سامنے آہی گئی آر ایس ایس کی دلت مخالف ذہنیت

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>سامنے آہی گئی آر ایس ایس کی دلت مخالف ذہنیت</h1>

لکھنؤ۔ دلتوں سے نفرت اور ان کو ملے رزرویشن کو ختم کرانے کی آر ایس ایس کی سازشیں بند ہونے یا رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں دلت ریزرویشن کے سوال پر آر ایس ایس چھوٹے پردے کے پرچارک دہلی یونورسٹی کے ایک پرو فیسر راکیش سنہا بار ۔بار جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ رزرویشن کے خلاف آر ایس ایس کی اکزکیوٹی کمیٹی اور پرتی ندھی سبھا نے کبھی کوئی تجویز یا کوئی ریز ولوشن منظور نہیں کیا ہے اس لئے ہم اور پورا آر ایس ایس کنبہ ریزرویشن مخالف نہیں ہے ۔بہار کے سابق چیف منسٹر راسٹری جنتا دل کے صدر لالو یادو جب ار ایس ایس کے انتہائی اہم چیف رہے گرو گولوالکر کی کتاب بنچ آف تھائیٹس دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سنگھیوں کے لئے گیتا اور بائبل کی حثیت رکھنے والی کتاب ہے اسمیں صاف صاف لکھا ہے کہ دلتوں کو ریزردیشن نہیں دیا جانا چاہیے تو لالو کے اس بیان پر راکیش سنھا سمیت تمام سنگھیوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے ۔

یہ بات پتھر پر کھنچی لکیر کی طرح ہے کی آر ایس ایس کسی بھی صورت میں ریزرویشن ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی ذہنیت کے شکار آرایس ایس پرچارکوں اور عہدیداروں کے منہ سے کہی نہ کہی دل کی بات نکل ہی جاتی ہے گزشتہ دنوں جے پور کے لٹریری فیسٹول میں ار ایس ایس کے ایک اہم عہدیدار منموہن ویدھ زبان پر بھی انکے دل کی بات گروگولوالکر کی ہدایت ا ٓہی گئی ۔وہ بول گئے کہ ریزرویشنرتو آئن کو لکھنے والے بابا صاحب امبیڈ کر نے بھی صرف دس سالوں کے لئے دیا تھا اب تو ۶۶ سال ہو گئے ہیں ۔اب تعلیم حاصل کرنے کے لئے دلتوں کو ہر ممکن سہولت دی جانی چاہیے لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب نوکری کے لئے آئے تو اہلیت قابلیت کی بنیاد پر ہی نوکری دی جانی چاہیے ۔نوکریوں میں رزرویشن دیا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ منموہن ویدھ نے اپنے دل کی بات تو کہ دی لیکن فورن ہی پورے آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈران کو احساس بھی ہو گیا کہ منموہن ویدھ کے اس بیان سے پانچ ریاستوں خصوصاًاتر پردیش کے الیکشن پر اسکا بہار جیسا الٹا اثر پڑ سکتا ہے ۔تو فوراً ہی تمام لیڈران ڈیمج کنڑول کے کام میں جٹ گئے ۔

منموہن ویدھ پر دبائو ڈال کر انکا بیان تبدیل کرایا گیا لیکن کمان سے نکلا تیر واپس کہاں آنے والا تھا ۔منموہن ویدھ کے بیان پر تقریبا تمام گیر ان ڈی اے پارٹیوں کے لیڈران نے پورے ملک میں مہنگا کھڑا کر دیا ہے ۔بہوجن سماج پارٹی کی سپریموں مایا وری نے تو یہا ں تک کہ دیا کہ اگر دلتوں کو مل رہے رزرویشن کو ختم کیا گیا تو دلت سماج کی طاقت سے وہ بی جے پی کو سیاست بھلا دے گی ۔کانگریس راسٹری جنتا دل لوک دل تڑل مول کانگریس سمیت تقریبا سبھی چھوٹی بڑی علاقائی پارٹیوں کے لیڈران نے منموہن ویدھ کے بیان کی مذمت کی ساتھ ہی وزیر آعظم نرندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسلہ پر اپنی سرکار اور پارٹی کا مو اقف صاف کریں ۔یاد رہے کہ بہار اسمبلی کے پچھلے الیکشن کے وقت ار ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے بھی رزرویشن پر اپنے گولوالکر کی پالیسی اور اپنے دل کی بات کرتے ہوئے کہ دیا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دلتوں کو مل رہے رزرویشن پر نظر ثانی کیا جانا پاہیے ۔موہن بھاگوت کے اس بیان نے بہار کے دلتوں کو بھارتی جنتا پارٹی سے دور کر دیا تھا ۔اس وقت دلت ووٹ حاصل کرنے کے لئے وزیر آعظم نریندر مودی نے بہار کی کئی پبلک میٹنگ میں اپنی عادات مطابق ڈرامہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک انکی جان میں جان ہے وہ دلتوں کے رزرویشن پر انچ بھی نہی آنے دینگے ۔انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ دلت بھائیوں کے رزرویشن کو بچائے رکھنے کے لئے وہ اپنے جان تک کی بازی لگا دینگے ۔دلتوں نے ان کی اس لفاضی اور جملے بازی پر یقین نہی کیا تھا ۔بہارکے دلتوں نے بی جے پی اور رام ولاس پاسوان جیسے انکے ساتھیوں کے امیدوار کو بھی ووٹ نہ دے کر ہرا دیا تھا ۔اب منموہن دیدھ کے بیان کے بعد اتر پردیش اسمبلی میں بھی بہار جیسے حالات دکھ رہے ہیں ۔اتر پردیش میں تو نریند رمودی یہ انکی پارٹی کے صدر امت شاہ اس مسئلہ پر صفائی بھی نہی دے پہ رہے ہیں۔ار ایس ایس دلتوں کے رزرویشن کے خلاف ہے یہ لائن تو گولولکر نے ہی طے کردی تھی۔اب اگر نریندر مودی موہن بھاگوت یا راکیش سنہا جیسے چھٹ بھیا ء سنگھی اس پر صفائی دیتے ہیں تو فورن ہی یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ گرو گولولکر کی کتاب بنچ آف تھائٹس کو مسترد کرنے کے لئے تیار ہیں اگر نہی تو انکی صفائی مہز ایک ڈرامہ کے سوا اور کچھ نہی ہے ار ایس ایس چیف موہن بھاگوت ہوں یہ نریندر مودی جیسے سینئر طاقتور پرچارک گرو گولولکر کی کتاب بنچ آف تھائٹس کو نکارنے کی حثیت کسی کی نہی ہے ۔یہ لوگ کتاب کے خلاف بولنے کی ہمت نہی کر سکتے ہیں ۔منموہن ویدھ کے بیان کے بعد بی جے پی کے کئی سنئر لیڈران نے موہن بھاگوت کے پاس جاکراتر پردیش کے الیکشن میں ہونے والے متوتہ نقصان سے با خبر کیا ہے تو ار ایس ایس نے اپنے ایک تیز ترر عہدیدار سنگھ کے سہ سر کارواہ دتتا ترے ہوس بولے کو میدان میں اتارا انھوں نے بیان دینا شروع کیا کی ار ایس ایس شیڈول کاسٹ شیڈول ٹرائبس اور بیک ورڈ طبقوں کو مل رہے رزرویشن کو جاری رکھنے کے حق میں ہے ۔ہم رزرویشن کے مخالف ہر گز نہی ہیں ۔انکے بیانات کا دلتوں اور پچھڑوں پر کوئی اثر نہی ہوا ۔

اب ار ایس ایس کی جانب سے ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہوئے افواہین  پھلائی جا رہی ہیں ۔اور میڈیا میں خبرے پلانٹ کی جا رہی ہے ۔کہ ارایس ایس کو اپنی مشینری کے ذریعہ یہ پختہ اطلا ملی ہے کہ اتر پردیش پنجاب اور اترا کھنڈ وہ گووا میں بھارتی جنتا پارٹی الیکشن ہار رہی ہے ۔اس ہونے والی ہار سے نریندر مودی کی  تصویر خراب نہ ہو انکی ساخ باقی رہے اور نوٹ بندی کے انکے فیصلے کو عوام کی نظروں میں غلط نہ ٹھرایا جائے اس لئے منموہن ویدھ نے جان بوجھ کر دلت رزرویشن کے خلاف بیان دیاتھا ۔تاکہ چار پردیشوں کے اسمبلی ہارنے پریہ کہا جا سکے کہ اس شکست ا نریند مودی سے کچھ لینا دینا نہی ہے ۔یہ تو منموہن ویدھ کا یہ دلت مخالف بیان تھا ۔جسنے بی جے پی کو ہرا دیا ۔اب اگر ار ایس ایس کے لوگ یہ افواہیں پھیلاتے پھر رہیں ہیں ۔کہ بہار میں بھی سنگھ کی مشینری نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ لالو نتیش اور کانگریس کے گڈھ جوڑ کے سامنے بھارتی جنتا پارٹی کہی بھی ٹھر نہی پا رہی ہے ۔اس اس وقت بھی ار ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے جان بوجھ کر رزرویشن پر بیان دیا تھا تاکہ ہارنے کے بعد ہار کا ٹھکرا نریندر مودی کے سر پر نہ پھوڑا جائے اور ہوا بھی یہی تھا ار ایس ایس کا یہ پروپ گنڈہ سد فیصد سچ بھی ہو تو بھی کوئی بھی خصوصن دلت اور بیکورڈ طبقہ کے لوگ اب ار ایس ایس اور اسکی بچہ سیاسی تنظیم بی جے پی لیڈران کے کسی بھی بیان پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

Lead News