رحمت الہی گنہگاروں کی توبہ کی منتظر رہتی ہے

<h1 style='text-align: right; font-family:Jameel,Tahoma;direction: rtl;font-weight:normal;'>رحمت الہی گنہگاروں کی توبہ کی منتظر رہتی ہے</h1>

حضرت مولانا ابو وحید ندوی قاسمی

توبہ کی لغوی اوراصطلاحی تعریف ۔

٭توبہ کے لغوی معنی افسوس ،ندامت ،پشیمانی اور پچھتاوے کے ہیں،اصطلاح میں کسی برے کام سے باز رہنے کا عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔

توبہ کی شرطیںـ:۔سچی توبہ کرنے کی تین شرطیں ہیں ۔۔۔۔۔

٭آدمی اپنے گناہوں پر دل میں شرمندگی محسوس کرے ۔

٭زبان سے استغفار کرے (اور فوری ان گناہوں کو چھوڑ دے )

٭دوبارہ ان گناہوں کے نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔جو گناہ بندوں کے حقوق کے بارے میں کئے ہیں ،ان سے معاف کرائے اور انھیں راضی کرے،اور اگر وہ مر گئے ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ کرے اور ان کی مغفرت کی دعا کرتا رہے۔

توبہ کی قسمیںـ:۔جن گناہوں سے آدمی توبہ کرتا ہے وہ تین قسم کے ہیں۔۔۔۔۔

٭اول اللہ کے فرض کردہ احکام مثلاً نماز ،روزہ اور زکوۃ وغیرہادا نہ کئے ہوں توتوبہ کیساتھ ان احکامات کی حتی الامکان قضاء بھی لازمی ہے۔

٭دوسرے گناہ مثلاًشراب نوشی ،رقص وسرور ،گانا بجانا ،قمار اور سود وغیرہ ایسے گناہوں کی معافی کی صورت یہ ہے کہ پہلے تو ان کو فوراً چھوڑ دیا جائے ، پھر اللہ جل شانہ سے معافی مانگ کر ان گناہوں کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے ۔

٭تیسری قسم کے گناہ بندوں کے حقوق کے متعلق ہیں ،سب سے زیادہ سنگین یہی ہے ،مثلاً کسی کو قتل کردیا ہو،کسی پر  بہتان لگایا ہو ،جھوٹی گواہی  دی  ہو ،توان گناہوں کا جن سے تعلق ہے،اس کو کسی نہ کسی صورت میں راضی کرنا بہت ضرروری ہے ،اگر ایسا نہ کر سکے تو بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ اللہ جل شانہ ہی معافی طلب کرے تاکہ قیامت میں آپل کی طرف سے وہ انکو راضی کردے اور آپ کو بھی معاف کر دے۔

ارتکاب گناہ کے تین درجہ:۔امام غزالی نے احیا ء العلوم میں لکھا  ہے کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں ۔۔۔۔۔

٭کسی گناہ کا کبھی ارتکاب ہی نہ ہو ۔تو یہ فرشتوں کا درجہ ہے ،یا انبیاء کی خصوصیت ہے کی خدا نے ان کو معصوم پیدا کیا ہے۔

٭دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی گناہوں کا ارتکاب کرے اور گناہو ں کو گناہ نہ سمجھے ،نہ ندامت محسوس کرے اور نہ ان کو چھوڑنے کا ارادہ رکھے ،یہ درجہ شیطان صفت انسانوں کا ہے ،کہ جس شیطان نے اللہ کی نافرمانی کرکے کبھی ندامت محسوس نہیں کی ،اور توبہ نہ کی۔

٭تیسرا درجہ عقلمند اور نیک لوگوں کا ہے کہ اگر کوئی گنا ہ سر زد ہو گیا تو فوراً اس پر نادم ہو کر توبہ کرتے ہیں ،اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کر لیتے ہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ گناہ ہونے کے بعد توبہ نہ کرناخالص شیاطین کا کام ہے ،اسی طرح اگر زبان سے توبہ کر لے اور ان میں اس گناہ کے پھرکرنے کا ارادہ ہے ،تو یہ توبہ نہیں کہلاتی ،ایسی توبہ سے بھی توبہ کرنی چاہئے ۔

رحمت الہی گناہگاروں کی توبہ کی منتظر رہتی ہے :۔بشری کمزوریوں کی وجہ سے یا نفس کے ٖ غلبے سے گناہ ہو جانا اتنی بڑی بات نہیں ،کہ جتنا گناہ پر اصرار کرنا ،یعنی بار بار کرنایا گنا ہ کو اہمیت نہ دینا اور استغفار یعنی اس گناہ سے توبہ نہ کرنا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم سب خطا کار ہو اور سب سے اچھے خطاکار وہ ہیں جواپنی خطا سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ایک اور حدیث میں توبہ کرنیوالوں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔

توبہ کی قبولیت سے مایوسی کفر ہے :۔اکثر لوگ جن کی عمر اللہ کی نافرمانی اور گناہوں میں گذری ہو ، شرم کی  وجہ سے توبہ نہیں کرتے ۔ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ایک آدمی ساری دنیا کے گناہگاروں جیسے گناہ بھی کر لے پھر بھی جب وہ صدق دل سے اللہ سے معافی چاہے گا ،تو اللہ پاک اس کو یقینا معاف فرما دیں گے ۔قرآن کریم میں یہ خوشخبریاں گناہگاروں کو مختلف الفاظ میںسنائی گئی ہیں ،ایک جگہ فرمایا کہ ۔۔۔۔’’آپ کہہ دی جئے کہ اے میرے بندوں ،جنھوںنے (میری نافرمانی کرکے ـ)اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں ،تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ،بالیقین اللہ تعالی تمام گذشتہ گناہوں کو معا ف فرمادے گا ۔واقعی وہ بڑا بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔۔۔۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اللہ پاک کے اس قول کی تفسیر میں اللہ پاک کی رحمت کی وسعت اور گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے کیسے کیسے گناہگاروں اور اہنے دشمنوں کو اپنی بخشش اور مغفرت کی طرف دعوت دی ہے ۔ان کافروں کو بھی اپنی مغفرت کی طرف بلایاہے جنھوںنے کہا کہ عیسیٰ اللہ ہی ہیں ،ان کو بھی بلا رہے ہیں کہ جنھوںنے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے ۔کسی نے کہا کہ (معاذاللہ) اللہ تو فقیر ہے۔کسی نے کہا کہ (معاذاللہ )اللہ کا ہاتھ بخشش و عطا سے بند ہو گیا ہے ،کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمہارا بڑا رب ہوں ،میرے علم میںمیرے سوائے تمہارا کوئی معبود نہیں ۔

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (اللہ پاک ایسے ایسے دشمنوں کو بھی معاف کرنے کیلئے آمادہ ہیں )تو پھر اس کے  بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ کی رحمت ومغفرت سے مایوس ہو تو گویا اس نے اللہ کی کتاب قرآن مجید کا انکار کیا۔

قارون اور فرعون کی بھی توبہ قبول ہو جوتی ہے :۔قارون جو حضرت موسیٰ کا دشمن اور اللہ پاک کا انتہائی نافرمان ،دولت مند تھا ،وہ موسیٰ کی دشمنی میں یہاں تک بڑھ گیا کہ ایک عورت کو مال و دولت دے کر یہ کہا کہ جب بنی اسرائیل کے سردار میری مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو آکر سب کے سامنے اتنا کہہ دینا کہ اے قارون!کیا تو موسیٰ کو میری عزت کیساتھ کھیلنے سے منع نہیں کر سکتا ۔۔۔۔؟

موسیٰ کو جب اس سازش کی خبر ملی تو آپ نے اللہ پاک سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے قارون پر قدرت عطا کر ۔اللہ پاک نے فرمایا کہ ہم نے زمیں کو تیرے قابو کر دیا ہے جو تو حکم دے گا زمین تیری اطاعت کرے گی۔چنانچہ موسیٰ ،قارون کے پاس آئے اور زمین کو حکم دیا کہ قارون کو پکڑ لے ۔زمین قارون کو گھٹنے تک نگل گئی ،قارون نے موسیٰ سے گڑ گڑا کرمعافی کی درخواست کی ،مگر موسیٰ برابر زمین کو حکم دیتے رہے اور قارون مع اپنی دولت اور سازو سامان کے زمین میں دھنستا چلا گیا ۔جب زمین قارون کو پورا نگل گئی تو اللہ پاک نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ ائے موسیٰ!قارون نے تجھ سے رھم کی بھیک مانگی مگر تو نے اس پر رحم نہیں کیا ۔قسم ہے میری عزت وجلال کی اگر قارون مجھ سے رحم کی درخواست کرتاتو میں یقینا اس پر رحم کرتا ،اور معاف کر دیتا ۔

بعض مفسرین نے فرعون کے غرق ہونے کے قصے میں یہ نقل کیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کیا کہ ائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔اگر آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں فرعون کے غرق ہو نے کے وقت اس کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا ،اس خوف سے کی کہیں فرعون اپنی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نہ کہہ دے جس کی وجہ سے اللہ پاک کو رحم آجائے اور اسے معافی مل جائے ۔

ان دونوں واقعات سے اللہ تعالیٰ بے پایاں اور بیحدو حساب رحمت کا پتہ چلتا ہے ۔تو پھر ایسی رحیم وکریم اور معاف بکرنے والی ذات سے کیوں نہ آج ہی رمضان کی مبارک ساعتوں میں اپنی اپنی نافرمانیوں اور خطائوں کی معافی مانگ لیں ۔وہ رحیم وکریم ذات جو فرعون وقارون کو بھی معاف کرنے پر تیار تھی ،ہم اس کا کلمہ پڑھنے والوں کو کیوں نہ معاف کرے گی ۔

گناہ سے توبہ کرنے کا انعام :۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے پھر اللہ جل شانہ سے توبہ کرتا ہے ،اپنی توبہ کو نبھاتا ہے ،اللہ پاک اس کی ادا کی ہو ئی تمام نیکیا ں قبو ل کر لیتا ہے ،اور اس کے کئے ہوئے گناہ معاف کر دیتا ہے ،ہر نیکی کے بدلے میں اللہ جل شانہ جنت میں ایک محل عطا فرماتا ہے اور حور عین میں سے ایک حور کے ساتھ اسکا نکا ح کر دیتا ہے۔

توبہ کرنے والو کیلئے تین انعامات:۔   حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے جب اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان کے سامنے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی ،یہ جنت کے دسترخوان پر آکر اس سے تناول کریں گے ،عرش کے سایہ میں رہیں گے ،جب کہ بہت سے لوگ حساب و کتا ب کی سختی میں ہوں گے ۔

توبہ کا وقت کب تک رہے گا :۔  انسان اپنی گناہوں سے جتنی جلد ہو سکے توبہ کر لے ،اتنا ہی اس کے لئے بہتر ہے ،کیونکہ موت کا کوئی بھروسہ نہیں ،نہ جانے کس وقت آکر دبوچ لے ،جب موت کا فرشتہ نظر آگیا تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں اس بات کی خبر خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے ۔۔۔۔’’کہ ان لوگوں کی توبہ قبو ل نہیںہوگی جوبرے عمل کرتے رہے ،یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کے سا منے موت آکھڑی ہوئی ہو ،تو وہ کہنے لگے کہ میں توبہ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘(سورہ نسائ)

سورہ عافر میں بھی اس بات کو دہرایا گیا ہے ۔۔۔۔بھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ۔۔۔۔‘‘

اسی طرح جب قیامت کی نشا نی ظاہر ہو ،یعنی سورج بجائے مشرق سے نکلنے کے مغرب سے نکلے تو اس وقت کی بھی تقبہ قبول نہیں ۔حضرت ابو خلابہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک جب اللہ جل شانہ نے ابلیس کو راندئہ درگاہ اور ملعون کیا تو ابلیس نے مہلت مانگی اور کہا کہ اے اللہ تیری عزت وجلال کی قسم میں ابن آدم کے دل سے نہیں نکلوں گا جب تک اس میں روح ہوگی ۔تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ میری عزت و جلال کی قسم میں ابن آدم کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھوں گا جب تک اس میں روح ہو گی ۔

خلاصہ یہ کہ توبہ انسان جس وقت بھی سچے د ل سے کرے گا،اللہ پاک اپنے وعدے کے مطابق اس کو قبول کر کے بندے کو گناہوں سے پاک وصاف کر دے گا ۔البتہ جب بندہ زندگی سے نا امید ہو جائے ،اور موت کے فرشتے کو دیکھ لے اور روح حلق میں آجا ئے ،اور غر غرہ (جانکنی )کی وجہ سے سانس میں تنگی ہو جائے تو اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں ۔

اللہ پاک ماہ رمضان کی ان مبارک ومسعود ساعتوں میں تمام گناہوں سے ہمیں سچی توبہ کر نے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔آمین۔

کیا پتہ پھر یہ دن نصیب ہوں کہ نہ ہوں

حضرت مولانا شمس الحق صاحب ندوی

رمضان المبارک کی مبارک گھڑیاں سایہ فگن ہیں ،ان مبارک گھڑیوں میں آپ کتاب سنتے ہیں تو اس میں رمضان المبارک کے فضائل و برکات ہی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تقریر سنتے ہیں تو اس میں بھی اسی ماہ مبارک کی خیر وبرکت کا ذکر ہوتا ہے ۔اب افطار و سحری اعتکاف و لیلۃ القدر کے فضائل اور آقا کی داد و دہش ہی کے چر چے زبانوں پر ہیں ۔ہم سب روزے سے ہیں ،خداوند قدوس کے دی ہوئی حلال روزی سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے ان چند گھنتوں کے لئے جو صبح صادق سے لے کر غروب آفتا ب ہی تک محدود ہیں ۔یہ تو عمومی فضا ء ہے ،روزے اور رمضان کی ،لیکن جن با توفیق لوگوں کو تو فیق ملی ہے اور انھوں نے کچھ پہلے ہی سے اس ماہ مبارکے استقبال کیلئے تیاری کر رکھی ہے ان پر کچھ اور ہی کیف طاری ہے ۔زبانیں ہر وقت محبوب حقیقی کے ذکر ویاد سے تر ،آنکھیں اپنی کوتاہیوں اور زندگی کے بے سود اور لغو بلکہ عصیان و نافرمانی میں گذرے ہوئے لمحات یاد کر کرکے بھیگی بھیگی رہتی ہیں ۔رات کی تنہا ئیوں میں ہونٹ تھرتھرا اٹھتے ہیں استغفار والتجا کے الفاظ زبان سے نکالنا اور ادا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔یہ سب اس لئے ہو رہا ہے اور ایسوں کو ہو رہا ہے جن کو غم ہے زندگی کے ضائع شدی لمحات کا اور دھڑکا لگا ہوا ہے کل کے حساب کا ۔آقا کے سامنے حاضری اور اپنا کچا چٹھا سامنے آجا نے کا یہی غم ہے جو ان کو بے قرار کئے ہوئے ہے ،ایسے لوگو ں کو تو اپنی نیکیاں بھی ناقص معلوم ہو تی ہیں ۔ہر وقت احساس اپنی کوتاہی اور اپنے نقص کا ہیم رہتا ہے ،یہ احساس نہ ہوتا تو آنسوئوں کی یہ برسات بھی نہ ہوتی۔

نہ آنکھوں سے لگتی جھڑی آنسوئو ں کی    جو غم کی گھٹا دل پہ چھائی نہ ہوتی

آئیے ہم آپ بھی ایسا کیوں نہ کریں کہ رحمتوں کے اس موسم برسات میںان اللہ کے نیک بندوں سے مشاہت پیدا کرنے کی صورت ہی بنانے کی کو شش کریں اور جو کچھ اس ماہ ممبارک کی فضیلت میں پڑھ اور سن رہے ہیں اس سنے ہوئے کو ان سنی نہ کر دیں بلکہ کوشش کریں کہ اس کا کوئی حصہ ہم کو بھی حاصل ہو جائے کہ ،ہم سب بندے خدا ہی کے ہیں اور خدائے کریم و داتا نے اپنا در رحمت ،در عفو کرم ،اپنے سبھی بندوں کیلئے کھلا رکھا ہے ۔جو مانگے گا وہ پائے گا ،وہ ایسا دا تا ہے کہ اس کو مانگنے ہی بلکہ ضد وا صرارکرکے مانگنے سے ہی خوشی ہوتی ہے ،جبھی تو وہ اپنے خطا کاروں کو اطمینان دلاتا ہے تسلی دیتا ہے ،مایوس ہو نے سے روکتا ہے فرماتا ہے ،اپنے نبی پاک کی زبان سے کہلواتا ہے کہ اے پیغمبر (میری طرف سے لوگوں سے)کہہ دو کہ اے میرے بندوں جنھوںنے اپنی جانوروں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔جب آقا خودہی یہ فر ما رہا ہے تو ہم ان مبارک اور لطف و کرم کے دنوں میں جو پھر نصیب ہوں کہ نہ ہو ں،کیوں نہ کہیں اور با ربا ر کہیں ۔۔۔۔۔

بندہ نواز میری منت کی لاج رکھ لے       میری نہیں تو اپنی رحمت کی لاج رکھ لے

روزہ تو امیر وغریب سبھی رکھیں گے ان میں ایسے بہت ہوں گے جو ظہر کے بعد ہی سے افطاری کے انتخاب اور انواع و اقسام کے جمع کرنے میں مصروف ہو جایا کریں گے ۔لیکن خدا کے کچھ وہ نادار بندے بھی ہوں گے جن کو دال روٹی اور چٹنی کے سوا کچھ اور میسر ہی نہیں ۔دن بھر روزہ سے رہیں گے اپنا کام کاج کریں گے اور افطار وسحری کے وقت خدا کا دیا ہوا سادہ سا کھانا کھا کر روزہ رکھیں گے دن بھر کے تھکے تھکائے بھی ہوں گے اس لئے جب شام کو افطار کریں گے تو اپنی سادہ افطاری پر دل کی گہرائیوں سے الحمد للہ کہیں گے اور ان کی نزبان سے شکر و امتنان کے الفاظ نکلیں گے ،اور کچھ ایسے بھی ں گیجن بھر پیٹ یا سادہ کھانا بھی نصیب نہ ہو گا ۔اس لئے جن کو خدا نے نوازا وہ اگر اپنی انواع و اقسام کی فہرست میں کچھ کمی کر کے ان غریبوں کا حصہ لگائیں تو ان کے روزوں کا ثواب دو بالا ہو جائے گا اور شاید یہ ادا مالک کو کچھ ایسا پسند آئے کہ رمضان لمبارک کے سلسلے میں جو فضائل برکات بیا ن ہو تے ہیںان کے بڑے حصے کو حاصل کرنے کی توفیق و سعادت مل جائے ہم کو روزہ کے اجر وثواب کے سلسلے میں جو سنایا اور بتایا جا رہا ہے اس پر پورا یقین بھی ہو نا چاہئے ۔روزہ دار کے پچھ لے تمام گناہ معاف کر نے کا وعدہ  اس یقین پر ہی فرمایا ہے فرمایا گیا ہے۔

’’جو شخص ایمان اور یقین اور ثواب کی امید رکھتے ہو ئے روزہ رکھے گا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے ،لہذا روزہ کے جو فضائل بھی آپ سنیں اس میں شک نہ ہو نا چاہئے ۔اس کے ملنے کا یقین رکھئے ۔ہا اس کا خیال رہے کہ کہیں ہم خود ہی اپنے روزہ کو ایسا ناقص نہ بنا لیں کہ اس اجر کے لائق نہ رہیں ۔ان سب باتوں کی تفصیلات آپ کو اسی شمارہ کے دوسرے مضامین میں ملیں گی ۔یہاں تو یہ کہنا مقصود تھا کہ یہ خیر و برکت اور آقا کی بے پناہ نوازش کی گھڑیاں  غفلت میں نہ گذر جائیں اور اگلا رمضان آنے سے پہلے کتاب زندگی کا ورق ہی پلٹ جائے ۔لہذا یہ خیا ل کر کے کہ ۔۔۔۔۔

ہوں نہ ہوں یہ لطف کے دن بھر نصیب

اور دور بادئہ کوثر چلے۔یہ مبارک گھڑیاں فکر واہتمام کے ساتھ گذاریں۔