اسلامی شریعت کی روشنی میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>اسلامی شریعت کی روشنی میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات</h1>

مولانا محمد یحییٰ نعمانی

موجودہ زمانے میں اس سلسلے میں بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مسلم دشمن پروپگنڈہ مشنریوں نے بڑا شور مچایا ہے کہ اسلام نفرت و دشمنی کی تبلیغ کرنے والا دین ہے۔ اس کی کتاب قرآن امن عالم کے لئے خطرہ ہے۔ جب تک وہ دنیا میں موجود رہے گی دنیا امن سے محروم رہے گی۔ انہوں اپنے اس پروپگینڈے کی ترویج کے لئے قرآن کی بعض آیات کو غلط مفہوم پہناکر پیش کیا ہے اور حقیقت حال سے ناواقف لوگوں کے لئے تلبیس کا سامان فراہم کر دیا ہے۔ کتابوں اور اخبارات و رسائل کے علاوہ انٹرنیٹ پر تو اس پروپگنڈے کا ایک طلاطم خیز سمندر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ اعتراف ہے کہ مسلمانوں میں بھی ایک تعداد کے اندر اس سلسلے میں ایسی غلط فہمیاں اور غلوآمیز تصورات پائے جاتے ہیں جن کی بنیاد قرآن و سنت کے نصوص کی سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اسی وجہ سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے پر مکمل اور واضح گفتگو کی جائے تلبیسات کا پردہ چاک اور غلط فہمیوں اور غلوآمیز نظریات کی بنیاد کشی کی جائے۔ یہ درست ہے کہ اسلام کی یہ تاکید ہے کہ مسلمان اپنے دینی مزاج و خصوصیات اور اخلاقی صفات میں غیر مسلموں سے کھلے طور پر ممتاز رہیں ان کی نقالی سے گریز کریں اور خاص طور پر ان کی ان مذہبی نشانیوں اور رسومات سے (جن کو اسلام غلط کہتا ہے ) علیحدگی کا ضرور اظہار کریں۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن نے اسلام کے دشمنوں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والوں سے سازباز کرنے سے سختی سے منع کیا ہے لیکن اس کے علاوہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ رحم دلی، ہمدردی، حسن سلوک، نرمی اور اچھے سے محبت کی تعلیم دیتا ہے۔

انسانی برادری کا احترام- اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے یہ تعلیم بھی ہے کہ سارے انسان چاہے وہ جس قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں وہ ایک ماں باپ کی اولاد اور ایک انسانی برادری کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ (سورہ حجرات -۱۳)

اسلام نے ساری انسانیت کو ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کا جو تصور دیا ہے اور جس کو قرآن و حدیث میں بار بار یاد دلایا گیا ہے اس کا بھی تقاضہ ہے کہ ایک وسیع تر انسانی برادری کا احساس اور سارے انسانوں کے بھائی بھائی ہونے کا شعور پیدا ہو۔ اسی لئے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد دعا و حمد کے کلمات کے دوران اللہ کی ربوبیت اور اپنی رسالت کی گواہی کے ساتھ یہ شہادت بھی دیا کرتے تھے کہ -اے اللہ! ہمارے اور ہر چیز کے رب، میں گواہی دیتا ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں۔ (ابو داؤد، احمد)

قرآن کی نظر میں انسان ایک قابل تکریم و محترم مخلوق ہے۔ اور ہم نے بنی آدم کو تکریم سے نوازا اور ان کو اپنی بہت ساری مخلوقات پر فضیلت بخشی۔

اسلام انسان کو بنیادی طور پر اپنی انسانیت کی بنا پر قابل اکرام و محبت اور ہمدردی کامستحق بتاتا ہے۔ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کچھ صحابہ حاضرتھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ آپ کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے (یہ دیکھ کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے اکرام میں کھڑے ہوئے ہیں) آپ کو بتلایا کہ ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ جان (یعنی انسان) نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کچھ صحابہ اس پر عمل بھی کیا کرتے تھے۔ (بخاری، مسلم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری مخلوق کے ساتھ رحم دلی کی فاتح زمانہ تعلیم دی ہے۔ ارشاد ہے- رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے تم زمین والوں کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کرو آسمان والا تمہارے ساتھ رحم کا معاملہ کرے گا۔ (ترمذی، ابو داؤد)

دراصل قرآن کی رحم کی عام تعلیم ہی کی تشریح ہے۔ قرآن نے رحمت و ہمدردی کی پرجوش ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس انسان کو ساری نعمتیں بھی نجات کی وادی پار کرنے پر آمادہ نہیں کرتیں۔ پھر نجات کی وادی پار کیسے ہوتی ہے؟ اس کی یہ تفصیل ارشاد ہوئی ہے- غلام آزاد کرنا، قحط کے دنوں میں کھانا کھلانا، یتیم رشتہ دار کو یا ایسے غریب کو جو غربت سے خاک میں ملا جا رہا ہے پھر اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہونا جو ایمان لائے اور آپس میں ایک دوسرے کو تحمل و برداشت اور رحم کی تاکید کرتے رہے۔ (سورہ بلد ۱۱-۱۷)

یہ ہے نجات کا راستہ خود ہی صرف رحم دل نہ ہونا بلکہ رحم دلی اور ترس کھانے کی تبلیغی مشن میں لگنا ایسوں ہی کے قدم شاہراہ نجات پر ہیں۔ اسلام نے انسان کو ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک میں ثواب ہے۔ (صحیح بخاری)

قومی میل جول کا رشتہ- اسلام ایک قوم و نسل کے لوگوں میں ایک طرح کی اخوت اور اس پر مبنی اپنائیت کے رشتے کو ایک ثابت شدہ قدر کہتا ہے۔ اس حقیقت کا اظہار قرآن نے جابجا اس طرح کیا ہے کہ حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب علیہم السلام وغیرہ کو اپنی مسلم قوم کا بھائی قرار دیا ہے اور اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قومی اخوت کو تسلیم کیا ہے- یہ اللہ کے نبی جب اپنی دعوت لے کر ان قوموں کے پاس جاتے تھے تو ان کو یا قومی، یا قومی، اے میری قوم! اے میری قوم! کے دل نواز انداز میں مخاطب کرتے اور اسی قومی اخوت کی دہائیاں دیتے تھے۔ یہ آیات بڑی واضح رہنمائی دیتی ہیں کہ مسلمان اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کس قسم کی خیرخوانہ محبت کا طرزخطاب اختیار کریں۔ اس زمانے میں بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی یہ اہم ترین بنیاد ہے۔ اسی کی بنا پر ایک ملک یا ایک سماجی یونٹ میں بسنے والے مسلمانوں کے درمیان تعلقات قائم ہونے چاہئے۔ نسلی تعلقات کی بنیاد پر پوری قوم کس طرح ہمدردی اور محبت کی مستحق ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس بنا پر مصریوں کا خیال تھا کہ حضرت اسماعیل کی والدہ اور وہاں کی تھیں آپ عربوں کو اس قدیم نسلی رشتے کا خیال رکھنے کی وصیت کر گئے۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ بہت جلد مصر فتح کرو گے میری وصیت ہے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس لئے کہ ان کو حق ذمہ ہوگا اور ان سے تمہارا نسلی رشتہ بھی ہے۔ (صحیح مسلم)

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردانہ معاملے کی کچھ مثالیں- بحیثیت انسان غیر مسلم ہمدردی و حسن سلوک کے مستحق ہیں اس کی مثالیں مختلف اسلامی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزعمل کے آئینے میں ہم کو بکثرت ملتی ہیں۔

مالی مدد- قرآن مجید میں ایک جگہ حکم دیا ہے کہ غیر مسلم ضرورت مند بھی تمہاری مالی مدد کا مستحق ہے اس کی مالی مدد کی جانی چاہئے۔ سورہ بقرہ میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ کسی کو ہدایت دینا یا نہ دینا یہ تمہارا کام نہیں اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تم اس خیال سے کسی کی مالی مدد سے ہاتھ نہ روکو کہ وہ اسلام قبول نہیں کرتا لیکن تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اس کا بدلہ پاؤ گے۔ آیت کا مفہوم ہے کہ انسانوں کی مالی مدد کے وقت یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ کون اسلام کو قبول کرتا ہے کون نہیں؟ ہر ضرورت مند مستحق ہے۔ امام ابن جریرطبری اس آیت کی تشریح میں کہتے ہیں کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ غیر مسلموں کو صدقے سے محروم نہ رکھا جائے۔ طبری نے تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ علماء ، صحابہ، تابعین نے اس آیت سے یہی معنی نکالے ہیں۔ خلفاء راشدین کا یہی طرزعمل رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر کے نام خط لکھ کر حکم دیا کہ غیر مسلم رعایا میں جو غریب اور ضرورت مند ہو اس کی اور اس کے بال بچوں کی کفالت مسلمانوں کے مال میں سے کی جائے۔

صلۂ رحمی -اسلامی زندگی کی بنیاد جن چیزوں پر رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک کے رشتہ داروں (خصوصا قریبی رشتہ داروں) کے ساتھ حسن سلوک بھی ہے جو صلہ رحمی کہلاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ صاف اعلان کر دیا گیا ہے کہ جو رشتہ داروں کے ساتھ رشتہ نہیں نبھاتا اللہ تعالی کااس سے اعلانِ جنگ ہے۔ (بخاری، احمد) اور صاف اعلان کر دیا گیا ہے کہ جنت میں رشتوں کو کاٹنے والے کی کوئی جگہ نہیں۔ (مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتیں اور وہ صبر کرتے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو بجائے نفرت کے دعا ملی اور دعا سے ہدائت یاب ہوئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مزید دعا کی کہ اے اللہ ابو ہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دل میں ڈال دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بس اب ہر ایمان والا مجھ سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کی والدہ مشرک تھیں صلح حدیبیہ کے بعد جب دونوں طرف کے رشتہ داروں کو آپس میں ملنے کا موقع ملا تو وہ اپنی بیٹی حضرت اسما کے پاس آئیں۔ ساتھ میں کچھ ہدیہ تحفہ بھی تھے۔ حضرت اسما کو بھی خیال ہوا کہ والدہ کو کچھ تحفوں کے ساتھ رخصت کیا جائے۔ مگر شبہ ہوا کہ اسلام کہیں غیر مسلم رشتے داروں کو تحفے دینے سے انکار تو نہیں کرتا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کا سلوک کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-جی ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلۂ رحمی کا سلوک کرو اور ان کوتحفوںکے ساتھ رخصت کرو۔ (صحیح بخاری)

اس روایت کے الفاظ ‘وھی راغبہ‘ سے کچھ لوگوں نے اس کا مطلب اخذ کیا ہے کہ وہ کسی طلب کے ارادے سے مدینہ آئی تھیں اور ضرورت مند تھیں لیکن وہ تو ایک خوشحال خاتون تھیں۔ حافظ ابن حجر نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ وہ تو خود ہدیہ تحفہ لائی تھیں۔ عربی زبان کی رو سے ان الفاظ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس رشتے کو بحال کرنا چاہتی تھیں جس کو حالات کی ستم ظریفیوںنے کاٹ ڈالا تھا۔ لہٰذا حضرت اسما کے ہدیئے کا مقصد بظاہر ضرورت مند ماں کی مدد نہیں بلکہ خاندانی رشتہ محبت کے حق کی ادائیگی تھی۔

دیگر سماجی تعلقات- مسلمانوں کو اگرچہ غیر مسلموں کے ساتھ ایسے اختلاط سے منع کیا گیا ہے جس سے ان کے دینی خصوصیات کے مٹنے کا خوف ہو لیکن اس کے باوجود اسلام غیر مسلموں کے ساتھ اعلیٰ درجے کی خیر خواہی اور بہتر معاشرت کی ہدایت کرتا ہے۔ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اسلام کی ایسی تاکیدی تعلیم ہے کہ احادیث میں اس میں کوتاہی پر ایمان کے سلب کئے جانے کا خطرہ بتلایا گیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سراپا رحمت اورلطف ہونے کے باوجود تین تین بار قسمیں کھا کر کہا ہے کہ جو پڑوسی کے لئے بے اطمینانی کا سبب بنے وہ مومن نہیں۔ (صحیح بخاری) یہ پڑوسی کا تعلق مسلم و غیر مسلم سب کا ہو سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی گھر میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے پوچھا ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر میں کچھ بھیجا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید کرتے سنا ہے۔ (ابو داؤد)

مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی ایک حسین تعلیم یہ بھی ہے کہ دشمن بھی اگر کسی مصیبت میں ہو تو اس کے لئے اللہ سے نیک دعا کی جائے۔ اگر ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کبھی ظلم و استبداد کے خوگروں کو سزا دینے کی دعا کرتے تھے (بخاری) تو دوسری طرف یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ مکہ کے لوگ جو ظلم و دشمنی میں ہر ناکردنی کرتے آرہے ہیں شدید قحط میں مبتلا ہوتے ہیں اب ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم یاد آتا ہے۔ ابو سفیان آتے ہیں اور صلہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں کہ آپ کی قوم مری جا رہی ہیں دعا کر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے ہیں آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ہی یہ عذاب ٹلا۔ (صحیح بخاری)

کسی یہودی کو آپ کی مجلس میں چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح مسلمانوں کے لیے دعا دیتے اسی طرح ان کو بھی دیتے۔ (ابو داؤد) اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال اچھا کرے۔ روایت میں ہے کہ اس دعا کے شوق میں یہود بن بن کر چھینکتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پھر بھی اس دعا سے نوازتے۔ مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق (اور بخاری میں بھی) غیر مسلم کو دعا دینے سے متعلق بہت سی روایات کو باقاعدہ ایک باب کے تحت جمع کیا گیا ہے۔ اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی کیسی خیر خواہی کی تعلیم دی ہے۔

پریشان ومصیبت زدہ سے اظہارِ ہمدردی سماجی رشتوں کو تعمیر کرنے والی چیز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس پر کاربند تھے۔ غیر مسلموں کی عیادت کرتے اور ان کے گھر جاتے تھے۔ (صحیح بخاری) غیر مسلمانوں کو ہدیہ اور تحفہ دینا اور ان کے ہدئیوں کو قدر کے ساتھ قبول کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی۔ حدیث کی کتابوں میں اس سلسلے میں بہت سے واقعات مروی ہیں۔ ایک غیر مسلم فرما روا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بڑا حسین ریشمی کامدار جبہ بھیجا۔ آپ نے قبول فرمایا۔ (صحیح بخاری) حضرت جعفر بن ابی طالب کو یہ کہہ کر دے دیا کہ وہ اس کو اپنے بھائی نجاشی سے پاس بھیجیں۔ (احمد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو ایک قیمتی کپڑا ہدیہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا۔(مسلم)   ایلہ کے بادشاہ نے آپ کو کپڑے اور سواری بھیجی جو استعمال کئے گئے۔ (صحیح بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت امت کو اور خصوصاً اپنے خلفاء کو جو وصیت فرمائی اس میں یہ ہدایت بھی تھی کہ آنے والے مہمان وفود کو (جو غیر مسلم ہوتے تھے) انعام دے کر رخصت کیا کرو جیسا کہ میرا معمول تھا۔ (بخاری، مسلم)

ہم طعامی کا حسن تعلق میں خاص مکان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلمانوں کو کھانے پر بھی دعوت دیتے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں آپ نے تیس لوگوں کی دعوت کی تھی۔ (احمد)

شریعت و سنت کے ان نہایت مختصر حوالوں سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام کی اصل ہدایت غیر مسلموں کے ساتھ عام انسانی محبت ہمدردی اور ہر قسم کے حسن سلوک ہے۔ یعنی اگر غیر مسلم صرف غیر مسلم ہے ظالم، اسلام کا دشمن، مسلمانوں سے جنگ آزما اور فسادی سازشوں کا مرتکب نہیں ہے تو اسلام اس کو انسانی برادری کے تعلقات کے اکرام مدد اور تعاون کا مستحق جانتا ہے۔