینئی آئیں گے ششی کلا کو تمل ناڈو کی نئی وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی رسم ادا کی جائے گی۔ لیکن سات فروری کو جئے للیتا کی میموریل پر آدھے پون گھنٹے تک ’’دھیان‘‘ لگانے کے بعد وہ واپس آئے تو ان کے تیور ایک دم بدلے نظر آئے۔ پہلے ان کا یہ بیان  آیا کہ وہ اے آئی ڈی ایم کی سابق لیڈر کی موت کا سچ بتائیں گے پھر یہ کہا کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔ پھر یہ کام چلاؤ وزیر اعلیٰ پنیر سیلوم نے یہ کہا کہ وہ استعفیٰ واپس لے سکتے ہیں اور ممبران اسمبلی کی خاصی تعداد بھی ان کے ساتھ ہے ۔ تمل  ناڈو جس سیاسی بحران  کی زد میں ہے خبر لکھے جانے تک حالات  بدستور تھے کیونکہ ایکٹنگ وزے اعلیٰ اوپنیر سیلوم اور لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر چنی گئیں  ششی کلا دونوں  نے گورنر ودیا ساگر راؤ سے ملاقات کرکے اپنے اپنے دعوے پیش کئے تھے مگر تب تک گورنر کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔

بظاہر تو ششی کلا کا دعویٰ بہت مضبوط دکھائی دے رہا ہے کیونکہ پارٹی کے ایک سو پیتیس ارکان اسمبلی میں سے ایک سو تیس کی فہرست ششی کلا نے گورنر کو پیش کی ہے جبکہ پنیر سیلوم کا دعویٰ ہے

کہ پچاس سے زائد ممبران ان کے ساتھ ہیں تو دوسری طرف ڈی ایم کے نے ان کی حمائت کا اعلان کرکے اے آئی ڈی ایم کے چل رہی ساکشی کو بہت ہی دلچسپ موڑ پر لادیا ہے۔ نو فروری کی رات میں ڈی ایم کی جانب سے کہا گیا کہ اگرپنیر سیلوم کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی ضرورت پڑی تو وہ ان کا ساتھ دے گی۔ کئی دنوں کے انتظار کے  بعد نو فروری کو جب ریاست کے گورنر ودیا ساگر راؤ چینئی پہونچے تو پہلے ریاست کے کام چلاؤ وزیر اعلیٰ اوپنیر سیلوم  گورنر سے ملاقات کرنے پہونچے، یہ ملاقات بہت مختصر رہی اور محض چند منٹ تک چلی۔ ملاقات کے بعد پنیر سیلوم نے کہا کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لینے کو تیار ہیں واضح ہو کہ  ششی کلا کے لیڈر چن لئے جانے کے بعد پنے سیلوم نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے جو استعفیٰ دیا تھا اسے منظور کرلیا گیاتھا اور ان سے اگلے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک کام چلاؤ وزیر اعلیٰ رہنے  کو کہا گیا  تھا۔

کہا جارہا ہے کہ اوپنیر سیلوم کے حق میں سب سے اہم یہی ہے کہ وہ دوبارہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال چکے ہیں اور وہ تجربہ کار سیاست داں ہیں جبکہ ششی کلا کو سیاست کی  زمینی حقیقت کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی  وہ کبھی سرکار میں رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی ڈی ایم کے  کے سینئر لیڈر اور سابق اسمبلی اسپیکر پی ایچ پانڈین نے یہ کہا کہ  ششی کلا میں  پارٹی چیف  اور وزیر اعلیٰ بننے کی اہلیت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا  کہ جئے للیتا کی موت میں ششی کلا کا ہاتھ ہے اور اس کی جانچ ہونا چاہئے۔ ششی کلا کے افراد کنبہ نے جئے للیتا کو گھر میں دھکا دے دیا تھا اور گرنے کی وجہ سے  وہ شدید طور پر زخمی ہوگئی تھیں۔ پھر ششی کلا نے  پارٹی کے لوگوں پر دباؤ ڈال کر اپنے حق میں کرلیا۔ ان کا لیجسلیچر پارٹی کا چنا جانا قانون کے خلاف ہے۔ تو پنیر سیلوم سیدھے طور الزام عائد کررہے ہیں کہ ششی کلا نے  ممبران اسمبلی کو یرغمال بنالیا ہے۔ پنیر سیلوم نے اس سے پہلے  آٹھ فروری کو یہ کہا تھا کہ جئے للیتا کی صحت سے متعلق شکوک و شبہات کی جانچ کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا اور پارٹی کے مستقل جنرل سکریٹری کے عہدہ کے لئے جلد ہی الیکشن ہوگا۔

ششی کلا جب گورنر سے ملاقات کرنے گئیں تو ان کے ساتھ پارٹی کے پانچ سینئر لیڈر بھی  تھے تو راج بھون کے پاس ششی کلا کے حامی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ ششی کلا نے ممبران اسبمبلی کے حمائت والے مکتوب کو گورنر کو سونپا اور سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ تمل ناڈو میں  جاری سیاسی ہلچل کی آواز نئی دہلی میں بھی سنائی دی  جب ششی کلا کے حامی پارٹی کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر تھمبی دورئی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی انہوں نے وزیر اعظم کو تم ناڈو کے تازہ سیاسی حالات سے واقف کرایا اور ان سے  مداخلت کی مانگ کی۔ واضح ہو کہ  تمل ناڈو کی بی جے پی اکائی پہلے ہی پنیر سیلوم کو اپنی حمائت دینے کا اعلان کرچکی ہے۔ تمل ناڈو کی بی جے پی یونٹ نے پنیر سیلوم کا دفاع کیا او رکہا کہ انہوں نے دو مہینوں میں دانشمندی سے کام لیا ہے۔ اے آئی ڈی ایم کے کی قیادت اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے ریاست میں  لوگوں کو گمراہ کرنے والی  باتیں کررہی ہیں۔

HIndi Latest