مودی یہ نہ بھولیں کہ وہ بھی ایک دن سابق بنیں گے…پی چدمبرم

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>مودی یہ نہ بھولیں کہ وہ بھی ایک دن سابق بنیں گے…پی چدمبرم</h1>

نئی دہلی۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بارے میں وزیر اعظم نریندر  مودی کے نازیبا تبصرہ پر ہنگامے کے بیچ راجیہ سبھا میں ۱۸-۱۷؁ء کے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے کہا کہ وزیر اعظم کا عہدہ ایک باوقار عہدہ ہے اور نریندر مودی پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ہم وزیر اعظم کا احترام کرتے ہیں اسی لئے ہم نے ان کی تقریر  میں رخنہ پیدا کرنے سے گریز کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اعظم کو سمجھنا چاہئے کہ آج وہ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اس پر کبھی  جواہر لعل نہرو اور اٹل بہاری باجپائی جیسی شخصیتیں بیٹھ چکی ہیں۔ آج تک کسی وزیر اعظم نے کسی سابق وزیر اعظم پر اس طرح کے تضحیک آمیز تبصرے نہیں کئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہر وزیر اعظم کو ایک نہ ایک دن سابق وزیر اعظم  بننا پڑتا ہے۔ اس لئے نریندر مودی کو بھی اپنے عہدے کے وقار کا پاس رکھنا چاہئے اور اپنے الفاظ کے لئے معافی مانگنی چاہئے اور کم سے کم اتنا تو کہنا چاہئے کہ ان کا کوئی ارادہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شبیہ کو نقصان پہونچانے کا نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں انہو ںنے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے انتخابی جلسوں میں انہوں نے کئی ایسی باتیں کہیں جن پر سب نے احتجاج کیا لیکن اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بعد  انہوں نے جو تقریر کی اس میں انہوں نے اوباما، کلنٹن سبھی کا تذکرہ بہت عزت اور احترام سے کیا۔

پی چدمبرم نے نوٹ بندی کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بغیر تیاری کے لیا گیا فیصلہ تھا۔ نوٹ بندی کے بعد میں نے اے ٹی ایم  میں لوگوں کو بھیجا کئی اے ٹی ایم بند تھے۔چار دن بعد میرے ہاتھوں میں دو ہزار روپئے  کا نوٹ آیا جبکہ اس وقت تک کئی جگہوں سے دو ہزار کی گڈیاں برآمد ہوچکی تھیں جو ظاہر ہے کہ بینک کے پچھلے دروازے سے حاصل کی گئی ہوں گی۔ ابھی بھی لوگوں کو کافی پریشانیاں ہیں اور ایسا لگتا نہیں ہے کہ  لوگ بینک سے اپنی ضرورت کے مطابق پوری رقم نکال سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی ایک بڑا فیصلہ تھا لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہو ںنے اعداد وشمار کے ساتھ  بتایا کہ نہ اس سے کالا دھن ملا نہ کرپشن دور ہوا اور نہ ہی دہشت گردی روکنے میں کوئی مدد ملی۔ میں اپنی کمزور ہندی میں کہنا چاہوں گا کہ کھودا پہاڑ نکلی چوہیا۔ انہو ں نے کہا کہ نوٹ بندی کا مقصد اگر کرپشن کم کرنا تھا اور سرکار کا کہنا تھا کہ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ سے کرپشن بڑھ گیا ہے تو کوئی مجھے یہ سمجھا دے کہ دوہزار کے نوٹ سے یہ کیسے کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے  پتہ ہے کہ حکومت کے لوگ اس پر بچاؤ کی کوشش کریں گے۔ آپ کیش لیس کی بات کریں گے

لیکن کئی ایسے ملک ہیں جہاں کیش یا نقد چل رہا ہے اور اس میں فرانس، کناڈا اور امریکہ جیسے ممالک شامل ہیں۔پی چدمبرم نے ڈیجیٹل لین دین کے کئی معاملوں کو انسانوں کی نجی زندگی گزارنے کے حق کی خلاف ورزی بتایا او رکہا کہ میں اگر اپنے خاندان کے کسی شخص کی خاموشی کے ساتھ مدد کرنا چاہتا ہوں تو اس کا ریکارڈ کیوں دیں۔ اگر کوئی اپنی مخصوص ضرورت کے تحت کوئی سامان لینا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا پتہ دوسرے لوگوں کو چلے تو وہ اس کا ریکارڈ کیوں دے۔ انہوں نے کہا کہ ن وٹ بندی کا فیصلہ پوری طرح ناکام رہا ہے۔ یہ بات حکومت کے لوگ بھی مانتے ہیں لیکن وہ ہر صورت میں اس کا بچاؤ کریں گے۔

مرکزی سرکار کے حالیہ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر مالیات نے کہا کہ اس بجٹ سے بہت مایوسی ہوئی ہے ۔ بجٹ بنانے میں کسی طرح کی حکمت عملی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کئی چیزوں کی کٹوتی کی گئی لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بجلی کے بغیر رہا جاسکتا ہے لیکن کام کے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ کاروبار، نوکری جیسی چیزوں پر توجیہ نہںے دی گئی۔ گزشتہ سال وزیر مالیات نے کئی وعدے کئے تھے لیکن وہ پورے نہیں کئے گئے۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آپ تیزی سے نیچے آرہے ہیں۔ یہ آپ کی ناکامی ہے۔ آپ لوگوں کو خط افلاس سے اوپر نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔ نوجوان لوگ نوکری کے انتظا ر میں ہیں