ریلوے کی ناکامی کو آئی ایس آئی کے پردے میں چھپانے کی کوشش

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>ریلوے کی ناکامی کو آئی ایس آئی کے پردے میں چھپانے کی کوشش</h1>

لکھنؤ۔کانپور کے نزدیک پکرایاں ریل حادثہ ہو رورا کے پاس اجمیر سیالدہ ایکسپریس کے پندرہ ڈبوں کا پٹری سے اتر جانا ہو مدھنا اسٹیشن کے پاس مال گاڑی کا پٹری سے اترنا ہو ان سبھی واقعات کے لئے ریلوے محکمہ کی لا پر واہی اور ریلوے سکیورٹی بورڈ کی اپیل نظر انداز کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے۔ لیکن ریلوے کو اپنی ناکامی کو آئی ۔ایس۔آئی کو پردہ کے پیچھے چھپانے کا موقع اس وقت ملا جب بہار کی موتی ہاری کی پولیس نے تین مبینہ آئی ۔ایس۔آئی ایجنٹوں کو پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اسی گروہ کے لوگوں نے کانپور میں دو الگ الگ جگہوں پر ریل کی پٹریاں اڑائی جس سے ٹرین حادثہ  پیش آئے۔ لیکن جب یہ حادثہ ہوئے تھے اس وقت اے۔ڈی ۔جی لاء این آرڈر دلجیت چودھری سے لیکر آرمی کے برگیڈئیر رینک کے ایک افسر بھی موجود تھے ۔اس وقت کسی نے بھی ریل کی پٹریوں کو اڑانے یہ آس پاس کسی طرح کے دھما کہ خیز اشیاء ملنے کی بات نہیں کہی تھی۔بلکہ ریلوے کے افسران نے اس وقت کہا تھا کہ پٹریوں کا کمزور ہونا حادثہ کا سبب بنا تھا ۔ریلوے سیفٹی بورڈ نے تو ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۶؁ء کو ہی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جھانسی سے کانپور تک کا پچاس کلو میڑ ٹریک اتنا کمزور ہے کہ تیز رفتار ٹرینوں سے پٹریاں ٹوٹ سکتی ہیں ۔یا تو اسکو بدلا جائے یا پھر ٹرینوں کی رفتار اس روٹ پر ۲۰۔۲۵ کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہ ہو ۔لیکن اب پولیس کہہ رہی ہے کہ یہ حادثہ آئی ایس آئی کے سازش کے نتیجہ میں پیش آیا تھا ۔ نیپالی شہری شمس الہدیٰ کو اس حادثہ کا ماسڑ مائنڈ بتاکر گرفتار بھی کر لیا گیا ہے ۔اس طرح ریلوے کی ناکامی اور پٹریوں کی خرابی سے ہوئے ٹرین حادثوں کو آئی ایس آئی کے پردہ کے پیچھے چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹریک کے معائنہ کے لئے ساؤتھ کوریا اور جاپان کے ایکسپرٹ بلا کر ریلوے ٹریک کو سہی بتا دیا ہے۔

نیپال پولیس کے ذریعہ گرفتار ائی ایس ائی اجینٹ بتایا جا رہا ہے ۔اس پر آئی ایس آئی کے اشارہ پر ریل حادثہ کے لئے فنڈنگ کرنے کا الزام ہے شمس الہدیٰ سے آئی بی ،را،اور این ائی اے کی ٹیمیں پوچھ گچھ کر چکی ہیں ۔خبر ہے کہ انہیں پوچھ گچھ میں کچھ نہیں معلوم ہو سکا ہے۔بتا یا جا رہا ہے کہ موتی ہاری پولیس کو اوما شنکر کے موبائیل سے ایک اڈیو کلپ ملی جس میں برج کشور گری کہہ رہا تھا کہ تم لوگ کچھ نہیں کر پائے اور کانپور میں صرف نٹ بولٹ کھولنے سے کام ہو گیا ۔اسی اڈیو ٹیپ کی بنیاد پر شمس الہدیٰ کو ماسٹر مائینڈ بتایا جا رہا ہے جبکہ اوما شنکر کے ساتھ پکڑا گیا موتی اپنے پرانے بیان سے مکر چکا ہے ۔ویسے شمس الہدیٰ کو نیپال سے بھارت لانا آسان کام نہیں ہے ۔کیونکہ بھارت نیپال کے بیچ ایکسٹرا ڈیشن پیکٹ نہیں ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوکھرایاں میں ۲۰ نومبر ۲۰۱۶؁ء کوجس راجندر نگر ایکسپریس کے حادثہ میں آئی ایس آئی کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے اس بارے میں پولیس دو تھیوری پیش کر چکی ہے۔پہلے اس حادثہ میں دھماکہ خیز اشیاء کے استعمال کی بات کہی جا رہی ہے جبکہ جس روٹ پر حادثہ پیش آیا  ریلوے سیفٹی بورڈ اس سے پہلے ہی خراب اور خطرناک بتا چکا ہے ۔

پکھرایاں میں ٹرین حادثہ ریلوے کی ناکامی کا نتیجہ تھا۔ جسے کبھی موتی پاسوان تو کبھی شمس الہدیٰ کے بہانے آئی ایس آئی پردہ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے شمس الہدیٰ آئی ایس آئی کا ایجینٹ ضرور ہو سکتا ہے ۔مگر پکھرایاں ٹرین حادثہ میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے سے پولیس کے ہی کچھ افسران مطمئن نظر نہیں آتے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ حادثہ کے بعد اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر دلجیت چودھری کے علاوہ آرمی کا ایک برگیڈئیر رینک کا افسر بھی موقع پر گیا تھا اور ریل وزیرسریش پربھو بھی گئے تھے ۔اس وقت کسی نے حادثہ میں کسی شازش ہونے کا شک نہیں ظاہر کیا تھا ۔کانپور سنٹرل پر ڈی جی ریلوے گوپال گپتا نے بھی کہا تھا کہ کوئی دھماکہ خیز یا قابل اعتراض سامان برامد نہیں ہوا تھا حادثہ کے بعد کانپور جھانسی کے ۲۰۰ کلو میڑ کے ٹریک پر ۴۲ کاشن ریلوے نے لگائے تھے۔ کیونکہ اس روٹ پر کئی پٹریا ں زنگ آلود ملی تھی ۔اسی طرح رورا میں بھی ہوئے حادثہ میں کسی سازش سے افسران نے انکار کیا ہے ۔سی ارایس شیلیش کمار پاٹھک نے اس وقت کہا بھی تھا کہ مٹیریل فالٹ سے اجمیر ایکسپریس پلٹی تھی ۔

پکھرایاں ٹرین حادثہ میں۱۵۳لوگوں کی موت ہو گئی تھی ۔شاید یہی وجہ تھی کہ ریلوے کی ناکامی کو چھپانے کے سازش کا نتیجہ بتانے کی کوشش شرع ہوئی ۔جب بہار پولیس نے تین لوگوں کو پکڑا جو مجرم تھے اور ان پر آئی ایس آئی کے لئے کام کرنے کا شک تھا تو فوراً ہی ان تینوں موتی پاسوان اما شنکر پٹیل اور مکیش یادو کو آئی ایس آئی کے اشارہ پر پکھرایاں ریل حادثے کا ذمہ دارقرار دے دیا ۔حالہ نکہ موتی پاسوان نے کہا کہ اسکا اس حادثہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اسکے با وجود آئی ایس آئی کے اشارہ پر شمس الہدیٰ کے ذریعہ یہ حادثہ کرانے کی کہانی پولیس بیان کر رہی ہے ۔لیکن کئی سوال ایسے ہیں جنکے جواب اگر دے دیے جائیں تو صاف ظاہر ہوجائے گا کہ پکھرایاں ریل حادثہ کے پیچھے آئی ایس آئی کی سازش ہے یہ ریلوے کی ناکامی اور مجرمانہ لاپروائی ہے ۔

پہلا سوال یہ ہے کہ پکھرایاں میں حادثہ کی جگہ پر آرمی اور این ڈی ار ایف موجود تھی انھوں نے دو نوں تک پولیس کے ساتھ رلیف اپریشن چلایا تھا تو اس وقت کیا انھیں کوئی بارود ڈیٹونیٹر جٹیلن کی چھڑیں یہ امونیم نائٹریٹ ملا تھا و؟ڈی جی ریلوے گوپال گپتا نے کہا کی حادثہ میں توڑ پھوڑ کے ثبوت نہیں ملے کیا وہ کچھ چھپا رہے تھے ؟ ڈی ارپی جھانسی میں لکھی ایف ائی ار کی جانچ میں کیا کوئی مشکوک کنکشن کا ذکر ہے؟کیا پکھرایاں ریلوے ایشٹیشن پر ٹرین آنے سے پہلے کسی نے کوئی دھماکہ سنا تھا ؟اگر یہ حادثہ ایک سازش کا نتیجہ تھا تو ریلوے نے ٹریک شروع کرنے سے پہلے ۲۰۰ کلو میڑ کے روٹ پر ۴۲ کاشن کیوں لگائے تھے ؟سی ار ایف پی کے اچار کی انٹرم رپورٹ میں حادثہ کی کیا وجہ بتائی گئی ہے ۔اگر پٹری کے نٹ بولٹ کھولے گئے تھے تو اسکے آس پاس کوئی اوزار یا بولٹ کھلے ملے تھے ؟حادثے کے تقریبا ڈیڑھ مہینے بعد مدھنا کے پاس پٹری کاٹنے کے باد ہی کیوں ٹرر اینگل پر ریلوے نے دھیان نہی دیا ؟ریلوے کے چیر مین اے کے متل نے بھی ٹریک فریکچر کی وجہ موسم اور مینٹینس کی کمی بتائی تھی کیا وہ جھوٹ بول رہے تھے؟ پکھرایاں اور مادھنا حادثے کے بیچ کیا انٹلیجنس ایجنسیوں کو کسی مشکوک انسان کی لوکیشن ملی تھی ان سوالوں کے جواب کے ساتھ ۔ساتھ ریلوے ٹریک کے معائنہ کے لئے جاپان اور سائوتھ کوریا کے ماہرین کی ٹیم کو بلانا اور انکے ذریعہ اس ریلوے ٹریک کو ٹھیک بتانا جسے ریلوے سیفٹی بورڈ مخدوش اور خطرناک بتا چکا تھا یہ شک پیدا ہی کرتا ہے کی پکھرایاں ریل حادثہ کے پیچھے ریلوے کی ناکامی ہی تھی لیکن اب ریلوے کی ناکامی کو چھپانے کے لئے آئی ایس آئی کے پردے کا سہارا لیا جا رہا ہے ائی ایس ائی بھارت میں توڑ پھوڑ کی سازشیں کرتی رہتی ہے اسمیں کوئی شک نہیں ہے لیکن ہر واردات اور حادثہ کو آئی ایس آئی کے پردہ کے پیچھے چھپانے سے اصل ملزم بچ جاتے ہیں خفیہ ایجنسیوں کو یہ بات بھی دیکھنی چاہئے۔

Lead News