پارلیمنٹ سے پبلک تک بد زبانی

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>پارلیمنٹ سے پبلک تک بد زبانی</h1>

لکھنؤ۔ اتر پردیش اسمبلی کے موجودہ الیکشن میں ایک نیا ریکارڈ بنا ہے ۔وہ رکایرڈ ہے سطح سے گری ہوئی بیان بازیوں کا اور سیاستدانوں کی بد زبانی کا یہ رکارڈ بنانے کا سہرا بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے سر ہے ۔وہ الیکشن  میٹنگینوں میں اپنے عہدوں کا احترام نہ کرسکے اور ایسی زبان میں اکھلیش یادو اور روہل گاندھی پر حملہ کیے جو ایک وزیر اعظم کے عہدو ں پر فائز کسی انسان کے لئے کسی بھی قیمت پر مناسب نہی کہا جا سکتا ہے ۔الیکشن میٹنگ میں سطحی زبان کا استعمال کرتے کرتے انھوں نے پارلیامنٹ میں بھی اسی قسم کی زبان کا استعمال کیا جس سے اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران خصوصن سابق وزیر اعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کے لئے کر ڈالا ۔مودی نے چار فروری کو میرٹھ سے اپنے انتخابی مہم شروع کی تو پہلی ہی منٹنگ میں سماج وادی پارٹی کانگریس اکھلیش یادو اور مایا وتی کا نام لیتے ہوئے ان سبھی کے لئے اسکیم لفظ کا استعمال کیا ہے ۔انکی نظر میں شاید میرٹھ اور تر پردیش کے لوگوں کا سب سے بڑا مدا اپنے مخالفین کا مذاک اڑانہ ہی ہے ۔انھوں نے شروعات کی تو ظاہر ہے جواب بھی آنا ہی تھا ۔سماج وادی پارٹی کے لیڈر وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اسکیم کے نئی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ سیف کنٹری امت شاہ ایڈ ن مودی یعنی امت شاہ اور مودی سے دیش بچائو راہل گاندھی نے کہا کہ مودی نے انھے اسکیم کہا ہے مودی شاید بھول گئے کہ اسکا مطلب ہوتا ہے سروس کوریج ابیلٹی اور موڈ لیسٹی یعنی خدمت ہمت اہلیت اوبرتاؤ مودی نے وزیر اعظم ہوکر بد زنانی شروع کی تو انکے کٹھپتلی صدر امت شاہ کیوں پیچھے رہتے انھوں نے راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سے اس کا باپ پریشان ہے تو دوسرے سے اسکی ماں ۔اب امت شاہ سے پوچھے کہ کیا ایک کے باپ اور دوسر ے کی والدہ نے ان سے اپنے بیٹے کی کوئی شکایت کی ہے ۔دوسرے یہ کہ دونوں سے اگر باپ اور ماں پریشان ہیں تو یہ اتر پردیش کے لوگوں کا مدا کیسے ہو سکتا ہے ۔امت شاہ یہ بھی بتائیں کی جس انسان سے اسکی بیوی پوری زندگی پریشان رہی اسکے بارے میں انکا کیا کہنا ہے عوام کے بیچ میں بہ فضول کی باتوں کو بولنے کے عادی ہو چکے نریندر مودی پارلیانٹ پہونچے تو وہا ں بھی اسی طرح کی زبان کا استعمال کرنے لگے ۔انھوں نے منموہن سنگھ کو رینکوٹ پہنکر غسل کرنے والا کرار دے دیا ۔لوک سبھا میں بھی انھوں نے کتو ں کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پر اپو زیشن پر سے حملے ہونگیں تو ہم بھی اسی رفتار اور انداز میں جواب دینے کی طاقت رخطے ہیں مودی دیش کے اب تک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو اپوزیشن لیڈران کے حملو کا جواب سطحی اور بازارو زبان میں دینے کو اپنی ہمت اور طاقت بطا رہے ہیں اب تک تو یہی ہوتا آیا ہے کہ اپو زیشن لیڈران چاہے کتنے سخط حملے کیوں نہ کریں وزیر اعظم اپنے عہدوں کا جرختے ہوئے انتہائی سنجید گی اور نرمی کے ساتھ انکا جواب دیتے رہے مودی یہ سلسلہ جاری رکھنے کے لئے تیا ر نہیں ہیں وہ جس قسم کی باتیں کر رہیں ہیں انھیں سن کر تو یہ خوف ملک کو ستانے لگتا ہے کہ اگر مودی کے سڑک پر گزرتے وقت کوئی کتا بھونکے گا تو کار رکو کر شاید وہ بھی بھو بھو کرکے اسکا جواب دینا مناسب سمجھیں گے۔

نریندر مودی نے اتر پردیش اسمبلی الیکشن کی مہم میں جو جملے بازی اور سطحی زبان کا استعمال کیا ہے وہ محض اتفاق نہیں ہے. وہ انہوں نے جان بوجھ کر کیا ہے. انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں انہوں نے جو بڑے بڑے وعدے ملک اور عوام سے کئے تھے ان میںسے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر سکے. سب سے بڑا وعدہ بے روزگار نوجوانوں سے انہوں نے یہ کیا تھا کہ وہ ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار مہیا کرائیں گے۔ ڈھائی سالوں میں پانچ کروڑ نوجوانوں کو روزگار تلاش کرنا چاہئے تھا. پہلے تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکے پھر 2015 میں صرف ایک لاکھ تیس ہزار تو 2016 میں ایک لاکھ پینتیس ہزار نوجوانوں کو ہی روزگار فراہم کرا سکے ہیں یعنی کل ملا کر دو لاکھ پینسٹھ ملازم. روزگار کے علاوہ دوسرے وعدے بھی پورے نہیں کرا پائے. الٹی نوٹ بندی کرکے عام لوگوں کو ایک نئی پریشانی میں ضرور ڈال دیا. اب وہ سطحی اور بازارو زبان بول کر عام لوگوں کو ہنسانے اور اپنے چکر میں ایک بار پھر پھنسانے کی کوششیں کر رہے ہیں. اگر اس قسم کی باتیں کر کے وہ عام لوگوں کو محض ہنسا کر آگے نہیں بڑھیںگے تو لوگ شاید ان سے 2014 کے وعدوں کے سلسلے میں سوال ضرور کریںگے. انہی سوالوں سے وہ خوفزدہ نظر آتے ہے.

مغربی اترپردیش کے دارالحکومت کہے جانے والے میرٹھ میںانہوں نے  اکھلیش و راہل گاندھی کے اتحاد کو ’’سکیم‘‘ کہہ کر لوگوں کو صرف ہنسانے اور خود مذاق بننے کی حرکت شاید اس لئے کی کہ پچھلی بار انہوںنے  کاشتکاروں سے  جو وعدے کئے تھے ایک بھی پورا نہیں ہوا کاشتکاروں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت بھی وہ نہیں دلا پائے. ایک سال قبل انہوں نے دہلی میرٹھ ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ ایک سال کے اندر ایکسپریس وے بن کر میرٹھ سے دہلی کا فاصلہ محض پون سے ایک گھنٹے کا کر دیں گے آج تک اس ایکسپریس وے کا سروے بھی مکمل نہیں ہوا ہے وہ ان سوالات سے بچنا چاہتے تھے. اسی لئے میرٹھ اور علی گڑھ سمیت مغربی اترپردیش کی اپنی تمام عوامی اجلاسوں میں وہ لوگوں کو تفریح ہی کراتے رہے. اتر پردیش میں بڑی تعداد میں ایسے مسائل ہیں جن کا  تعلق ہندوستان کی حکومت سے ہے. ان مسائل کا حل بھی مرکزی حکومت کو ہی نکالنا ہے. اس کے باوجود نریندر مودی نے کسی ایک بھی مسئلے یا مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی. انہیں شاید ہر وقت یہی خوف ستاتا رہتا ہے کہ کہیں عام لوگوں کے آمنے سامنے جواب نہ دینا پڑ جائے.

چونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسمبلی الیکشن  کے دوران اصل مسائل سے عام لوگوں اور ملک کی توجہ بھٹکانے کی غرض سے غیر ذمہ دارانہ اور اپنے عہدہ کے اعتبار سے عہدے کی سطح سے گر کر بیان بازی شروع کر دی تو باقی پارٹیوں کے لیڈران نے بھی انہیں منہ توڑ جواب دینے کے بہانے وہی راستہ اختیار کر لیا. اب ریاست کے عوام کے اصل مسائل اور اصل مسائل پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے. کرتا بھی ہے تو بس اشاروں میں باقی سب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے کام میںہی مصروف نظر آتے ہیں. نتیجہ یہ کہ ریاست کے اصل مسائل پیچھے ہی چھوٹتے جا رہے ہیں. اب تک کسی بھی پارٹی نے ریاست میں پرائمری سطح سے ڈگری تک کی تعلیم کو معیاری  بنانے کا وعدہ نہیں کیا. صحت کے لئے ہیلتھ سیکٹر میں کیا کیا کام کریں گیاور گاؤں کے غریبوں تک علاج کی سہولتیں پہونچانے کی بات یا یقین کوئی نہیں دلا رہا ہے. مشرقی اترپردیش میں گورکھپور کے ارد گرد درجنوں اضلاع میں ہر سال سینکڑوں بچے انسیپھلاٹس یا جاپانی بخار کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ان بچوں کو کس طرح بچایا جائے گا اس پر آج تک کسی نے ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نہیں نکالا ہے. گورکھپور اور مشرقی اترپردیش میں بھی بہت لیڈران نے طرح طرح کی جملے بازی کی تو قومی اتحاد پارٹی اور مختار انصاری کے کنبے کو ہی اصل مسئلہ بنانے کی کوشش کی لیکن عوام کے اصل مددو کی جانب کسی کی بھی نظر نہیں گئی. اب مقابلہ اس بات کا ہو رہا ہے کہ دونوں تینوں یا چاروں جماعتوں میں جن ہسٹری شیٹرس اور کرمنلس کو اپنا امیدوار بنایا ہے ان کرمنلس میں اچھا اور خراب کریمنل کون ہیں. ملک کی سیاست کو اس سطح تک گرانے کا آغاز صرف اور صرف نریندر مودی نے ہی کی ہے. ملک کا وزیر اعظم بننے سے پہلے 2014 کے لوک سبھا الیکشن کی مہم کے دوران انہوں نے جس قسم کی زبان کا استعمال کیا تھا آج تک موجود ہیں.

پارلیمنٹ کے اندر مودی گئے صدرجمہوریہ کے خطبہ پر دونوں ایوانوں میں ہوئی بحث کا جواب دینے کے لئے. انہوں نے وہاں بھی اسی قسم کی زبان بولنا جاری رکھا. اندر وہ بھول گئے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں کے ممبران ہمیشہ سے ہی وزیر اعظم پر سخت کمنٹ کرتے رہے ہیں. کسی بھی وزیراعظم نے کبھی بھی اپنے عہدے کے احترام کو گرا کر سخت زبان میں اپوزیشن لیڈران کو جواب نہیں دیا. نریندر مودی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گلی کے کسی ٹٹ پونجیا لیڈر جیسی زبان استعمال کیا پھر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر کوئی ان پر حملہ کرے گا تو وہ بھی اس کی رفتار سے بھی زیادہ اور سخت جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں. مطلب یہ کہ مودی نے پارلیمنٹ کو بھی مارکیٹ یا میدان تسلیم کر لیا ہے. آپ سے زیادہ سخت بات کر سکتا ہوں اور زیادہ طاقت سے جواب دینے کی ہمت رکھتا ہوں اس قسم کی زبان تو مارکیٹ میں کھڑے ہو کر گلی کے غنڈے بدمعاش کرتے رہتے ہیں. وزیر اعظم اس قسم کی زبان کیسے بول سکتا ہے؟ اس قسم کی زبان کا استعمال اکھاڑے میں بھی اکثر ہوتا رہتا ہے جہاں بہت پہلوان دنیا کے ہر پہلوان کو اٹھا کر پٹخ دینے اور منٹ میں چت کر دینے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں. پارلیمنٹ میں تو ایسا کبھی نہیں ہوتا. اسی پارلیمنٹ میں بہت ممبران نے پنڈت جواہر لال نہرو پر سخت حملے کرنے کا کام کیا. ایک ممبر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ آپ (نہرو) کے سر پر بال نہیں اگتے تو اپنا سر کٹوا ڈالئے نہرو نے ہنس کر ٹال دیا تھا. اندرا گاندھی کو لوگوںنے گوواکی  گڑیا اور اب ایوان میں صبح ایک بہترین شکل دیکھنے کو ملے گی جیسے جملے پر اندرا گاندھی نے کبھی آپا کھو نہیں. پی وی نرسمہا راؤ کو عام طور پر ممبران ‘مون? بابا’ کہا کرتے تھے وہ خاموشی سے سنتے رہتے تھے. ایچ ڈی دیوگوڑا کو کئی ممبر اکثر کہہ دیتے تھے کہ آپ تو پارلیمنٹ میں سونے کے لئے آتے ہیں. چندر شیکھر اور پنڈت اٹل بہاری باجپائی پر بھی کئی ممبران اکثر سخت ?میٹ کر دیا کرتے تھے. لیکن اٹل بہاری باجپائی تو بڑے مزے سے اپنی کسی آیت کی ایک دو لانے سنا کر اپوزیشن ممبران کا غصہ ٹھنڈا کر دیا کرتے تھے. انہوں تو کبھی پارلیمنٹ کے اندر یا باہر کہیں بھی غصے میں یا آپ کی سطح سے گر کر جواب نہیں دیا. کئی بار تو کچھ مسلم ممبران انہیں بہت ہی سخت بات بھی کہہ دیتے تھے. اس کے باوجود اٹل بہاری واجپئی نے کبھی سطح سے گری کی زبان کا استعمال نہیں کیا.

اب چونکہ ملک کا وزیر اعظم ہی سطح سے گری جبان کا استعمال کرنے لگا تاکہ ان کی پارٹی کے آدتیہ ناتھ اور پارٹی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریا جیسے لوگ بھی اپنی اپنی زہریلی بیان بازوںکے ساتھ میدان میں کود پڑے. آدتیہ ناتھ جو صرف گورکھپور ہی نہیں بلکہ تقریبا پورے مشرقی اتر پردیش میں دہشت کی علامت سمجھے جاتے ہیں. انہوں نے پردیش کے ہندوؤںکو بھڑکانے کے لئے کہہ دیا کہ آج مسلمانوں کی وجہ سے مغربی اترپردیش کے کئی ضلع کشمیر بن چکے ہیں. جس طرح کشمیر وادی سے پنڈتوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا آج ٹھیک ویسے ہی حالات شاملی (کیرانہ) اور دیگر کئی اضلاع کے کئے ۔کیشو موریا خود ہی ڈیڑھ درجن کریمنل مقدمات میں پھنسے ہے انہوں کہہ دیا کہ مغربی اتر پردیش کے ہزاروں ہندو اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں. کیونکہ انہیں تنگ کرنے والوں کو سرکاری تحفظ حاصل ہے.

نریندر مودی نے پارلیمنٹ خصوصاً راجیہ سبھا میں جس قسم کی زبان کا استعمال دس سالوں تک ملک کے وزیر اعظم رہنے والے دنیا کے جانے مانے ماہر معاشیات منموہن سنگھ کے لئے کیا۔  اس پر کانگریس ممبران اب ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر انہوں نے معافی نہیں مانگی تو انہیں آئندہ کبھی بھی راجیہ سبھا میں بولنے نہیں دیا جائے گا. اب گیند نریندر مودی کے پالے میں ہے.

’’اگر کوئی ہم پر سخت الفاظ میں حملہ کرے گا تو ہم بھی اس سے زیادہ تیز رفتاری سے زیادہ سختی سے اور زیادہ اثر دار طریقے سے اس کا جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں. پارلیمنٹ میں یہ بیان دے کر نریندر مودی نے ظاہر کر دیا کہ وہ وزیر اعظم کی کرسی کی سطح کہاں تک لے جانا چاہتے ہیں. انہیں شاید خیال نہیں رہا کہ اس قسم کی زبان کا استعمال ملک کا وزیر اعظم نہیں گلی کے چھٹ بھیا غنڈے بدمعاش کرتے رہتے ہیں. ”

“راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور مایاوتی کو اسکیم کہہ کر اپنی انتخابی مہم شروع کی طرف سے نریندر مودی نے بتا دیا کہ اس الیکشن میں وہ اتر پردیش اور ریاست کے عوام کے اصل مدعوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش میں اس قسم کے جوکروں جیسے ڈائیلاگ بول رہے ہیں. یہی کام امت شاہ نے کیا انہوں کہہ دیا کہ ایک سے اس کا باپ پریشان ہے دوسرے سے اس کی ماں. ان دو غیر ذمہ دارانہ بیانات نے الیکشن مہم کی سطح ہی گرا دی تاکہ لوگوں کو اصل مسائل سے بھٹکایا جا سکے. ”

’’۲۰۱۴؁ء میں لوک سبھا الیکشن کی مہم کے دوران مودی نے جو بھی وعدے کئے تھے ایک بھی پورا نہیں ہوا. اب ان وعدوں پر کوئی بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے. ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ تھا ڈھائی سال میں صرف دو لاکھ پیسٹھ ہزار کو روزگار دلایا تو نوٹ بندی کے ذریعے کروڑوں کو روزگار سے محروم کر دیا. گنا کاشتکاروںکے لئے کچھ نہیں کیا. اس بجٹ میں کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کی منافع بخش قیمت تک کا اعلان نہیں کیا. اسی لئے ذاتی حملوں پر اترے ہیں. “