نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع</h1>

شیخ حدیث مولانا محمد زکریا

اس میں سارے علماء کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک ہی بار حج کیا ہے۔ ۱۰؍ہجری میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آخری سال تھا اور اس سفر میں ایسے واقعات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ظہور ہوا جیسے کہ کسی سے رخصت ہوتے وقت ہوا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کا نام حجۃ الوداع یعنی رخصت کا حج پڑ گیا کہ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حق تعالیٰ شانہ کے یہاں جانے کے لئے اس سفر کے اجتماع کے وقت سارے مسلمانوں سے جو حاضر تھے رخصت ہو گئے۔ سفر حج کی ابتداء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارادے کا اعلان فرمایا تو ہزاروں کی تعداد میں صحابہ نے ہمرکابی اور معیت کا فخر حاصل کرنے کے لئے حج کا ارادہ فرما لیا۔ اور جو خبر سنتا گیا وہ ہمرکابی کی کوشش کرتا گیا ۔ان میں سے ایک بڑی تعداد مدینہ طیبہ روانگی سے قبل پہنچ گئی اور جو وہاں حاضر نہ ہو سکے تھے وہ راستے میں ملتے رہے اور جن کو اتنا بھی وقت نہ ملا وہ مکہ مکرمہ اور بعض براہ راست عرفات پر پہنچے۔ غرض بہت بڑی تعداد اس حج میں ہمرکاب تھی جس کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ (ابو داؤد)

سفر کے لئے روانگی- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ظہرکی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پہنچ کر ادا فرمائی۔ اس میں مورخین کا اختلاف ہے کہ روانگی کی تاریخ کیا تھی ۲۴،۲۵، ۲۶ ذی القعدہ تین قول ہیں اور اسی طرح دن کے متعلق بھی پنج شنبہ، جمعہ ،شنبہ تین قول ہیں جن میں سے جمعہ کا دن جن حضرات نے کہا ہے وہ صحیح روایات کے خلاف ہے اس لئے کہ روانگی سے قبل مدینہ پاک میں چار رکعات ظہر کی نماز پڑھنا مشہور روایات میں ہے۔ اس ناکارہ کے نزدیک ۲۵ذی القعدہ شنبہ کے دن روانگی روایات سے راجح معلوم ہوتی ہے۔ شب کو ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا اور تمام ازواج مطہرات سے جو ہمراہ تھیں صحبت کی ۔اسی وجہ سے علماء کے نزدیک اگر بیوی ساتھ ہو تو احرام سے قبل صحبت کرنا مستحب ہے کہ احرام کے طویل زمانہ میں دونوں کے لئے عفت کا سبب ہے۔

حج قران:دوسرے دن ظہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے لئے غسل کیا اور احرام کی چادریں زیب تن فرمائیں اور ذوالحلیفہ کی مسجد میں ظہر کی نماز کے بعد قران کا احرام باندھا۔ محققین علماء کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام شروع ہی سے قران کا تھا یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اختیار دے دیا کہ جس کا دل چاہے افراد،تمتع، قران میں سے جونسا چاہے باندھ لے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران باندھا کہ حضرت جبرئیل ؑنے رات کو تشریف لا کر یہفرمایا تھا کہ یہ وادی عقیق مبارک وادی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھیں اور حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھیں۔ اس کے بعد مسجد سے باہر تشریف لا کر اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے لبیک پڑھا چونکہ مسجد کی آواز قریب کے آدمیوںنے سنی تھی اور یہاں اونٹنی پر تشریف رکھنے کے بعد دور تک آواز گئی۔ اس وجہ سے بہت سے حضرات نے یہ سمجھا کہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی ابتدا فرمائی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پشت پر لے کر چلی اور ’بیدائ‘ کی پہاڑی پر چڑھی جو ’ذوالحلیفہ‘کے قریب ہے ۔چونکہ حاجی کے لئے ہر اونچی جگہ چڑھتے ہوئے لبیک بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں بھی زور سے لبیک پڑھا جس کی آواز پہاڑی کا اونچاہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ دور تک گئی اس کی وجہ سے صحابہ کی ایک بڑی جماعت اسی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام باندھنا نقل کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ کی جانب روانگی شروع کی۔ حضرت جبرئیل ؑنے آکر یہ درخواست کی کہ صحابہ کو حکم فرما دیجئے کہ لبیک بلند آواز سے پڑھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا۔ راستے میں جب وادی ’روحا‘ پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور یہ فرمایا کہ ستر نبیوں نے اس جگہ نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامان اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سامان سب ایک اونٹ پر تھا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے غلام کی سپردگی میں تھا۔ جب ’وادی عرج‘ میں پہنچے تو دیر تک یہ حضرات ان کا انتظار فرما رہے۔ بڑی دیر میں وہ آئے اور کہا کہ اونٹ تو کھو گیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو مارا کہ ایک ہی تو اونٹ تھا وہ بھی گم کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر ارشاد فرما رہے تھے کہ ’ان محرم دیکھو یہ کیا کر رہے ہیں؟‘ یعنی احرام کی حالت میں مارتے ہیں۔

صحابہ کو جب معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی اونٹنی گم ہو گئی تو جلدی سے کھانا تیار کرکے لائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ آؤ اللہ تعالی نے بہترین غذا عطا فرمائی مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ابو بکرؓ! غصہ جانے دو۔ اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو قیس رضی اللہ عنہ اپنے سامان کی اونٹنی لے کر حاضرہوئے اور عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ قبول فرما لیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ہماری اونٹنی اللہ کے فضل سے مل گئی۔ جب وادی عسفان میں جو مکہ کے قریب ہے تشریف فرما تھے تو حضرت سراقہ نے عرض کیا یا رسول ؐ! ہمیں حج کا طریقہ اس طرح بتا دیجئے کہ گویا ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں یعنی اس پر اطمینان نہ فرما دیں کہ یہ بات تو ان کو پہلے سے معلوم ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو بتایا کہ مکہ میں داخل ہوکر کیا کیا کریں۔ سرف میں پہنچ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض  آنے لگا۔ وہ بہت پریشان ہوئیں رونے لگیں کہ میرا تو سفر ہی بیکار ہو گیا۔ حج کا وقت قریب آ گیا اور میں ناپاک ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی کہ یہ تو ساری ہی عورتوں کو پیش آتا ہے۔ پھر ان کو بتایا کہ وہ اب کیا کریں۔ اور صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہیں ہے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوکر عمرہ کرکے اپنا احرام کھول دیں۔ مکہ مکرمہ کے قریب جب وادی ’ارزق‘ پر پہنچے تو ارشاد فرمایا کہ میرے سامنے اس وقت وہ منظر ہے جب حضرت موسی ؑاس جگہ پر حج کے لئے گزر رہے تھے اور کانوں میں انگلیاں دے کر بلند آواز سے لبیک پڑھ رہی تھے۔

مکہ معظمہ میں تشریف آوری:اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوطویٰ پہنچے جو مکہ کے بالکل قریب ہے اور رات کو وہاں قیام فرمایا اور صبح کو مکہ میں داخل ہونے کی غرض سے غسل کیا اور چاشت کے وقت چار ذی الحجہ یک شنبہ کی صبح کو مکہ میں داخل ہوئے۔ اس دن اور تاریخ میں علماء کا سب کا قریب قریب اتفاق ہے کہ مکہ میں داخلہ کی یہی تاریخ اور یہی دن تھا۔ بندہ کے نزدیک ذی القعدہ کا یہ مہینہ ۲۹دن کا تھا۔ اس لئے شنبہ کو چل کر نویں دن مکہ میں داخل ہوئے۔ مکہ میں پہنچ کر سب سے پہلے مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور طواف کیا۔ تحیۃ المسجد بھی نہیں پڑھی۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی طواف شروع فرما دیا۔ طواف سے فراغت پر مقام ابراہیم پر طواف کا دوگانہ ادا کیا۔ جس میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھی اس کے بعد پھر حجر اسود کو بوسہ دیا۔ اور باب الصفا سے نکل کر صفا کی پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اوپر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ نظر آنے لگا۔ پھر بڑی دیر تک تکبیر و تحمید اور دعا کرتے رہے۔ اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان سات چکر پورے فرمائے اور مروہ پر جب سعی سے فراغت فرمائی تو جن حضرات کے ساتھ ہدی نہیں تھیں ان کواحرام کھولنے کا حکم فرمایا۔ اس کے بعد قیام گاہ پر تشریف لائے اور چار دن قیام فرمایا۔

منیٰ کوروانگی:آٹھ ذی الحجہ پنجشنبہ کو چاشت کے وقت منیٰ تشریف لے گئے اور سب صحابہ بھی حج کا احرام باندھ کر ہمرکاب تھے۔ پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھی۔

میدان عرفات میں: جمعہ کی صبح آفتاب نکلنے کے بعد عرفات تشریف لے گئے اور نمرہ میں جوخیمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدام نے پہلے سے لگا دیا تھا تھوڑی دیر قیام فرمایا۔ پھر زوال کے بعد اپنی اونٹنی پر جس کا نام قصویٰ تھا سوار ہوکر بطن عزۃ میں جو وہیں قریب ہے تشریف لائے اور بہت طویل خطبہ پڑھا اس خطبے میں ایسے الفاظ بھی تھے کہ شاید تم اس سال کے بعد مجھے نہ دیکھو اور یہ کہ اس سال کے بعد کبھی بھی میرا تمہارا اجتماع نہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ خطبے کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تکبیر کا حکم فرمایا اور ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر ہی کے وقت پڑھائیں۔ نماز سے فراغت کے بعد عرفات کے میدان میں تشریف لائے اور مغرب تک اپنی اونٹنی پر دعا میںبڑے اہتمام سے مشغول رہے۔ اسی دوران حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے یا نہیں ایک پیالے میں دودھ بھیجا۔ جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سارے مجمع کے سامنے نوش فرمایا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ روزہ نہیں ہے۔ اسی دوران ایک صحابی اونٹ پر سے گر کر مر گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے احرام کے لباس ہی میں ان کو کفنا دو یہ قیامت میں لبیک ہی پڑھتے ہوئے اٹھیں گے۔ اس جگہ نجد کی ایک جماعت براہ راست پہنچی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کے ذریعہ سے آواز دے کر دریافت کرایا کہ حج کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ اعلان کردو کہ حج عرفہ میں ٹھہرنے کا نام ہے۔ جو شخص دس ذی الحجہ کی صبح سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جائے اس کا حج ہو گیا۔ (ابو داؤد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب تک امت کے لئے مغفرت کی دعا بہت ہی عاجزی کے ساتھ مانگتے رہے۔ اللہ تعالی کے یہاں سے امت کے لئے مظالم کے سوا اور سب چیزوں کے مغفرت کا وعدہ ہو گیا۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی التجا فرماتے رہے کہ یا اللہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مظلوموں کو تو اپنے پاس سے بدلہ عطا فرما دے اور ظالموں کو معاف فرما دے۔ اسی دوران سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی’آج میں نے تمہارا لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں مکمل کردیں ‘۔ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو وحی کے بوجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی کھڑی نہ ہو سکی۔ غروب کے بعد نماز سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اونٹنی ایسے زوروں پر تھی کہ نہایت شدت سے اس کی باگ کھنچ رکھی تھی۔ وہ جوش میں دوڑنا چاہتی تھی جہاں چڑھائی آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کی باگ ذرا ڈھیلی فرما دیتے تھے۔ پھر اس کو اس زور سے کھینچ لیتے حتیٰ کہ اس کاسر باگ کے زیادہ کھینچنے کی وجہ سے کجاوے سے لگاجارہاتھا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر تھے۔ راستے میں ایک جگہ مزدلفہ کے قریب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپیشاب کی ضرورت ہوئی اترکر پیشاب کیا، وضو کیا۔ حضرت اسامہ نے وضو کرایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول اتباع کے شوق میں ہمیشہ یہ رہا کہ جب حج کرتے تو اس موقع پر اتر کر وضو کیا کرتے اور ذوق میں کہا کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں وضو کیا تھا۔ حضرت اسامہ نے وضو کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی یاد دہانی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے چلو۔

مزدلفہ میں: مزدلفہ پہنچ کر سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے وضو کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد دعا میں مشغول ہوئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس جگہ مظالم کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کے اور بوڑھوں کو ہجوم میں تکلیف ہونے کے خیال سے رات ہی میں مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ فرما دیا اور خود تمام رفقاء کے ساتھ صبح صادق کے بعد سویرے سے نماز پڑھ کر طلوع آفتاب سے قبل منیٰ کے لئے روانہ ہوئے اور اس وقت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو پیدل چلنے والوں میں تھے اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے۔ راستے میں ایک نوجوان لڑکی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کے حج بدل کا مسئلہ دریافت کیا۔ حضرت فضل بھی نوعمر تھے ان کی نگاہ اس عورت پر پڑی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے حضرت فضل کے چہرے کو دوسری طرف پھیر دیا کہ نامحرم کو نہ دیکھیں اور یہ ارشاد فرمایا کہ آج کا دن ایسا دن ہے کہ جو شخص اس میں اپنی آنکھ کان اور زبان کی حفاظت کرے اس کی مغفرت ہوتی ہے۔ راستے ہی سے حضرت فضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کنکریاں چنیں۔ لوگ مسائل بھی دریافت کرتے جاتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب فرماتے جا رہے تھے۔ ایک صاحب نے دریافت کیا نبی کریم ؐ! میری والدہ اتنی بوڑھی ہیں کہ اگر سواری پر ان کو باندھ کر بٹھایا جائے تو ان کی موت کا اندیشہ ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری والدہ کے ذمہ کسی کا قرض ہوتا تو کیا تم ادا نہ کرتے؟ ایسے ہی حج کو بھی سمجھو۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں وادی محسرپر پہنچے جہاں اللہ تعالی نے ابرہہ کے ہاتھی کو ہلاک کیا تھا جبکہ اس نے مکہ پر چڑھائی کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو تیز کر دیا کہ فوری طور پر اس عذاب کی جگہ سے آگے بڑھ جائیں۔

منیٰ میں سب سے پہلاکام:منیٰ پہنچ کر سیدھے جمرہ عقبیٰ  پر پہنچے اور سات کنکریاں اس کے ماریں اور لبیک پڑھا جو احرام کے بعد سے اب تک وقتاًفوقتاًہوتا رہتا تھا اس وقت بند کر دیا۔ اس کے بعد منیٰ میں قیام گاہ پر تشریف لائے اور بڑا طویل وعظ فرمایا جس میں بہت سے اہم احکام کا اعلان کیا اور اس قسم کے مضامین بھی ارشاد فرمائے جیسا کہ الوداع کے وقت کہے جاتے ہیں۔

قربانی: پھر قربانی کی جگہ تشریف لے گئے اور اپنی عمر کے سالوں کے مطابق ترسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے قربانی کئے جن میں چھ سات اونٹ امنڈ کر قربان ہونے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے ہر ایک زبان حال سے جلدی قربان ہونا چاہتا تھا۔

ترسٹھ کے علاوہ باقی اونٹوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قربان کیاکل عدد سو تھے۔ قربانی کے بعد اعلان فرمایا کہ جس کا دل چاہے ان میںسے گوشت کاٹ کر لے جائے اس کے بعد حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ ہر اونٹ میں سے ایک ایک بوٹی لے کر سب کو ایک برتن میں جوش دیں ان کا شوربا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تاکہ ہر اونٹ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوش فرمانے کی سعادت حاصل ہو۔ اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے ذبح کی قربانی سے فراغت کے بعد حضرت معمر رضی اللہ عنہ یا حضرت خراش رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے حجامت بنوائی۔ سر منڈھوایا لبیں بنوائیں، ناخن ترشوائے اور یہ بال اور ناخن جاںنثاروں میں تقسیم کرا دیئے۔ کہتے ہیں کہ کہیں کہیں جو بال موجود ہیں وہ انہی میں کا بقیہ ہے اس کے بعد احرام کی چادریں اتار کر کپڑے پہنے خوشبو لگائی اس دوران کثرت سے صحابہ آ کر حج کے متعلق مسائل دریافت کرتے رہے ۔اس دن میں چار کام کرنے ہیں رمی، ذبح،سر منڈھانا، طواف زیارت کرنا یہی ترتیب ان کی ہے۔ ان میں بہت سے حضرات بھول وغیرہ کی وجہ سے ترتیب میں تقدم  وتاخر ہوا۔ ہر شخص آکر عرض کرتا کہ مجھ سے بجائے اس کے ایسے ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس میں کوئی گناہ نہیں ہوا۔ البتہ اس میں گناہ ہے کہ کسی مسلمان کی آبروریزی کی جائے۔

طواف زیارت: ظہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے مکہ تشریف لے گئے اور ظہرکی نماز مکہ میں پڑھی یا منیٰ واپس آکر، روایات میں اختلاف ہے اور طواف سے فراغت پر زم زم شریف کے کنویں پر تشریف لے گئے اور خود ڈول کھینچ کر پیا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں نکالا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غلبہ کرنے لگیں گے تو خود کھینچ کر پیتا لیکن ان دونوں میں کچھ اشکال نہیں زم زم شریف کا پینا بار بارہوا۔اس لئے  کسی موقع پر خود کھینچ کر پیا جب ہجوم نہ ہو اور کسی موقع پر ہجوم کی وجہ سے ایسا فرما دیا ہو اس میں اشکال نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زم زم شریف کھڑے ہوکر پیا۔ اور پھر صفا مروہ کی دوبارہ سعی کی یا نہیں کی اس میں اختلاف ہے۔ حنفیہ کے قواعد کے موافق تو کی ہے اس کے بعد منیٰ واپس تشریف لے گئے اور تین دن وہاں قیام کیا اور روزانہ زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کیا کرتے تھے۔ بعض روایات میں ہے کہ ان دنوں میں جب منیٰ میں قیام تھا روزانہ رات کو بیت اللہ شریف کی زیارت اور طواف کے لئے تشریف لاتے اور منیٰ کے قیام میں متعدد وعظ بھی نبی کریم ؐنے فرمائے جن میں اس قسم کے الفاظ بھی ہیں کہ میں شاید تم سے پھر نہ مل سکوں۔ منیٰ ہی کے قیام میں سورہ اذا جاء نصر اللہ نازل ہوئی بعض روایات میں ہے کہ حج سے قبل مدینہ طیبہ ہی میں نازل ہو چکی تھی۔ اور کئی روایات میں ہے کہ اس سورہ کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم ؐنے فرمایا کہ سورہ میں میری وفات کی خبر دی گئی ہے میں بہت جلد جانے والا ہوں۔ اس کے بعد تیرہ ذی الحجہ شنبہ کو زوال کے بعد آخری رمی سے فارغ ہو کر نبی کریم ؐمنیٰ سے روانہ ہوئے اور مکہ کے باہر محصب میں جس کو بطحاء اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں ایک خیمہ میں جس کو نبی کریم ؐکے غلام حضرت ابو رافع نے نبی کریم ؐکے یہاں تشریف لانے سے پہلے ہی اس جگہ بنا رکھا تھا قیام کیا اور چار نمازیں ظہرسے عشاء  تک وہاں ادا فرمائی۔ اور عشاء کے بعد تھوڑی دیر اس میں آرام کیا۔ یہ وہی جگہ ہے جس جگہ کفار نے بیٹھ کر ابتداء اسلام یعنی نبوت کے چھٹے برس میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کا بائیکاٹ کر دیا جائے کہ نہ ان سے لین دین کسی قسم کا کیا جائے نہ ان کو کھانے کو دیا جائے نہ ان سے کوئی ملاقات کرے نہ صلح کی بات کرے۔ جب تک یہ لوگ (نعوذباللہ) نبی کریم ؐکو ہمارے حوالے نہ کر دیں تاکہ ہم آپ ؐکو قتل کریں ۔یہ معاہدہ اسی جگہ لکھا گیا تھا جس کا قصہ مشہور ہے۔ نبی کریم ؐنے آج دو جہاں کا سردار ہونے کی حیثیت سے یہاں قیام کیا اور عشاء کے بعد تھوڑی دیر آرام فرماکر طواف وداع کے لئے مکہ تشریف لائے اور اسی رات میں حضرت عائشہ کو ان کے بھائی کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے تنعیم بھیجا اور عمرہ کرایا۔ حضرت عائشہ جب عمرہ سے فارغ ہوکر محصب پہنچ گئیں تو نبی کریم ؐنے قافلہ کو مدینہ کی طرف روانگی کا حکم فرمایا اس میں اختلاف ہے کہ اس حج کے موقع پر نبی کریم ؐکا بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونا تو متحقق ہے لیکن بعض علماء حج کے ایام میں داخل ہونا بتاتے ہیں اور بعض حضرات اس زمانے کے بجائے فتح مکہ کے زمانے میں بتاتے ہیں۔ اور طواف وداع سے فراغت کے بعد بعض روایات کے موافق صبح کی نماز مکہ مکرمہ میں پڑھاکرجس میں سورہ والطور حضور نے پڑھی، ۱۴؍ذی الحجہ ۱۰ھ؁ چہارشنبہ کی صبح کو مدینہ طیبہ کی طرف مع خدام وجاں نثاران واپسی ہوئی۔ اور جب اٹھارہ ذی الحجہ یک شنبہ کو غدیرخم پر جوجحفہ کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے تو نبی کریم ؐنے ایک اونچی جگہ منبر کی شکل پر کھڑے ہو کر طویل وعظ فرمایا جس میں حضرت علی کے مناقب بھی ارشاد فرمائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو رافضیوں نے بگاڑ کر عید غدیرسے مشہور کیا۔ حضرت علی کا ارشاد ہے کہ میرے بارے میں دو جماعتیں ہلاک ہوں گی ایک وہ جو محبت کے دعوے میں افراط کریں اور دوسرے وہ جو عداوت میں افراط کریں۔ یعنی رافضی اور خارجی ۔ اس کے بعد ذوالحلیفہ پہنچے تو رات کو وہاں تشریف لے گئے۔ ’ہم لوٹنے والے ہیں اس طرح کہ توبہ کرنے والے ہیں اپنے گناہوں سے اور اللہ تعالی کی عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں‘۔